”جوزف کالونی کا تماشا“

”جوزف کالونی کا تماشا“
”جوزف کالونی کا تماشا“

  

بادامی باغ لاہور کے علاقے میں مسیحیوں کی جوزف کالونی میں لگنے والا تماشا نہ تو نیا ہے اور نہ ہی کسی انفرادیت کا حامل، ایسا ہمیشہ سے ہوتا آیا ہے کہ توہین رسالت ﷺ کے کسی بھی الزام کے بعد ایسے ہی ہنگامے ہوتے ہیں، نبی برحق کے چاہنے والوں میں ایسے لوگ شامل ہوجاتے ہیں جواصل ایشو کو غائب کر دیتے اورجن مسلمانوں کو اپنے نبی کی توہین کی راہ روکنے کے لئے لائحہ عمل تیار کرنا ہوتا ہے وہ مسیحی اور عالمی برادری کے سامنے وضاحتیں پیش کرنا شروع کر دیتے ہیں ،پھر توہین رسالت کا ایشو غائب اور ایک نیا ایشو شروع ہوجاتا ہے ۔ موخر الذکر کو تو اتنا اچھالا جاتا ہے کہ کسی عدالت کو توہین رسالت پر سزا دینے اور کسی ریاستی مشینری کو کتابوں میں لکھی ایسی کسی سزا پرعمل درآمد کی جرات تک نہیں ہوتی۔

میں اپنا کیس پیش کرنے سے پہلے یہ واضح کر دوں کہ میں گوجرہ سے لے کر لاہور تک مسیحیوں کی آبادیوں پر حملے اوران کوجلائے جانے کا کوئی جواز پیش نہیں کررہا اور نہ اس کی حمایت کر رہا ہوں بلکہ آپ میرے استدلال کو سمجھیں گے تو علم ہوگا کہ نہ اصل ایشو توہین رسالت ہوتا ہے اور نہ ہی سازش کرنے والوں کا اصل مقصد پیارے نبی ﷺ کی توہین کا بدلہ لینا ہوتا ہے،اس کے لئے آلہ کار چنے جاتے اور ان کے ذریعے بہت سارے مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے ، پہلا مقصد کہ توہین رسالت ﷺ کے قانون کو متنازعہ ہی رکھاجائے، یہ ثابت کیا جائے کہ اگر یہ ” امتیازی قانون“ نہ ہو تواس کا غلط استعمال بھی نہ ہو۔ دوسرا مقصد مقامی سطح پر اپنے ذاتی مخالفین کو سبق سکھادیا جائے، تیسرا مقصد قومی سطح پر اپنے سیاسی حریفوں کی ایسی تیسی کر دی جائے اوراس طرح کے واقعات کو پوری قوم کا نقصان سمجھنے کی بجائے صرف سیاسی مخالفین کے گلے کی رسی بنا دیا جائے۔ چوتھا مقصد عالمی سطح پر اس تاثر کو برقرار رکھنا ہے کہ پاکستان میں اقلیتیں خطرات کا شکار ہیں اور ایسے میں توہین رسالت کرنے والے کو قرار واقعی سزا دینے کا مال مقدمہ سب غائب ہوجاتا ہے۔ اگر کسی کومیرے تجزئیے سے انکار ہے تو وہ آج تک توہین رسالت کے ہونےو الے واقعات اور ان کا ردعمل بیٹھ کر پڑھ لے۔ یہ وہ سازش ہے کہ گستاخانہ خاکوں کے خلاف مال روڈ پر احتجاج ہو تو توڑ پھوڑ اور لوٹ مار شروع ہوجائے، یوٹیوب پر گستاخانہ فلم کے خلاف احتجاج ہونے لگے تو ملالہ یوسف زئی پر حملہ ہوجائے اور بات کہیں سے کہیں پہنچ جائے۔

توہین رسالت کے قانون کو متنازعہ اور امتیازی قرار دینے والے کبھی اس بات کا جواب نہیں دے پاتے کہ جب توہین رسالت کا ملزم گرفتار ہوجاتا ہے تو اصل میں وہ ریاستی اداروں کی حفاظت میں چلاجاتا ہے لہذا توہین رسالت کا قانون صرف میرے نبی کی شان نہیں بلکہ گستاخ کی جان کی حفاظت کے لئے بھی ہے۔ اب مجھے کہنے دیجئے کہ اس طرح کے قانون میرے رب کے اس حکم کا متبادل نہیں ہو سکتے کہ اس نے اپنے محبوب کے ذکر کو رفعتیں عطا کیں۔سوال یہ ہے کہ پھر یہ الزام کیوں لگتا ہے، کیا آپ نے آج تک ان مسیحیوں کی مالی حالت دیکھی ہے جن پر یہ الزام لگا۔ آسیہ سے لے کر ساون مسیح تک ان کی اکثریت غریب بلکہ بہت ہی غریب رہی مگر جب ان پر یہ الزام لگا تو اس کے بعد ان کی پوری کی پوری مقامی کمیونٹی غربت کے چنگل سے باہر نکل آئی۔ ماضی کو چھوڑئیے، اسی واقعے کو دیکھئے، آپ نے ٹی وی فوٹیج میں جوزف کالونی کے رہائشیوں کے گھر تو دیکھے ہوں گے جنہیں جلا دیا گیا۔ کیا وہ ایسے گھر ہیں جن کی مرمت پر دس ، بیس ہزار روپے بھی خرچ ہوتے نظر آ رہے ہوں مگر اب ان کی سرکاری خرچ پر نئی تعمیر شروع ہو چکی ہے، وزیراعلیٰ پنجاب نے ان کے لئے پہلے دولاکھ اور پھر پانچ لاکھ روپے فی گھر امداد کا اعلان ہی نہیں کیا بلکہ حمزہ شہباز شریف نے چیک تقسیم بھی کر دئیے ہیں، صدر آصف علی زرداری کی ہدایت پر وفاقی حکومت بھی ہر گھر کو پانچ لاکھ روپے ادا کر رہی ہے۔ گویا ہر گھرانے کو دس لاکھ روپے مل گئے۔یاد رہے کہ یہ امداد اس کے علاوہ ہو گی جو اقوام متحدہ کے ذیلی اداروں ہی نہیں این جی اوز سے بھی ملے گی۔ایک تیر سے اگلا شکار یہ بھی ہو گیا کہ مقامی تاجر جو جگہ کو خریدناجبکہ مقامی لوگ فروخت نہیں کرنا چاہ رہے تھے، ان کو مکمل طور پر تحفظ مل گیا۔ اب کوئی اس زمین کو خریدنے کی بات کر کے دکھائے۔

کیا انٹرنیٹ، الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے دور میں بھی آپ کو ایسے بے وقوف مل سکتے ہیں جو پوری کی پوری بستی نذر آتش کر دیں اوراس خیال میں رہیں کہ انہیں پوچھنے والا کوئی نہیں ہو گا۔ محلے کی مسجد کا مولوی بھی اتنا جاہل اور مورکھ نہیں ہو سکتا کہ وہ اس کے نتائج نہ جانتا ہو۔ جب ملزم گرفتا ر ہو چکا ہو اوراس کے بعد بستی پر ہونے والے حملے بارے دیکھنا ضروری ہے کہ اکسانے والے کہیں کسی اور جگہ سے تو آپریٹ نہیں ہو رہے۔ میرا خیال تو اب بھی یہی ہے کہ اگر ساون مسیح اوراس پر الزام لگانے والے اس کے دوست شاہد عمران سے روایتی انداز میں تفتیش کی جائے تو پتا چل جائے گا کہ اس سازش کے پیچھے کون ہے۔ یہ دونوں ایک ہی مارکیٹ میں کام اور اکٹھے ہی نشہ کرتے تھے ،الزام لگنے کے بعد بھی جن لوگوںنے حملہ کیا وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرنے والے نہیں تھے ، یہ وہ لوگ نہیں تھے جو نماز پڑھتے ، زکوٰة ادا کرتے اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر کرتے ہوں، سپیشل برانچ کی رپورٹ کے مطابق ان میں ایسے لوگ شامل ہیں جو حال ہی میں سنگین نوعیت کے مقدمات میں رہا ہوئے،بعض افراد منشیات فروشی اور جوا بھی کرواتے ہیں۔ان لوگوں نے عام لوگوں کو بھڑکا کے ساتھ ملایا،پہلے بستی کولوٹا اور پھر نذر آتش کیا گیااوراس سے پہلے مقامی انتظامیہ لوگوں کو وہاں نکال چکی تھی یا لوگ خود ہی وہاں سے کوچ کر چکے تھے۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ سب کچھ منصوبہ بندی کے تحت ہی ہو رہا تھا، مقصد مسیحیوں سے انتقام لینا نہیں بلکہ جوزف کالونی کو ہائی لائٹ کرنا تھا۔

یہ بھی کہا گیا کہ جوزف کالونی میں مکانوں کے ساتھ ساتھ شراب کی بھٹیاں بھی خاکستر ہو گئیں۔ مجھے یہ سمجھ نہیں آتا کہ مسیحی ارکان ،پنجاب اسمبلی میں کھڑے ہو کر کہتے ہیں کہ ان کے مذہب میں شراب نوشی کی قطعا اجازت نہیں، دلچسپ امر یہ ہے کہ مجھے عمر کوٹ کے مندر میں کھڑے ہو کے ہندو پروہتوں نے گیتا کے اشلوک سنائے جن کا مطلب یہ بتایا گیا کہ شراب پینے والا پیشاب پیتا ہے مگر ہمارے ہاں اقلیتوں کو شراب بیچنے، خریدنے، پینے ، پلانے اور ذخیرہ کرنے کی مکمل آزادی ہے۔ اس حقیقت سے کون انکار کرے گا کہ یہ شراب اصل میں ہمارے مسلمان بھائیوں کو ہی فروخت ہوتی ہے۔

ساون مسیح کہتا ہے کہ وہ شراب کے نشے میں دھت تھا اور اسے کچھ علم نہیںکہ اس نے کیا کہا، اسی طرح ایف آئی آر بھی توہین آمیز الفاظ بارے خاموش ہے ۔ میں تو یہ کہتا ہوں کہ جوزف کالونی کا ڈرامہ سو فی صد کامیاب رہا ،جوزف کالونی کے مسیحیوں کو مبارک ہو کہ ان کے بوسیدہ گھر سرکاری خرچ پر تعمیر ہونا شروع ہوگئے، گھرانوں کو دس دس لاکھ روپے مل گئے، پیپلزپارٹی کو مسلم لیگ نون کو لتاڑنے کا موقع مل گیا اور جب اسمبلی کی مدت گھنٹوں میں گنی جا سکتی تھی تو اس کے اقلیتی رکن پرویز رفیق نے ڈرامے میں اپنے استعفے کا رنگ بھی بھر دیا حالانکہ یہ رکن اسمبلی تیس جولائی2009ءکو گوجرہ کے مسیحی گاو¿ں پر حملے کے موقعے پر مستعفی نہیں ہوا تھا جب کئی مسیحی مارے بھی گئے تھے کیونکہ اس وقت اسمبلی کی مدت چار،ساڑھے چار سال باقی تھی۔ میں جانتا ہوں کہ اب اگر ساون مسیح نے توہین رسالت کی بھی ہو گی تو اسے سزا نہیں ملے گی اور نہ ہی الزام غلط ثابت ہونے پر الزام لگانے والے کو ملے گی، ہاںمالی طور پر انتہائی کمزور نشے کے عادی ساون مسیح کو کچھ عرصہ ” اندر“ ضرور رہنا پڑے گا اور جیسے ہی وہ رہا ہو گا اس کے ” باہر“ جانے کے انتظامات بھی مکمل ہوں گے۔ اگر کسی اور بستی کاکوئی اور نوجوان یہ ” قربانی“ دینے کو تیار ہو تواسے بہت سارے ”سپانسر ز“ مل سکتے ہیں جنہوں نے بین الاقوامی اداروں سے مال کھانا ہو، جنہوں نے مسیحیوں کی کسی غریب بستی کو ہائی لائٹ کر کے ترقی دلانی ہو،جنہوں نے اپنے سیاسی مخالفین کو رگڑا لگانا ہو۔ ایک تیر سے کئی شکار ہو سکتے ہیں صرف ایک قربانی کا بکرا درکار ہے اور ہاں میں بھول ہی گیا۔۔۔ اس کے بعد میرے آقاﷺ کی توہین پر سخت سزا کی بات کرنے والوں نے دفاعی انداز اختیار کر لیا اور مجبور و بے کس مسیحیوں کے آنسو پونچھنے جوزف کالونی پہنچ گئے۔

مزید :

کالم -