اقلیت نہیں عقلیت

اقلیت نہیں عقلیت
اقلیت نہیں عقلیت

  

جس معاشرے میں عقلیت پسندی کا فقدان ہو جائے وہاں اقلیت کا وجود خطرے میں ہوتا ہے، پاکستان میں اکثریت اپنی ہی ضد کی زد میں ہے اور اکثریت کی مرضی اس کا مرض بنتی جارہی ہے ،ہم پہلے مذہبی ہیں اور بعد میں پاکستانی ہیں، اگر ہم پہلے پاکستانی ہوتے تو اقلیت کو اقلیت جان کر ان کی جان کے درپے نہ ہوتے، یہ حقیقت ہے کہ پاکستان میں تقسیم کا دائرہ وسیع ہوگیا ہے اور اکثریت کے علاوہ ہر اقلیت خطرے میں ہے، حالانکہ ہر اقلیت دراصل تعداد میں کم اکثریت ہے لیکن کوئی سمجھے تو!

حضرت محمد ﷺ نے اللہ کے پیغام کو انسانوں تک پہنچایا تھا ، ہم پاکستانیوں نے اس پیغام کو پاکستان تک محدود کرلیا ہے، توہین رسالت کا مسئلہ جس انداز میں پاکستان کو درپیش ہے شاید ہی کسی اور مسلم ملک کو ہو، ہمارا حال تو یہ ہے کہ ہم نے توہین رسالت کے قانون کو ہی مذہب کا درجہ دے دیا ہے حالانکہ قانون کا مقصد و منتہا اس معاملے میں جرم و سزا کا تعین کرنا ہے، لیکن اگر قانون کا کام عام آدمی نے اپنے ذمے لے لیا ہے تو پھرقانون کی کیا ضرورت ہے!

جیسے گھر کے ملازمین گھرکا بھید ہوتے ہیں اسی طرح اقلیت کسی معاشرے میں اکثریت کی اصلیت ہوتی ہے، پاکستان میں اقلیت سے بڑھ کر محفوظ طبقہ کون ہو سکتا ہے کہ اس کے پرچم میں ان کے لئے جگہ پیدا کی گئی ہے، پاکستان کا پرچم اس اعتبار سے شاید دنیا کا اکلوتا پرچم ہے جو اقلیت کو تسلیم کرتا ہے، یہ اقلیت کا بھی پرچم ہے، عیسائی کسی طور بھی پاکستان نہ کھپے کا نعرہ نہیں لگا سکتے، لیکن اگر اقلیتی طبقے اسی طرح پاکستان میں غیر محفوظ رہے تو پاکستان کے پرچم میں سفید رنگ پر سرخ رنگ کا سوالیہ نشان لگ جائے گاکیونکہ آہستہ آہستہ اقلیت پاکستان میں دبتی جا رہی ہے، اس کی محکومیت بڑھتی جا رہی ہے، مظلومیت بڑھتی جا رہی ہے،غربت تو پہلے ہی اس کی دہلیز پر ڈیرے ڈالے بیٹھی ہے، ہم اس اقلیت کی اہلیت سے خائف ہوتے جا رہے ہیں کیونکہ اہلیت کی حامل اقلیت کبھی بھی پاکستان کی اکثریت سے خائف نہیں ہوئی۔

حقائق بتاتے ہیں کہ 1986سے 2007تک کے عرصے میں 647افراد کو توہین رسالت کے مقدمات کا سامنا کرنا پڑا جن میں سے 20افراد کو قتل کردیا گیا اور کسی عدالت کے سامنے ان کا مقدمہ پیش نہ ہو سکا، تازہ ترین اطلاعات کے مطابق 2010تک کل واقعات کی تعداد 1274ہو چکی ہے، اگلے تین سالوں کا حساب ابھی دستیاب نہیں لیکن وہ بھی حوصلہ افزا نہ ہوگا اور صورت حال یونہی رہی تو پاکستان کی شکل بگڑ سکتی ہے کیونکہ یہاں پر ہر طرح کی اقلیت مظلومیت کی تصویر بنتی جا رہی ہے۔

اس کے باوجود کہ اقلیتیں ہمارے ساتھ ہر شعبہ ہائے زندگی میں شریک ہیں، ہمارے ہی سکولوں میں تعلیم حاصل کرتی ہیں، ہمارے ہی اداروں میں کام کرتی ہیں،ہمارے رسوم و رواج کی قائل ہیں، ہر تہوار پر ہم سے مبارکباد وصول کرتی ہیں لیکن اس کے باوجود ہم ان کو اپنی تابعداری میں رکھنا چاہتے ہیں، ہم سمجھتے ہیں کہ ہمارے چھوٹے موٹے کام ان کا فرض اولیں رہنا چاہئے، لیکن اقلیت اس سوچ کی قائل نہیں اور ہم ہیں کہ اپنی ذہنیت بدلنے کے لئے تیار نہیں ہیں، ہم اقلیتوں کو دوسرے درجے کے شہری سمجھتے ہیں ، حالانکہ ریاست پاکستان کا مطمح نظر ایسا نہیں ، مذہب کا اختلاف کسی بھی طرح ریاست کو ڈسٹرب نہیں کر رہالیکن ریاست پاکستان کی اکثریت کو کھلتا ہے، کیوں....؟... کیا اقلیتوں کے شناختی کارڈ اور پاسپورٹ کا رنگ وہ نہیں جو یہاں کی اکثریت کا ہے!

پاکستان کے پرچم میں سفید رنگ بھرنے والوں نے کب سوچا ہوگا کہ آزادی کے 60برسوں بعد اقلیتیں ہی اپنے آپ کو غیر محفوظ تصور کرنا شروع کردیں گے، یہاں اسلام کے نام پر الزام تراشی کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے ، ہم بھول چکے ہیں کہ پاکستان میں اسلام ہے، اسلام میںکوئی پاکستان نہیں،لیکن ہم خود سے پاکستان کو اسلام کا قلعہ بنانے پر تلے ہوئے ہیں!

اقلیتوں کا مذہب تو الگ ہو سکتا ہے ، ملک تو الگ نہیں، تعصب، تنگ نظری، عدم برداشت اور گرم خشک آب و ہوا نے ہمارے مزاج بدمزہ کر رکھے ہیں، ان سے جس قدر جلد جان چھڑائی جائے اچھا ہے وگرنہ ہماری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں!

مزید :

کالم -