فروغ تعلیم: باوقار زندگی کا راستہ

فروغ تعلیم: باوقار زندگی کا راستہ
 فروغ تعلیم: باوقار زندگی کا راستہ

  

مرحوم اشفاق احمد بتایا کرتے تھے کہ تحریک پاکستان کے دنوں میں جب ہم طلباکے گروپوں کی صورت میں گاؤں گاؤں قریہ قریہ جا کر پاکستان کے حق میں مہم چلا رہے تھے تو اکثر سیدھے سادے دیہاتی ہم سے پوچھتے تھے کہ پاکستان بن گیا تو ان کو کیا فائدہ ہو گا۔ہمارا عمومی جواب یہ ہوتا تھا کہ نئے ملک میں آپ عزت کی زندگی گزاریں گے۔باوقار انداز میں روزگار کمائیں گے اور معاشرے میں برابری اور مساوات کے ساتھ جی سکیں گے۔سوال پوچھنے والوں کی اکثریت ہمارے اسی جواب سے مطمئن ہو کر پاکستان زندہ باد اور قائداعظم زندہ باد کے نعرے بلند کر دیتی تھی۔

باعزت زندگی اور سماجی ومعاشی مساوات،یہ دو ایسی بنیادی انسانی ضروریات ہیں جن پر کسی بھی قسم کے حالات میں سمجھوتہ ممکن نہیں۔بانی پاکستان کے حوالے سے کئی ایسے واقعات بیان کئے جاتے ہیں جن سے ان کے ہاں باوقار زندگی اور مساوات کے اصولوں کی اہمیت کا پتہ چلتا ہے۔قائداعظمؒ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اتنی آسانی سے کسی کی دعوت قبول نہیں کرتے تھے۔کسی نے سبب پوچھا تو کہنے لگے مجھے ہر روز بیسیوں لوگ مدعو کرتے ہیں۔ ان میں متمول اشرافیہ بھی ہیں ،جبکہ میرا احترام کرنے والے عام شہری بھی ہیں۔اگر میں عام لوگوں کی دعوت کے لئے وقت نہیں نکال پاتا تو اشرافیہ کی دعوتیں قبول کرکے ان عام لوگوں کے دل کیوں دکھاؤں۔یہ تھے ہمارے قائد اور ان کا معاشرتی مساوات کی بارے میں تصور۔

ہمارے موجودہ وزیراعلی پنجاب محمد شہباز شریف کا بیانیہ بھی وہی ہے جو برسوں پہلے اشفاق احمد مرحوم نے پاکستان کا خواب دیکھنے والے لوگوں کو بتایا تھا۔یعنی باعزت و باوقار زندگی معاشرتی انصاف ومساوات کے ساتھ۔ شہباز شریف جب میٹرو بس،میٹروٹرین کی بات کرتے ہیں تو ان کا اس بات پر اصرار ہوتا ہے کہ آمدوروفت کے ان جدید ذرائع کی بدولت عوام کو باوقار اور باعزت سفری سہولت ملے گی۔اصل میں ہمارے معاشرے میں عام آدمی کی زندگی میں باعزت اور باوقار معمولات اتنے مفقود اور کمیاب ہیں اور ذرا ذرا سی بات پر بے توقیری کے مواقع اس قدر وافر ہیں کہ ہر شخص غیر شعوری پر اس حوالے سے ہمہ وقت کسی بھی ناخوشگوار صورتحال کے لئے تیار رہتا ہے ۔ لوگ اس ٹینشن کے اس قدر عادی ہو چکے ہیں کہ اب بے عزتی پر سمجھوتہ کرنے اور اپنے آپ کو سمجھا لینے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔پبلک مقامات پر بظاہر ذرا ذرا سی بات پر لوگوں میں مارکٹائی کے پیچھے زیادہ تر بدتمیزی،بداخلاقی اور بے عزتی کے عوامل ہی کارفرما ہوتے ہیں۔

ان حالات میں وطن عزیز میں ہمارے وزیراعلی صاحب نے میٹروبس اور اورنج لائن ٹرین کی صورت میں باعزت سفری سہولیات،دانش سکولوں کی شکل میں باعزت حصول تعلیم،پیف کی صورت میں عزت نفس کے ساتھ غریب طلبا وطالبات کو اعلی تعلیم کے لئے مالی معاونت اور سب سے بڑھ کر باعزت روزگار کے لئے اخوت کے پلیٹ فارم سے چھوٹے چھوٹے بلاسود قرضوں کا اجراء جیسے منصوبے شروع کررکھے ہیں۔چند ہفتے قبل بادشاہی مسجد میں ضلع لاہور سے تعلق رکھنے والی خواتین وحضرات نے اپنے چھوٹے کاروبار کو چلانے اور فروغ دینے کے لئے وزیراعلی شہباز شریف کے ہاتھوں قرضوں کے چیک وصول کئے۔ ان لوگوں کی خوشی دیدنی تھی ۔

وزیراعلیٰ کا انکسار اور مہربان طبیعت کے ساتھ ساتھ قرضوں کی بروقت اور دیانتداری کے ساتھ واپسی پر اصرار بھی تقریب کا اہم پہلوتھا۔ وزیراعلی کا کہنا تھا کہ یہی قرضے واپس آ کر مزید ضرورت مند کاروباری لوگوں کی معاونت کا ذریعہ بنیں گے۔کسی معاشرے کی اچھائی برائی جانچنے کاایک پیمانہ اس میں پڑھے لکھے افراد کی تعداد کی شرح بھی ہے۔ جس معاشرے میں یہ چلن عام ہو جائے کہ وہاں کتابوں کی دکانیں گاہکوں سے خالی اور جوتوں کی دکانوں پر کھوے سے کھوا چلتاہو تو وہاں اچھی سماجی واخلاقی روایات کا ناپید ہوجانا بعید ازقیاس نہیں۔کتاب اور علم سے رشتہ ناطہ توڑنے کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ ہمارے معاشرے میں عزت کا معیار پیسہ ، اختیارات اور کسی حد تک مذہب کی ٹھیکیداری بن گیا ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ تعلیم کوجہالت کی کال کوٹھڑی سے جھاڑ پھونک کرباہر نکالا جائے اور اتنا عام کیا جائے کہ وہ عزت کا معیار بن جائے۔معاشرے میں اہل علم کی عزت اور غلبہ ہو گا تو ترقی اور خوشحالی کی راہیں اور منزلیں آسان ہو جائیں گی۔اہل دانش کے نزدیک اقوام کے لئے سب سے نفع بخش سرمایہ کاری تعلیمی شعبے پر وسائل خرچ کرنا ہے۔ اس حقیقت کے پیش نظر رواں مالی سال کے دوران حکومت پنجاب بجٹ کا27 فیصد حصہ تعلیم کے شعبے کے لئے مختص کیا ہے جو ایک ریکارڈ ہے۔

رواں مالی سال کے دوران مجموعی طور پر 310 ارب 20 کروڑ روپے کی خطیر رقم تعلیمی منصوبوں پر خرچ کی جارہی ہے۔ وزیراعلی پنجاب تعلیمی شعبے میں ہونے والی پیش رفت کی ذاتی طور پر مانیٹرنگ کررہے ہیں۔ شعبہ تعلیم میں لیپ ٹاپ سکیم،دانش سکولز،لاہور نالج پارک،پنجاب ایجوکیشن انڈوومنٹ فنڈ اور پوزیشن ہولڈر طلبا وطالبات کے لئے انعام واکرام کے علاوہ بیرون ملک یونیورسٹیوں کے دورے اور داخلے جیسے بنیادی میگا پراجیکٹس متعارف کرائے گئے ہیں۔پنجاب بھر کے تعلیمی اداروں میں ہر سال تقریری وتحریری مقابلوں کے ذریعے طلبا وطالبات کی تخلیقی صلاحیتوں اور غیر نصابی ٹیلنٹ کو نکھارا جاتا ہے۔ حکومت پنجاب کے انہیں اقدامات کی بدولت پاکستان خصوصا پنجاب کے بچوں نے دنیا بھر میں اپنی لیاقت اور ذہانت کا لوہا منوایا ہے۔ وزیراعلی کی قیادت میں ہم سب کی ایک ہی منزل ہے کہ علم کی شمع کی لو اتنی اونچی ہو جائے کہ جہالت،بے روزگاری اور بے توقیری وبے عزتی کے اندھیرے ہمیشہ کے لئے چھٹ جائیں۔

مزید :

کالم -