نئے سی سی پی او کے اقدامات

نئے سی سی پی او کے اقدامات
نئے سی سی پی او کے اقدامات

  

کچھ پولیس افسران اپنے اختیارات استعمال کرنا جانتے ہیں اور کچھ پولیس افسران ایسے ہیں جو قوانین کو جانتے ہوئے نرم دل یا عوام کی سہولت کے لئے نرم گوشہ رکھتے ہیں۔ نئے سی سی پی او لاہور امجد جاوید سلیمی نے چارج سنبھالتے ہی پولیس اور عوام کے بہتر مفاد میں ایسے اقدامات کئے ہیں جن سے بعض لوگ سخت ناراض ہو گئے ہیں اور پولیس کے کچھ افسران کے لئے پریشانیاں پیدا ہو گئی ہیں۔ تیسرا طبقہ ایسا ہے جو سی سی پی او کے اس اقدام کو اچھی نظروں سے دیکھ رہا ہے۔ امجد جاوید سلیمی کے موجودہ اقدامات سے جرائم میں کوئی خاطر خواہ کمی واقع نہ ہو سکی تاہم پولیس والے متحرک ضرور ہو گئے۔

ہم نے اس حوالے سے عام شہریوں کے تاثرات لئے تو انہوں نے کہا کہ سی سی پی او کو ہماری پریشانیوں کا خیال بھی رکھنا چاہئے۔ ان کا کہنا ہے کہ روزانہ موٹر سائیکلوں کی پکڑ دھکڑ سے پولیس کی نیک نامی میں اضافہ نہیں ہوا بلکہ لوگ پولیس کے اس اقدام کو نفرت کی نظر سے دیکھ رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سی سی پی او کے اس نئے آرڈر کی آڑ میں پولیس والے ایسے شہریوں سے زیادتی بھی کر رہے ہیں جو قانوناً درست ہوں گے۔ بغیر رجسٹریشن موٹر سائیکلوں کی پکڑ دھکڑ تو درست مگر جن موٹر سائیکلوں کے کاغذات مکمل اور ان کے سواروں کے پاس تمام قانونی دستاویزات ہوتی ہیں۔ پولیس اہلکار ان کو بھی فوری طور پر تھانے میں بند کرکے انہیں چالان چٹ تھما دیتے ہیں۔ کئی طالب علم ہوتے ہیں۔ ان کے پاس اتنی گنجائش نہیں کہ وہ اس چالان کو بھگت سکیں۔ اس پر زیادتی یہ کہ پولیس تھانوں میں ایسے افراد سے مبینہ طور پر رشوت لے کر انہیں چھوڑا جاتا ہے۔

محکمہ پولیس نے ناکے لگا کر شہریوں کا جینا دوبھر کر رکھا ہے۔ ہر روز سینکڑوں موٹر سائیکلیں تھانوں میں بند کر دی جاتی ہیں جہاں پولیس کے کردار کا بھی تذکرہ ضروری ہو گا۔ بعض پولیس افسران نے ناکوں پر تعینات اہلکاروں کے لئے باقاعدہ روزانہ کا ایک ٹارگٹ بھی مقرر کر دیا ہے۔ ہم یہ کہتے ہیں کہ اس سے قبل بھی ایسا قانون موجود تھا، مگر اس قانون پر عملدرآمد کیوں نہ کیا گیا؟ شاید کوئی افسر جواب نہ دے سکے۔ یہاں اس اقدام کو بھی سراہا جانا غلط نہ ہو گا کہ سینکڑوں گاڑیاں بغیر رجسٹریشن کے سالہا سال سے شہر میں گھوم رہی تھیں۔ ان پر نمبر لگ گئے مگر ان کا کیا کیا جائے جو شریف اور قانون پسند شہریوں کو حوالات میں بند کر دیتے ہیں۔ سی سی پی او لاہور امجد جاوید سلیمی بلاشبہ ایک قانون پسند شریف اور سخت گیر افسر ہیں مگر ان کے آنے کے بعد تھانوں میں اچانک چھاپوں، ملازمین کو سزائیں ملنے سمیت کئی اقدامات کے باوجود سردست کوئی بہتری نہیں آئی۔

 پولیس کا نظام پہلے ہی کی طرح چل رہا ہے۔ صرف چہرہ بدلا ہے ڈکیتی اور چوری کی وارداتوں سمیت تھانوں میں شہریوں سے ناروا سلوک جاری ہے۔ مقدمات کااندراج نہ کرنے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ لوگ معمول کے مطابق پہلے آپریشن اور بعد میں انویسٹی گیشن افسران کے دفاتر میں اپنے مقدمات کے لئے حاضریاں دے رہے ہیں۔ کتنے لوگ روزانہ ڈی آئی جی آپریشن اور ڈی آئی جی انویسٹی گیشن کے دفاتر کے بعد مبجوراً سی سی پی او کے پاس جاتے ہیں۔ پولیس کی اچھائیوں اور برائیوں کا بھی انہیں روزانہ علم ہوتا ہو گا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ غلط افراد کو قانون کا سامنا ضرور کرنا چاہئے اور قانون توڑنے والے اس کی گرفت میں ضرور آئیں اور اگر وہ غلط ہیں تو انہیں سزا بھی ملنی چاہئے اور اگر قانون پسند اور غریب شہری کو پولیس گردی کا شکار ہونا پڑے تو سی سی پی او صاحب کو اس پر توجہ بھی دینی چاہئے جو صرف نمبر بنانے اور سی سی پی او کو خوش کرنے کے لئے قانون کا غلط استعمال کرتے ہیں۔ ہم ان کے لئے دعا گو ہیں کہ چلو کوئی تو ایسا افسر آیا جو قانون کو استعمال کرنا چاہتا ہے۔    ٭

مزید :

کالم -