عام انتخابات کا اعتبار

عام انتخابات کا اعتبار
عام انتخابات کا اعتبار

  

بلاشبہ 2013کے عام انتخابات میں آئندہ کے حکمرانوں کا فیصلہ صوبہ پنجاب کے نتائج ہی کریں گے اور اگر ایک بڑی پارٹی اور اس کے اتحادی، جس کی نشاندہی سروے رپورٹس اور عوامی رجحانات کا احاطہ کرنے والی آراءمیں واضح انداز سے ہورہی ہے، واضح اکثریت حاصل کرلینے کے ساتھ ساتھ قومی پارٹی کہلانے کی ضرورت کے لئے سندھ، خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں بھی ایک حد تک نمائندگی حاصل کرلیتی ہے، تو پھر یقینی بات ہے کہ اسے پانچ سال تک حق حکمرانی حاصل ہوجائے گا۔

لیکن اس بات سے بھی تو انکا رنہیں کیاجاسکتا ہے کہ کسی ایک صوبے میں عام انتخابا ت کاامن و امان کے ساتھ انعقاد مشکل ہوگیا تو انتخابات کی بساط ہی لپیٹی جاسکتی ہے۔ صرف پنجاب میں عام انتخابات کا امن کے ساتھ ہوجانا ہی کسی کے حق حکمرانی کا فیصلہ نہیں کرسکتا ، خواہ اس نے مطلوبہ پارلیمانی اکثریت کیوں نہ حاصل کرلی ہو۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ پنجاب کے ساتھ سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں عام انتخابات کسی رکاوٹ کے بغیر ہوں۔

مگر سندھ کے علاوہ بلوچستان کے بارے میں عام طور پر ایسے خدشات کا تسلسل کے ساتھ اظہار کیاجارہا ہے جو عام انتخابات کے حوالے سے لمحہ فکر ہیں۔عجیب بات یہ ہے کہ جس طرح بلوچستان میں خدشات کا محور اس کا مرکزی شہر کوئٹہ ہے، اسی طرح سے سندھ میں خدشات کا محور اس کا مرکزی شہر کراچی ہے۔

برسوں سے کراچی کا بلبلاتا اونٹ پاکستان کے خیمے میں کسی ایک کروٹ بیٹھنے کے لئے تیار نہیں ہے۔ شاید لاہور یا اسلام آباد میں بیٹھے لوگوں کو مسئلہ کراچی کی سنگینی کا صحیح اندازہ ہے، نہ پوری طرح احساس ہے۔ پشاور اور کوئٹہ کی طرح کراچی کی حیثیت صرف صوبائی دارلحکومت کی نہیں ہے ، بلکہ یہ پاکستان کا سب سے بڑا شہر ہے اور اپنی معاشی و معاشرتی اہمیت کے سبب پاکستان کی شہ رگ کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہاں گزشتہ 5سال سے خصوصاً اور اس سے قبل کے15سال سے عموماً سیاسی بالادستی اور دسترس کی جو مورچہ بند نقاب پوش گوریلا جنگ ہورہی ہے اس کا اعتراف حالیہ دنوں میں سپریم کورٹ کی سطح پر بھی کیا گیا ہے، تاہم صرف کراچی کی سنگینی پر بات کرنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ بقیہ سندھ میں دودھ کی نہریں بہہ رہی ہےں اور عوام بہت سکون اور امن سے زندگی بسر کررہے ہیں۔ درحقیقت مختلف زاویوں سے دیکھاجائے اور دیہی سندھ کے غیر اطمینان بخش حالات و واقعات کو ترتیب دے کر جائزہ لیاجائے تو مجموعی صورتحال کراچی سے زیادہ مایوس کن نظر آنے لگتی ہے۔

سندھ کے مختلف اضلاع خصوصاً بالائی سندھ میں صرف امن و امان کے حوالے سے واقعات کو پرکھا جائے تو ایسی بھیانک تصویر سامنے آتی ہے کہ وہاں زندگی گزارنے والوں کی ہمت کو داد دینے کو جی چاہتا ہے۔

اس لحاظ سے پورے سندھ میں بشمول کراچی جہاں یہ سوال سب سے زیادہ پوچھا جاتا ہے کہ کیا 2013کے عام انتخابات غیر معمولی کشت و خون اور ایسے دنگے فساد کے بغیر ہوجائیں گے جس کا انجام کوئی بڑا سانحہ نہ ہو؟ وہیں عام انتخابات سے عام آدمی کی دلچسپی اس توقع اور اُمید کی حد تک محدود ہے کہ شاید منظر نامہ بدل جائے اور مروجہ بے فیض دقیانوسی اور روایتی سیاست کے ساتھ ساتھ معاشی و معاشرتی ماحول میں تبدیلی آجائے۔ لیکن جب اکثر دوران گفتگو یہ جملہ کہااور سنا جاتا ہے کہ ”کچھ بھی کرلو، آنا تو ان ہی لوگوں نے ہے“ تو اس سے عام آدمی کی ایسی مایوسی کا اظہار ہوتا ہے جسے بیان کرنے سے الفاظ قاصر ہیں۔

2013کے عام انتخابات کا المیہ یہ ہے کہ ایک طرف الیکشن کمیشن تاحال اپنا بھروسہ قائم نہیں کرسکا، دوسری طرف نگراں حکومت کا قیام روایتی سیاسی چالبازیوں کے سبب ایک مخمصہ بناہوا ہے، تیسری طرف کراچی میں جعلی ووٹرز لسٹوں اور من پسند حلقہ بندیوں کا معاملہ چھچھوندر کی طرح گلے میں پھنسا ہوا ہے اور چوتھی طرف عوام کو یہ اعتبار دلانے کا مبہم معاملہ ہے کہ اگر وہ جوق درجوق گھروں سے باہر نکل کر پولنگ اسٹیشن کی قطار میں کھڑے رہنے کی زحمت برداشت کرلیں تو ناپسندیدہ اور5سال تک اذیت پہنچانے والے طاقتور سے طاقتور شخص کو اپنے ووٹ سے چت کرسکتے ہیں۔

مگر افسوس کہ ان متذکرہ پہلوﺅں کو نگاہ میں رکھ کر 2013کے عام انتخابات کے صاف شفاف پر امن انعقاد اور مطلوبہ تبدیلی کا سب سے محفوط راستہ ہونے کا اعتبار دلوانے والا کوئی نہیں ہے۔ بہت کم لوگ یہ بات کررہے ہیں ۔ عام انتخابات کو ملک و قوم کی تقدیر بدلنے کے لئے سلامتی اور امن کے ساتھ قابل قبول راستہ باور کرانے کی منظم جستجو کرنے کی ضرورت تھی مگر بدقسمتی سے حکومتی سرکس کے مسخروںکی طرح اپوزیشن جماعتوں کے کئی ممتاز اور سنجیدہ رہنما بھی بے اعتباری کی فضا پیدا کرنے کی غلطی کررہے ہیں ، حالانکہ یہ بات طے شدہ ہے کہ ہمارے لئے عام انتخابات کے ہونے سے اس کا نہ ہونا زیادہ ضرر رساں ہوسکتا ہے۔

بے شک پاکستان میں عام انتخابات کی تاریخ قابل فخر نہیں ہے اور بہت سے سانحات ہم نے عام انتخابات کی وجہ سے جھیلے ہیں۔ لہٰذا دودھ کے جلے کے مصداق” انتخابات کے جلے“ ہونے کے سبب ہوا بھی تیز چلے تو آندھی کا گمان کرنے لگتے ہیں۔

واقعی اس بات کو کوئی نہیں بھول سکتا کہ1970کے عام انتخابات جو ”ایک آدمی ایک ووٹ“ کی بنیاد پر بالغ حق رائے دہی کے تحت ہونے والے ملک کے پہلے عام انتخابات تھے ،کا نتیجہ تقریباً ایک سال کے انتشار کے بعد دسمبر1971میں ملک دو ٹکڑے ہونے کی صورت میں نکلا تھا۔

اسی طرح 1977کے عام انتخابات کا نتیجہ فراموش نہیں کیاجاسکتا، کیونکہ یہ چار ماہ کے انتشار کے بعد جولائی 1977 میں جنرل ضیاءالحق کے مارشل لاءاور پھر پونے دوسال کے مخمصے کے بعد اپریل1979میں سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کی صورت میں سامنے آیا تھا۔

ان دونوں بڑے سانحات کے درمیان جو ایک ہی عشرے میں سامنے آئے، صرف سات آٹھ سال کافاصلہ ہے اور ہماری قومی سیاسی زندگی آج تک ان دونوں سانحات کے منفی اثرات سے نکل نہیں سکی۔ لیکن گزشتہ سانحات کو طویل عرصہ گزرنے کے باوجود2013کے عام انتخابات کے نتائج سے ڈرنا صحیح نہیں ہے۔ کسی بے احتیاطی یا سیاسی غلطی کے نتائج سے ضرور ڈرنا چاہیے کہ وہ پھر کسی بڑے سانحہ میں ڈھل کر روگ نہ بن جائے۔ مگر عام انتخابات کے نتائج سے ڈرنا صحیح نہیں ہوگا۔    ٭

مزید :

کالم -