قصہ ایک کتابی ذخیرے کا!

قصہ ایک کتابی ذخیرے کا!
قصہ ایک کتابی ذخیرے کا!

  

لاہور میں پرانی کتابوں کا کاروبار بہت پرانے دور سے چلا آتا ہے۔ اس کاروبار سے وابستہ لوگوں سے میرا رابطہ پہلے پہل1967ءمیں ہوا۔ اس وقت میں دسویں جماعت کا طالب علم تھا اور ہم لوگ گجرات رہتے تھے۔ برادر خُرد ایک حادثے میں زخمی ہوگیا تو اسے میو ہسپتال لانا پڑا۔ اس کی تیمار داری کے دوران میں کبھی پھرتے پھراتے نسبت روڈ اور انارکلی کے پرانی کتابوں کے سٹالوں پر پہنچ جاتا۔ یہ اسٹال باقاعدہ دکانوں کی صورت میں بھی تھے اور فٹ پاتھوں پربھی مل جاتے تھے۔ اکثر کتابیں بہت اچھی حالت میں ہوتیں اور دکاندار ان کی جو قیمتیں بتاتا وہ میرے لئے حیران کن ہوتیں، کیونکہ مجھے گجرات میں رہتے ہوئے صرف نئی کتابیں ہی خریدنے اور پڑھنے کو ملتی تھیں،جن پر رعایت معمولی ہوتی تھی۔

 کوئی بیس، بائیس سال سے اب یہ کاروبار رفتہ رفتہ یونیورسٹی اورینیٹل کالج کے اردگرد کے فٹ پاتھوں پر منتقل ہوگیا ہے۔ البتہ ایک بڑا بازار انارکلی چوک سے پاک ٹی ہاو¿س کے درمیان صرف اتوار کو آراستہ ہوتا ہے۔ اکثر شائقین اتوار ہی کو ادھر کا رُخ کرتے اور مطالعہ کے لئے اپنی پسند کی کتابیں، رسالے خریدتے ہیں۔

بعض لوگ پوچھتے ہیں کہ فٹ پاتھوں پر بڑی قیمتی کتابیں بھی کیسے پہنچ جاتی ہیں؟تو ان کی اطلاع کے لئے عرض ہے کہ بعض اوقات گھروں کے نوکر چوری کرکے اونے پونے بیچ جاتے ہیں، یا کبھی کبھی دفتری خانوں سے بھی آجاتی ہیں۔ بعض لوگ معاشی مجبوری کے تحت اپنے کتابی ذخیرے کباڑیوں کو اٹھوا دیتے ہیں۔ بعض اوقات کوئی صاحبِ مطالعہ آدمی جہان فانی سے کُوچ کرتا ہے تو اس کے پسماندگان کے لئے مرحوم کے کتابی ذخیرے کو سنبھالنا محال ہوتا ہے، چنانچہ وہ ردی کے بھاو¿ فٹ پاتھیوں کو تھما دیتے ہیں۔ ان ذخیروں میں سے کچھ کتابیں ایسی ضرور نکل آتی ہیں جو پتا دیتی ہیں کہ ان کا مالک کون تھا۔ کئی بار نامور لوگوں کے دستخطوں والی کتابیں بھی وہاں آجاتی ہیں جنہیں خریدار یادگار سمجھ کر خرید لیتے ہیں۔ ایسی کئی کتابیں میرے ذاتی ذخیرے میں بھی شامل ہیں۔

 یہ ساری تمہید مجھے یہ بتانے کے لئے باندھنی پڑی ہے کہ گزشتہ اتوار کو فٹ پاتھ سے ایسی ہی کتابوں کی ایک چھوٹی سی ڈھیری میرے نصیب میں بھی آگئی۔ مَیں نے جلدی جلدی دو چار کتابیں اُلٹی پُلٹیں تو معلوم ہوا کہ یہ معروف صحافی اور ادیب شفقت تنویر مرزا مرحوم کی ملکیت تھیں۔ چند ماہ پہلے وہ اللہ کو پیارے ہوگئے تھے۔ ان سے میری بھی یاد اللہ تھی اور مَیں نے ان کی یاد میں دو تعزیتی کالم بھی لکھے تھے۔ اس ذخیرے میں ایک تعداد چھوٹے چھوٹے پنجابی قصوں کی ہے ، جن کا ایک زمانے میں پنجاب میں بہت رواج تھا۔ وہ ہیر رانجھا، سوہنی مہینوال، سسی پنوں وغیرہ لوک داستانوں پر مشتمل اور بعض مذہبی اور اخلاقی تعلیمات پر مبنی ہیں۔ اس ذخیرے سے جماعت اسلامی کے بانی مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کی کتاب ”سُود“ کا پہلا ایڈیشن بھی ملا، جسے مکتبہ جماعت اسلامی پاکستان لاہور نے 1948ءمیں شائع کیا تھا۔ اس میں شامل آخری باب”بینکنگ اور انشورنس“ ادھورا ہے۔اختتام پر ناشر کی طرف سے نوٹ ہے:”اس مضمون کا بقیہ حصہ ابھی لکھنا باقی تھا کہ مولانا سید ابوالاعلیٰ صاحب مودودی کو حکومت مغربی پنجاب نے پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت گرفتار کرلیا، اس لئے یہ مضمون نامکمل صورت میں شائع کیا جارہا ہے۔ان شاءاللہ اگلے ایڈیشن میں مکمل کردیا جائے گا“۔

یہ کتاب تیرہویں ایڈیشن (اپریل 1983ئ) تک پندرہ ہزار چار سو کی تعداد میں چھپ چکی تھی۔اس کا مطلب ہے کہ ہمارے معاشرے میں آج بھی سود نہایت اہم مسئلہ ہے اور لوگ اس کی تفہیم چاہتے ہیں۔ایک طرف قرآن مجید میں سود کی ممانعت نہایت سخت الفاظ میں کی گئی ہے تو دوسری طرف سود ہماری معاشی زندگی پر پوری طرح مسلط ہوچکاہے،چنانچہ اس حوالے سے مسلم سوسائٹی کا ضمیر بہت اضطراب میں رہتا ہے۔خاص طور سے عالمی طاقتیں بھی اپنے مفادات کی خاطر نہیں چاہتیں کہ ہم اس ’حرام‘ سے نجات پالیں۔

سرورق پر جماعت اسلامی شہر گوجرانوالہ کی مہر ثبت ہے۔ معلوم نہیں جماعت کی لائبریری سے خود مرزا صاحب نے جاری کروائی یا کسی نے جاری کروا کر انہیں مطالعہ کے لئے دی۔ بعد مَیں مرزا صاحب ہی نے واپس نہ کی یا دینے والے نے اسے لوٹانا مناسب نہ سمجھا۔ بہرحال اس سے اتنا ثبوت ضرور مل جاتا ہے کہ مرزا صاحب بہت وسیع المطالعہ آدمی تھے۔ مخالفین کا لٹریچر بھی پڑھنے کا حوصلہ رکھتے تھے ورنہ ہم نے اپنی زندگی میں بڑے بڑے لیفٹسٹ دیکھے ہیں جو کارل مارکس، لینن اور ماو¿ کی کتابیں پڑھنے کے بعد کسی دوسرے کا مطالعہ کرنا پسند نہیں کرتے ۔

ماہنامہ ”سورج مکھی“ کے تین اور ”حق اللہ“ کے پانچ شمارے بھی اسی ڈھیر سے ہاتھ لگے۔ ”حق اللہ“ بابائے پنجابی ڈاکٹر فقیر محمد فقیر نے دسمبر 1962ءمیں لاہور سے جاری کیا، لیکن بمشکل سولہ سترہ شمارے ہی شائع کر سکے۔ اس سے پہلے انہوں نے 1951ءسے 1961ءتک ماہنامہ ”پنجابی“ بھی شائع کیا تھا۔ پروفیسر شریف کنجاہی بتایا کرتے تھے کہ جب مشرقی پاکستان میں بنگالی زبان کی تحریک چلی تو ممتاز حسن اور الطاف گوہر نے ڈاکٹر صاحب کو پنجابی زبان کی ترویج کی طرف توجہ دلائی بلکہ کچھ مالی تعاون بھی دیا تھا۔ بعد میں ممتاز حسن اور الطاف گوہر تو دوسری دلچسپیوں میں گم ہوگئے، لیکن ڈاکٹر فقیر نے پنجابی کی ترقی کا مشن جاری رکھا اور تادمِ آخر(1974ئ) سر گاڑی پاو¿ں پہیہ کئے رکھا۔”سورج مکھی“جنوری1978ءمیں کنول مشتاق مرحوم نے لاہور سے جاری کیا تھا۔اپنی پیشکش اور مواد کے اعتبار سے یہ بہت معیاری ادبی جریدہ تھا، لیکن معاشی وسائل کی عدم دستیابی کی وجہ سے اس کی اشاعت چند شماروں سے آگے نہ بڑھ سکی۔ پنجابی لکھاری کوئی کتاب لکھتے یا رسالہ نکالتے تو وہ مرزا صاحب کی خدمت میں ضرور بھیجتے تھے۔ مرزا صاحب اس پر ”ڈان“ میں چھپنے والے اپنے کالم ”پنجابی تھیمز“ میں تبصرہ کرتے اور لکھاریوں کی حوصلہ افزائی کرتے تھے۔ پنجابی برادری میں وہ سب سے زیادہ باخبر صاحب قلم تھے۔ اللہ انہیں غریقِ رحمت کرے،، بہت خوبیوں کے مالک تھے۔

 سوویت یونین کو ٹوٹے، بکھرے اور کمیونسٹ چین کو عالمی سرمایہ داری کی دوڑ میں شریک ہوئے اب ایک مدت گزر گئی ہے، لیکن ہمارے ہاں ابھی بحث جاری ہے کہ کمیونزم ناکام ہو چکا ہے یا نہیں؟دراصل کمیونزم کی ناکامی کا ایک بڑا سبب سرمایہ دار ممالک کے کمیونزم کے خلاف عالمی پروپیگنڈہ مہم بھی بنی تھی۔ اس کا ثبوت ایک ورق کی صورت میں ہمیں اسی کتابی ذخیرے سے ملا ہے۔ اس پر یہ خبر نماعبارت مرقوم ہے:

اشتراکیوں کو جنگجو قسم کا لامذہب ہونا چاہئے:روسی ریڈیو کی ہدایت

لندن3 اپریل

”ہر اشتراکی کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ نہ صرف ایک سرگرم اور جنگجو قسم کا لامذہب ہو، بلکہ مذہب کے خلاف کام کی تنظیم بھی کر سکتا ہو“۔

یہ اعلان گزشتہ ہفتے اخبار ”پراودا“ کے قازقستان ایڈیشن میں لادینیت پر شائع شدہ تبصرہ کی جانب توجہ مبذول کراتے ہوئے الما تا ریڈیو سے کیا گیا۔ روسی قازقستان کسی زمانے میں بھاری مسلم اکثریت کا علاقہ تھا۔

 روسی نشریے میں کہا گیا:”لامذہبوں کے ہتھیار اعلیٰ جدید ترین اور گونا گوں نوعیت کے ہونے چاہئیں“۔

نشرئیے میں کہا گیا، ”مذہب کے خلاف پروپیگنڈے میں عمر، قومیت اور دوسری باتوں کا لحاظ رکھنا چاہئے“ ۔

اس قسم کے پروپیگنڈے کا مقصد تیسری دنیا کے ممالک میں کمیونزم کو مذہب دشمن نظرئیے کے طور پر دکھانا تھا۔

اس ذخیرے سے 16صفحے کا ایک پمفلٹ بھی ملا ہے،جس کے مرتب بائیں بازو کے دانشور غلام محمد ہاشمی ہیں۔پمفلٹ میں دواخبارات کے اداریئے ہیں:

1۔ قصوری بنام ظہور الٰہی(نوائے وقت)

2۔ عوام میں آیئے (ہلال پاکستان)

پس منظر میں 1963ءکا زمانہ ہے۔قومی اسمبلی کا اجلاس ڈھاکہ میں منعقد ہوا۔چودھری ظہور الٰہی قومی اسمبلی میں برسراقتدار جماعت کنونشن مسلم لیگ کے پارلیمانی سیکرٹری تھے۔تب ممتاز قانون دان میاں محمود علی قصوری مغربی پاکستان بار کونسل کے صدر تھے۔چودھری صاحب نے اسمبلی کے اجلاس کے دوران قصوری صاحب پر الزام لگایا کہ انہوں نے ایک پارٹی سے تیس ہزار روپے اس وعدہ پر وصول کئے ہیں کہ مقدمہ کا فیصلہ ان کے حق میں کرا دیں گے۔

غلام محمد ہاشمی نے لکھا ہے کہ چونکہ اسمبلی میں ممبران کو یہ قانونی رعایت دی گئی ہے کہ ان کی تقاریر کس قسم کی قانونی گرفت میں نہیں آ سکتیں، لہٰذا اسمبلی میں اس قانونی تحفظ کی وجہ سے مغربی پاکستان بار ایسوسی ایشن لاہور نے اپنے ایک ہنگامی اجلاس میں ایک متفقہ قرارداد کے ذریعے چودھری صاحب کے اس الزام کی مذمت کرتے ہوئے ان کو چیلنج کیا کہ قانونی پناہ گاہ اسمبلی سے باہر عوام میں آکر اس الزام کو ثابت کریں۔بصورت دیگر ان کا یہ الزام جھوٹا تصور کیا جائے گا۔

پمفلٹ میں دونوں شخصیتوں کا تعارف پیش کیا گیا ہے۔چودھری صاحب کے ہیڈکانسٹیبل ہونے اور پھر کاروباری زندگی میں آنے کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں۔دوسری طرف قصوری صاحب عبدالقادر قصوری ایسے نامور رہنما کے فرزند ارجمند ہیں،قانونی بصیرت میں بے مثل! نوائے وقت کے اداریئے سے پتا چلتا ہے کہ چودھری صاحب نے قصوری صاحب کے علاوہ قائد حزب اختلاف سردار بہادر خان کے خلاف بھی سنگین الزامات لگائے تھے۔سردار صاحب نے اسمبلی کے اجلاس ہی میں خدا کی قسم کھا کر اپنی صفائی پیش کی، جسے چودھری صاحب نے قبول کرلیا مگر قصوری صاحب کے بارے میں کہا، میں ان کی پیشہ ورانہ بدعنوانی کے بارے میں تحقیقات کا سامنا کرنے کے لئے بالکل تیار ہوں۔نوائے وقت نے اپنے اداریئے میں لکھا:”انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ وہ اسمبلی کے باہر بھی اس الزام کو دہرائیں اور قصوری صاحب کا چیلنج قبول کریں تاکہ وہ اپنی ”بے قصوری“ ثابت کرسکیں۔

چودھری صاحب نے اسمبلی سے باہر الزام دہرانے کی جرات نہ کی ،کیونکہ اس صورت میں میاں صاحب قانونی چارہ جوئی کرسکتے تھے۔مذکورہ پمفلٹ کا دلچسپ زاویہ یہ ہے کہ غلام محمد ہاشمی نے چودھری صاحب کی میاں صاحب پر تہمت تراشی کا اصل سبب یہ بتایا ہے:

”میاں قصوری صاحب اپنی قانونی قابلیتوں کے طفیل چودھری صاحب کو متعدد بار شکست دے چکے ہیں۔1956ءمیں گجرات ڈسٹرکٹ بورڈ کی الیکشن رٹ پٹیشن میں میاں قصوری نے نوابزادہ اصغر علی کی طرف سے پیروی کرتے ہوئے ہائی کورٹ میں مسٹر ظہور الٰہی کو بُری طرح شکست دی تھی نیز اس وقت بھی سینٹرل کواپریٹو بینک کے انتخاب اور قومی اسمبلی کی الیکشن پٹیشن کے زیر سماعت دو مقدمات میاں قصوری نوابزادہ اصغر علی کی طرف سے مسٹرظہور الٰہی کے خلاف لڑ رہے ہیں“۔

ممکن ہے چودھری صاحب کے بیان کے پیچھے یہی سبب کارفرما ہو کیونکہ سیاست میں ذاتی اختلافات بھی تو ہوتے ہیں۔ایک وقت چودھری صاحب نے اگر حکومتی پارٹی کو خوش کرنے کے لئے حزب اختلاف کے رہنماﺅں پر نکتہ چینی کی تھی تو ایک دوسرے موقع پر خود ان پر پیپلزپارٹی حکومت نے بھینسیں چوری کرنے کا الزام لگایا، حتیٰ کہ کوہلو جیل میں ان کی جان لینے کی سازش ہوئی جس کو گورنر اکبر بگٹی نے پروان نہ چڑھنے دیا۔بہرحال چودھری صاحب نے ذوالفقار علی بھٹو کے عہد میں جس بے مثال استقامت کا ثبوت دیا، اس نے ان کی ماضی کی غلطیوں کا ازالہ کردیا۔

کبھی کبھی اپنے کتابی ذخیرے کی طرف نگاہ اٹھتی ہے تو سوچ میں پڑ جاتا ہوں کہ:

کس کے گھر جائے گا سیلاب بلامیرے بعد!   ٭

مزید :

کالم -