وزیراعظم کی اجمیر شریف حاضری....اب حساب ِسُودو زیاں بھی کرلیں

وزیراعظم کی اجمیر شریف حاضری....اب حساب ِسُودو زیاں بھی کرلیں

  

وزیر اعظم راجہ پرویزاشرف اجمیر شریف میں درگاہ حضرت خواجہ غریب نوازؒ پر حاضری کے بعد واپس آ چکے ہیں، ان کا یہ دورہ نجی تھا۔ اس لئے نہ تو ان کی بھارت کے صدر یا وزیراعظم سے کوئی ملاقات ہو سکی، نہ کسی دوسرے رہنما سے کسی مسئلے پر بات چیت ہوئی، البتہ اتنا ضرور ہوا کہ بھارتی وزیر خارجہ سلمان خورشید نے ان کا استقبال کیا، کوئی مذاکرات ان سے بھی نہ ہوسکے، یوں ہمارے محترم وزیراعظم اپنے 28 رکنی وفد کے ساتھ درگاہ شریف پر حاضر ہو کر دعائیں تو مانگ آئے ،35 کلو وزنی چادر چڑھانے کا شرف بھی حاصل کرلیا۔جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ چھ ماہ میں تیار ہوئی اس دورے سے انہوں نے روحانی تسکین بھی حاصل کرلی ہو گی جس کا حصول ہی بنیادی مقصد ہوگا لیکن سوال صرف یہ ہے کہ اس دورے سے ملک کو کیا حاصل ہوا، اور ان کا نجی دورہ بھارت پاکستان کو کتنے میں پڑا؟ وہ ائر فورس کے خصوصی طیارے میں اجمیر شریف گئے تھے وفد میں ان کے قریبی اہل خاندان اور سیکیورٹی سے متعلق چند لوگ شامل تھے۔

ان کا یہ دورہ چاہے کتنی بھی نجی نوعیت کا تھا۔ بہرحال وہ ہمارے وزیراعظم ہیں ، اور ان کا احترام میزبان ملک پر واجب تھا، لیکن ہوا کیا؟ درگاہ کے سجادہ نشین زین العابدین بائیکاٹ کرکے چلے گئے، شیوسینا نے تو دھمکیوں کا آغاز اسی وقت سے کر دیا تھا جب سے دورے کی خبریں آنا شروع ہوئی تھیں اور مطالبہ کیا تھا کہ وزیراعظم پاکستان اس فوجی کا سر ساتھ لے کر آئیں جو کشمیر کی کنٹرول لائن پر جھڑپ میں ہلاک ہو گیا تھا اور بھارتیوں کے بقول پاکستانی فوجی اس کا سر کاٹ کر لے گئے تھے، شیوسینا کی یہ دھمکی آمیز زبان آخر وقت تک جاری رہی اور میڈیا نے بھی اس میں اپنا پورا حصہ ڈالا اور کنٹرول لائن پر جھڑپ کے بعد دونوں ملکوں میں جو کشیدگی شروع ہو گئی تھی اس کے شعلوں کو پوری طرح ہوا دی جاتی رہی، اجمیر شریف کی بار ایسوسی ایشن نے یہ اعلان کر دیا کہ وہ پاکستانی وفد کے جانے کے بعد اجمیر شریف کی سڑکوں کو دھو کر پوتر (پاک) کریں گے، اس سب پر مستزاد بھارتی آرمی چیف جنرل بکرم سنگھ کا وہ دھمکی آمیز بیان ہے جو انہوں نے ہمارے وزیراعظم کے دورے کے موقعہ پر جاری کرنا ضروری سمجھا، اس بیان کی زبان انتہائی سخت اور دھمکی آمیز ہے اور ایسے لگتا ہے کہ وہ پاکستان کو بھی نیپال اور بھوٹان کی طرح کی کوئی ریاست تصور کرتے ہیں، بلا شبہ یہ دورہ نجی تھا لیکن کیا یہ بھی ضروری تھا کہ اس دورے کے موقعہ پر بھارتی آرمی چیف پاکستان کے خلاف ایسی زبان کا استعمال کرتا جو عام حالات میں بھی گوارا نہیں ہو سکتی؟ ابھی تک یہ علم نہیں ہو سکا کہ بھارتی آرمی چیف کی اس دھمکی آمیز گفتگو کا پاکستان کے دفتر خارجہ یا کسی دوسرے ادارے نے کوئی نوٹس لیاہے یا نہیں ،یا بھارت کے ساتھ روایتی فراخ دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسے بھی نظر انداز کر دیا گیاہے؟

درگاہ اجمیر شریف پر چڑھائی جانے والی چادر کی تیاری پر صرف ہونے والے وقت سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ راجہ صاحب نے وزیراعظم بنتے ہی درگاہ شریف پر حاضری کا ذہن بنا لیا تھا تبھی تو چادر کی تیاری شروع کی گئی ہو گی لیکن ان کے دورے کی خبریں جونہی منظرعام پر آنا شروع ہوئیں تو انہیں مشورہ دیا گیا کہ اول تو موجودہ حالات میں وہ اس دورے سے گریز کریں اور اگر ضروری ہے تو چند دن انتظار کرکے اس وقت جائیں جب ان کے کندھوں سے وزارت عظمیٰ کی ذمہ داریاں کا بوجھ اتر چکا ہو، لیکن ان کا خیال ہو گا کہ وزیراعظم کی حیثیت سے دورے کا اپنا ہی لطف ہے۔ ظاہر ہے اگر وہ وزیراعظم کے عہدے سے سبکدوش ہو کر جاتے تو خصوصی جہاز وغیرہ تو حاصل نہ ہو سکتا، نہ بھارتی وزیر خارجہ استقبال کے لئے آتے، لیکن بہرحال اس کا فائدہ یہ ضرور ہوتا کہ پاکستان کے چیف ایگزیکٹو کی سبکی تو نہ ہوتی، انتہا پسند ہندو سڑکوں کو شاید پھر بھی پوتر کرتے لیکن ایسی صورت میں ہدف ایک وزیر اعظم نہیں، سابق وزیراعظم ہوتا،یہ بھی امکان ہے کہ وہ دورے کے اخراجات خزانہ عامرہ کی بجائے جیب ِ خاص سے ادا کرتے تو ان کی دعائیں زیادہ مستجاب ہوتیں۔

اب وزیراعظم پاکستان اجمیر شریف سے روحانی فیوض سمیٹ کر واپس آگئے ہیں تو پاکستان کو ان کے دورے کے سودوزیاںکا حساب ضرور کرنا پڑے گا، بھارتی آرمی چیف کی دھمکیوں کا جائزہ لینا ہوگا اور تجزیہ کرکے کسی نتیجے پر پہنچنا ہو گا کہ بھارتی آرمی چیف نے دھمکی دینے کے لئے وزیراعظم پاکستان کے دورے کے موقعہ کا انتخاب کیوں کیا؟ اور کیا یہ بھارتی پالیسی ہے کہ اس کے سیاسی رہنما تو خاموش رہے لیکن دھمکیوں کے لئے اپنے آرمی چیف کو آگے کردیا۔ بھارتی آرمی چیف کا ”خفیہ پیغام“ کیاہے؟

بھارتی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان کے ساتھ مسائل ایک دن میں حل نہیں ہو سکتے، ان سے پوچھا جا سکتا ہے کہ مسائل کے حل کی کوششیں تو کسی نہ کسی انداز میں اس وقت سے جاری ہیں جب سے پاکستان کا قیام عمل میں آیا ہے۔ دیکھنے والی بات یہ ہے کہ یہ کوششیں کامیاب کیوں نہیں ہوتیں اور جو امور طول و طویل مذاکرات کے بعد طے پاتے ہیں کسی چھوٹے موٹے واقعہ یا کنٹرول لائن پر کسی جھڑپ کے بعد سارے طے شدہ امور کو ریورس گیئر کیوں لگ جاتا ہے؟ کئی سال کے مذاکرات کے بعد ویزوں کے اجرا کے سلسلے میں جو امور طے ہوئے تھے، ان کو بیک جنبش لب کیوں لپیٹ کر رکھ دیا گیا؟ دونوں ملکوں میں 65 سال کی عمر کے سینئر شہریوں کو سرحد پر ویزہ دینے کا فیصلہ ہوا تھا، ماہ جنوری میں اس کا آغاز بھی ہوا اور دو پاکستانی شہریوں کو ویزہ جاری بھی کیا گیا لیکن اس دوران کنٹرول لائن پر جھڑپ ہو گئی تو دیئے ہوئے ویزے بھی منسوخ ہو گئے اور بھارتی لیڈروں کی زبانیں شعلے اگلنے لگیں، بھارتی آرمی چیف کی تازہ دھمکیاں بھی اسی کا تسلسل معلوم ہوتی ہیں، اور لگتا ہے یہی بھارتی پالیسی ہے امن کا حصول اس کا مقصد نہیں۔ اس طرح کے شعلہ بار ماحول میں تو تعلقات معمول پر نہیں آتے اور سلمان خورشید کہہ رہے ہیں کہ مسائل ایک دن میں حل نہیں ہوتے، جناب یہ ایک دن کا قصہ کہاں ہے؟ یہ تو 65 سال کا قضیہّ ہے۔ جب آپ پاکستان کے وزیراعظم کے دورے کے بعد سڑکوں کو پاک صاف کریں گے تو بتایئے کہ معاملات کے حل کی صورت کس طرح نکلے گی؟ بھارتی تو جو جی چاہے کرتے اور کہتے رہیں ہمیں بہرحال اس بات پر ضرور غور کرنا چاہئے کہ ہمارے ملک کو وزیراعظم کے دورے سے کیا حاصل ہوا؟ اور وزیراعظم کی ذات اس سے کتنی شاد کام ہوئی؟

مزید :

اداریہ -