بجلی چوری کا ریکارڈ طلب ، جو بل اداکرتے ہیں ، وہی بھگت رہے ہیں : لاہورہائیکورٹ

بجلی چوری کا ریکارڈ طلب ، جو بل اداکرتے ہیں ، وہی بھگت رہے ہیں : لاہورہائیکورٹ
بجلی چوری کا ریکارڈ طلب ، جو بل اداکرتے ہیں ، وہی بھگت رہے ہیں : لاہورہائیکورٹ

  

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک)ہائیکورٹ نے قراردیاہے کہ 90ارب روپے کی بجلی چوری ہوگئی لیکن کسی قسم کی کوئی کارروائی نہیں نظر نہیں آتی ، جو بل اداکرتے ہیں ، وہی بھگت رہے ہیں جبکہ وفاقی حکومت سے بجلی چوری کا ریکارڈ طلب کرلیا۔چیف جسٹس لاہورہائیکورٹ عمرعطابندیال نے کیس کی سماعت شروع کی تو عدالت کے روبرو درخواست گزار کے وکیل نے بتایاکہ حکومت کی جانب سے بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا سلسلہ جاری ہے جس سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہاہے۔ وفاق کے وکیل کاکہنا تھا کہ لوڈشیڈنگ کی ایک وجہ بجلی چوری بھی ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے نوے ارب روپے کی بجلی چوری ہے لیکن کسی قسم کی کارروائی نظر نہیں آرہی اور جو بل ادا کرتے ہیں بھگتنا ان کو پڑرہاہے،اُن کاکیاقصور ہے؟ عدالت نے وفاقی حکومت سے بجلی چوری کا تحریری ریکارڈ طلب کرتے ہوئے سماعت اٹھارہ مارچ تک ملتوی کردی۔

مزید :

لاہور -