لاپتہ قیدیوں سے متعلق خفیہ دستاویزات پیش ، نئی کہانی گھڑی گئی ، یہ مت سمجھیں کہ عدالتیں بے بس ہیں : سپریم کورٹ

لاپتہ قیدیوں سے متعلق خفیہ دستاویزات پیش ، نئی کہانی گھڑی گئی ، یہ مت سمجھیں ...

یوں ہی ٹرائل ہوئے توعمر گزرجائے گی ، شفاف ٹرائل کی شق موجود ہے: عدالت

لاپتہ قیدیوں سے متعلق خفیہ دستاویزات پیش ، نئی کہانی گھڑی گئی ، یہ مت سمجھیں کہ عدالتیں بے بس ہیں : سپریم کورٹ

  

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) سپریم کورٹ میں اڈیالہ جیل کے لاپتہ قیدیوں سے متعلق خفیہ دستاویزات پیش کردی گئیں اور ایجنسیوں نے دستاویزات کوخفیہ رکھنے کی استدعا کردی،حمزہ کیمپ حملے کے قیدیوں کی سالوں بعد دستاویزات پیش کرنے پر تعجب کا اظہارکرتے ہوئے عدالت کاکہناتھاکہ ملزمان کا ٹرائل ایف سی آر قانون کے تحت نہیں کیاجاسکتا،یونہی سلسلہ چلتارہا تو ساری عمر ٹرائل میں گزرجائے گی ۔چیف جسٹس کاکہناتھاکہ عدالت بے اختیار نہیں ، عدالتیں بے بس ہوگئیں تو ملک نہیں چلے گا، دوران سماعت ایجنسیوں کے وکیل نے نوٹیفکیشن واپس لینے جبکہ لاپتہ افراد کے وکیل نے رہائی کی درخواست کی ۔چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے اڈیالہ جیل کے لاپتہ قیدیوں کے کیس کی سماعت کی ۔دوران سماعت حساس اداروں کے وکیل راجا ارشاد نے حمزہ کیمپ حملے سے متعلق خفیہ دستاویزات عدالت میں پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان افراد کو حراستی سینٹر میں رکھنے کا نوٹیفیکیشن واپس لیا جائے، ٹرائل ایف سی آر قانون کے تحت دوہفتوں میں کرلیا جائے گا۔راجہ ارشاد نے کہاکہ خفیہ ادارے کسی کے خلاف نہیں بلکہ ملک کے بہترین مفاد میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ دستاویزات پیش کئے جانے پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ اہم ترین معلومات اتنے سالوں تک کیو ں پیش نہیں کی گئیں؟اگر یہی طریقہ اختیار کرناہے تو آئین میں شفاف ٹرائل کی شق کیوں شامل کرائی گئی ،سالوں بعد دستاویزات پیش کرنے پر تعجب ہے ۔عدالت کاکہناتھاکہ جس کو مرضی سزادیں لیکن تمام معاملات قانون کے مطابق طے ہوناچاہیں ،یہ مت سمجھیں کہ عدالت بے بس اور بے اختیار ہیں ،عدالتیں بے بس ہوگئیں تو ملک نہیں چلے گا۔چیف جسٹس نے راجہ ارشاد کو مخاطب کرتے ہوئے کہا آپ تو حساس ادارے کے وکیل ہیں۔ ایف سی آر کے تحت کارروائی کیسے کر سکتے ہیں؟ جسٹس گلزار کا کہنا تھاکہ دستاویزات دیکھ کر اندازہ ہوتاہے کہ نئی کہانی گھڑنے کوشش کی جارہی ہے،جسٹس گلزار نے ریمارکس دیے کہ ان لوگوں نے ایک طویل عرصہ جیل میں گزارا پھر حراستی مرکز منتقل کئے گئے۔عدالت کاکہناتھاکہ اٹارنی جنرل یا سیکریٹری فاٹا کو بتانا چاہیے کہ ایف سی آر کے قانون کے تحت کس علاقے کا ٹرائل کرنا ہے، آپ کس بنیاد پر یہ کہہ رہے ہیں؟ سیکریٹری فاٹا ناصرجمال نے عدالت کو بتایا کو اس حوالے سے ان کے علم میں کوئی بات نہیں،ابھی اُنہیں معلوم ہواہے۔ جسٹس سعید عظمت شیخ نے ریمارکس دیئے کہ جن لوگوں نے ایف سی آر کے تحت ٹرائل کرنا ہے، وہ خود لاعلم ہیں۔ لاپتہ افراد کے وکیل طارق اسد نے عدالت کو بتایا کہ گیارہ افراد کا ٹرائل آرمی ایکٹ 1952ءکے تحت نہیں ہوا، جب کسی کا ٹرائل آرمی ایکٹ کے تحت نہ ہو ،انہیں حراست میں بھی نہیں رکھا جا سکتا۔اُنہوں نے موقف اختیار کیاکہ بیس ماہ بعد یہ لوگ کہہ رہے ہیں کہ ان کا ٹرائل نہیں کیا گیاجس سے پتہ چلتا ہے کہ ان لوگوں کو غیر قانونی حراست میں رکھا گیا۔لاپتا افراد کے وکیل طارق اسد نے کہا بیس ماہ کی غیر قانونی حراست کے بعد اب ان لوگوں کو رہا ہو جانا چاہیے۔ چیف جسٹس نے کہا کسی کے ہاتھ نہیں باندھ رکھے، اگر سلسلہ یونہی چلتا رہا تو ساری عمر ٹرائل میں گزر جائے گی۔سپریم کورٹ نے قراردیاہے کہ اڈیالہ جیل سے لاپتہ افراد کا ٹرائل ایف سی آر قانون کے تحت نہیں کیا جا سکتا۔

مزید :

انسانی حقوق -اہم خبریں -