خود سرڈریپ ،وزیراعظم کے نام کُھلا خط

خود سرڈریپ ،وزیراعظم کے نام کُھلا خط
خود سرڈریپ ،وزیراعظم کے نام کُھلا خط

  



ڈریپ کی خود سری اور ضد کی بنا پر پاکستان میں یونانی ادویہ سازی کا مستقبل داؤ پر لگ چکا اور ملک بہت بڑے ریونیو سے محروم ہونے جارہا ہے۔ ہم بہت تیزی سے عالمی منڈیوں میں بنائی ساکھ اور ملک کے اندر بھی یونانی ادویہ کے بحران کا شکار ہونے والے ہیں۔ڈریپ نے طے شدہ اصلاحات اٹھانے کی بجائے شب خون مار کر یونانی ادویہ ساز اداروں کو بلیک میل کرنا اور بند کرنا شروع کررکھا ہے۔ جو کہ خلاف قانون اقدامات ہیں۔یاد رہے کہ پاکستان کے طبی ادویہ ساز اداروں نے خود انحصاری کے تحت ملک میں جدید ترین لیبارٹریز قائم کیں اور ادویہ سازی کے جدید اصولوں کے تحت ہربل انڈسٹری کو فروغ دیا جبکہ حکومت کی جانب سے احسن اقدامات اٹھانے کی ہمیشہ ملتمس رہی ہے۔موجودہ صورتحال کے پس منظر کو سمجھے بغیر،ہم ڈریپ کے مستقبل کی کامیابی یا ناکامی کا تعین نہیں کر سکتے۔روزنامہ پاکستان آن لائن کی وساطت سے اپنی اطباء برادری کی طرف سے کوشش کروں گا کہ، عزت مآب وزیر اعظم پاکستان میان محمد نواز شریف کی خدمت میں اپنا موقف پیش کر سکوں۔

ڈریپ کی بنیاد حکومت کی اپنی بنائی ہوئی ٹی۔آر ایم پالیسی پر ہے۔اگر اسِ پالیسی پر عمل کر لیا جاتا تو اسِ وقت ہم انِ مسائل کو شکار نہ ہوتے،جو حکومت کو آج درپیش ہیں۔یہ پالیسی،خود 2003 میں حکومت نے،ڈاکٹر ایف۔آر یوسف فاضلی،حکیم عبدالحنان چانسلر ہمدرد یونیورسٹی‘ اور محمد عبدالقیوم صاحب جیسے قابل ماہرین سے ورلڈہیلتھ آرگنائزیشن کے پرو جیکٹ APW,s02/507 کے زیرِ تحت شائع کی تھی۔اسِ کی بنیاد پر آلٹرنیٹیو میڈیسن ایکٹ2003 پروپوز کیا گیا تھا۔

ہم نے جسِ وقت یہ ٹی۔آر ایم ۔پالیسی پیش کی گئی تھی،اُس وقت بھی اسِ میں مو جود ،نقائص،اصلاحات کی نشاندہی،بلکہ متبادل،قابلِ عمل قانون ،متعلقہ ابابِ اختیار کو پیش کیا تھا،لیکن افسوس کہ نہ تو ٹی۔آر ۔ایم پالیسی میں تبدیلی کی گئی،بلکہ ہم نے 2003 کے مجوزہ آلٹرنیٹیو بلِ کے لیے بھی وزارت کو اطباء،مینو فیکچررز کی نمائندگی کر تے ہوئے متبادل قانون بھی پیش کیا تھا،مذکورہ ،مرمہ پالیسی و قانون کی کاپی برائے ریکارڈ قابلِ ملاحظہ موجود ہے۔افسوس کہ بجائے،ٹی۔آر۔ایم پالیسی اور �آلٹرنیٹیو میڈیسن بلِ کو ہماری آراء و باہمی مشاورت کے نافذ کیا جاتا،اسِ سارے معاملے کو سرد خانے میں ڈال دیا گیا۔اسِ دوران ابابِ اختیار کو چاہیئے تھا کہ وہ ٹی۔آر ۔ایم پالیسی کے مطابق اقدامات کرتے تاکہ،ڈریپ کو نافذ کرتے وقت،ملک میں پالیسی کے مطابق اصلاحات ،تبدیلیاں آچکی ہو تی،یعنی،یونانی پریکٹیشنرز کی اپ گریڈیشن،ملکی ہربل فصلوں کی پیداوار میں بہتری،طبیہ کالجز کی اپ گریڈیشن،بی۔ای۔ایم ایس ڈگری کورس کا جراء،کالجز کا یو نیورسٹیز کے ساتھ الحاق،ہر بل لیبز کا قیام،یونانی و ایلوپیتھی پریکٹیشنرز کے درمیان،بہتر پیشہ ورانہ تعلقات،مینوفیکچررز،کو who سنٹیڈرز کی تعلیم و عملی تربیت،GMP,sکی آگہی،فیکٹریز کی اپ گریڈیشن۔

ملکی سطح پر یو نانی ہربل معیاری خام ادویات کی دستیابی کیلئے،متعلقہ وزارتوں کے اشتراک اور تعاون سے مر بوط درآمد اور مارکیٹ میں فراہمی۔ٹی۔آر۔ایم پالیسی کی ایک اور نمایاں خصوصیت INTELCTUAL PROPRITERY RIGHTS & PROTECTION OF INDIGENOUS KNOWLEDGE پر توجہ تھی۔جسِ کا ذکر پالیسی کی دفعہ ۹ میں ہے۔اسِ کے تحت WTO/TRIPS کے تحت ملکی یو نانی مصنوعات کا تحفظ تھا،جسِ کے لیے انڈیا کی طرز پر TRADITIONAL KNOWLEDGE DIGITAL LIBRARYکی تجویز تھی۔اسِ کے لیے WHO and WIP,s workسے استفادہ کی تجویز تھی۔سارک ممالک کے ساتھ معلوماتی تعاون،تاکہ تحقیقی کام میں اُن سے شئیر نگ کر کے،ایک ہی تحقیق پر دو بار وقت نہ ضائع ہو جیسی قیمتی تجاویز شامل ہیں۔

عزت مآب وزیر اعظم صاحب

2012میں یہ بنیادی فریم ورک یکسر نظر انداز کر تے ہوئے ڈریپ نافذ کر دیا گیا۔اُس وقت بھی،ہم اور ہمارے یو نانی موقئر دواساز اداروں نے،انفرادی اور اجتماعی سطح پر متعلقہ حکام کو بار ہا کوشش کی کہ،اسِ ایکٹ کو اگر کسی مصلحت کے تحت بغیر پالیسی عملدرآمد کے نافذ کر نا حکومتی مجبوری تھی،تو کم از کم اب،حکومت،اسِ ایکٹ میں اطباء برادری کی وہ تجاویز جو اسِ قانون کے موئثر نفاذ،مطلوبہ نتائج اور اطباء برادری و مینوفیکچررز کے لیے مفید اور ضروری ہیں،اُن کو شامل کر لیا جائے۔مگر افسوس کہ ڈریپ نے اپنے قیام سے لے کر آج تک اسِ سلسلے میں کو ئی سنجیدہ اقدامات نہیں کیے۔

ہم نے ڈریپ کے نفاذ پر ہی اسِ موجود نقائص،اُن کے مضمرات اور اُن کے متبادل موئثر،قابلِ عمل قوانین کا ڈرافٹ بار ہا پیش کیا،اسِ سلسلہ میں ہمارے انتہائی قابلِ احترام ہمدرد کے ڈاکٹر نوید الظفر نے 2013 میں سینٹ کمیٹی برائے نیشنل ریگولیشینز اینڈ سروسز میں، بہت جامع عرضداشت پیش کی،جسِ کے مندرجات پر اگر اُسوقت غور اور مشاورت سے عمل کر لیا جاتا توآج صورتحال بہت مختلف ہو تی۔مذکورہ یادداشت کے مطابق؛

۱۔ڈریپ نے Health & otc products(non drugs) آلٹرنیٹیو میڈیسنز،آیور ویدک،چائنیز،یو نانی ،ہو میو پیتھی،نیو ٹریشنل پروڈکٹس اور فوڈ سپلیمینٹس

کے نام سے مختلف تعریفات،آلٹرنیتیو میڈیسنز،ہیلتھ اور او۔ٹی۔سی پر ڈکٹس،ڈرگز اور تھراپیٹک گڈز استعمال کی ہیں،جو کہ مندرجہ بالا سسٹمز کے ایک دوسرے سے،اپنی ماہیت، فلاسفی،طریقہء عمل،ادویات وغیرہ کے اختلاف کی وجہ سے بہت کنفیوژ اور عملی اور علمی طور پر غلط ہیں۔اسی طرح اسیِ ڈائریکٹو ریٹ میں،پر وبایاٹکس،ہو میو پیتھی،ڈس انفیکٹنٹس،بے بی ملک،سیرلز وغیرہ کا اندراج بھی سمجھ سے بالا تر ہے۔ تجویز دی گئی تھی کہ انِ کو طبِ یو نانی سے علیحدہ کر کے،اُن کے لیے علیحدہ ڈائرکٹو ریٹ قائم کر دیا جائے۔اور یو نانی مینو فیکچررز کی اصلاح و ترقی اور ڈریپ کے معیار دواسازی پر پورا اُترنے کے لیے تجویز کیا گیا کہ؛

۱۔ ڈائرکٹر او۔ٹی۔سی کے زیرِ اہتمام ایک مسقل ٹیکنیکل ایڈوائزری کمیٹی(TAC) قائم کی جائے،جو کہ مندرجہ بالا سسٹمز کے لیے قوانین،اصول،ضوابط وضع اور راہنما اصول ترتیب دے۔اسِ کے اراکین میں

؛۱۔ڈائریکٹر ہیلتھ اینڈ او۔ٹی۔سی چئرمین۔۲۔ڈپٹی ڈائریکٹر ہیلتھ ،او،ٹی۔سی،میمبر۔۳۔ڈپٹی ڈرگ کنٹرولر(health&otc)) سیکرٹری۔

۴۔ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز صوبائی،ممبر۔۵۔قومی ادارہء صحت،ڈرگز کنٹرول اور ٹریڈیشنل میڈیسن ڈویژن کا ایک نامزدنمائندہ۔۶۔صدر قومی طبی کو نسل۔۷۔آٹھ ممبران،سات یو نانی دواسازی اداروں سے،ایک،ایک،یونانی،آیور ویدک،اور فوڈ سپلیمینٹ سے،جن کا انتخاب پالیسی بورڈکرے۔۸۔ایک pharmacognocist نامزد ازاں پالیسی بورڈ۔۹۔ایک نامزد کردہ phytochemist۔۱۰۔دس سالہ تجربہ کار نامزد فوڈ ٹیکنالو جسٹ۔۱۱۔کم از کم دس سالہ تدریسی تجربہ کے حامل یونانی دو نامزد کر دہ اساتذہ۔ ۱۲۔ایک آیور ویدک اُستاد۔۱۳۔کم از کم دس سالہ فن طبیِ دواسازی کے تجربے کا حامل ایک حکیم یا فارماسسٹ۔۱۴۔دس سالہ تجربہ کا حامل،طبیہ کالج میں علم الدویہ،تکلیسں اور دواسازی کا ماہر نامزد اُستاد۔۱۵۔پندرہ سالہ عملی طبی تجربہ کار نامزد دو حکماء۔۱۶۔پالیسی بورڈکے نامزد کردہ دو طبی فارماکو پیا کے ماہرین۔

عزت مآب؛ اسِ کمیٹی کو اختیار ہو کہ وہ اپنی ضرورت کے مطابق ایسی سب کمیٹیاں بنا سکے جو اسِ کے کام میں معاونت کر سکے۔ اسِ کمیٹی کے فرائض میں،مختلف طبی اصطلاحات کی تشریح،لائسنسنگ،رجسٹریشن کے مختلف مراحل کے لیے قابلِ عمل،قبول طریقہ کار وضع کرنا،انِ کے لیے فیسوں کا تعین،طریقہ کار،اور کمپنیوں کو ڈریپ کے معیارات کا اہل ہو نے میں تعاون اور معقول وقت فراہم کرنا ہے۔

یہ کمیٹی ڈریپ کے مختلف رولز پر سٹیک ہو لڈرز سے مذاکرات کرے،ورکشاپس منعقد کرے تاکہ،مینو فیکچررز اور ڈریپ کے درمیان اچھا ورکنگ ریلیشن شپ قائم ہو سکے۔اسی طرح کی دیگر عمدہ،قابلِ عمل تجاویز جو شامل تھیں در خورِ اعتنا نہ سمجھیں گئیں۔

عزت مآب؛مورخہ 23 جنوری کو قومی اسمبلی کی سٹینڈنگ کمیٹی،جسِ کی صدارت جناب خالد حسین مگسی فرما رہے تھے،میں بھی ہم ،جناب چیر مین کی دعوت پر شریک ہوئے۔ وہاں پر ہمارے موقف پر جناب چئر مین نے ،ceo ڈریپ کو ہدایت فرمائی کہ وہ متعلقہ طبی نمائندوں کے ساتھ مل کر ،انِ کے جائز تحفظات دور کر کے،رولز میں ایسی ترامیم کرکے کمیٹی کے اگلے اجلاس سے قبل پیش کریں،جنِ سے اسِ فن سے منسلک افراد اور اداروں میں پایا جانے والا عدم تحفظ اور بے چینی ختم ہو سکے۔محترم چئرمین نے اسِ مو قع پر ارشاد فرمایا تھاکہ حکومت قوانین اپنے عوام کی بہتری اور سہولت کے لیے بناتی ہے،اور وہ انشاء اللہ ایسے قوانین جو عوام اور طبی حلقے کے لیے نقصان دہ ہوں گے کو نہیں لاگو ہو نے

دیں گے۔

عزت مآب؛ہم آپ سے بھی توقع اور گذارش کر تے ہیں کہ؛

۱۔ڈریپ کے قوانین،بالخصوص SRO-412/2014 کے بارے میں اطباء۔قانونی ماہرین ا ور مینوفیکچررز پر مشتمل ایک اعلٰی اختیاراتی کمیٹی ،عزت مآب کی سربراہی میں تشکیل دے کر اسِ میں ایسی ترامیم کی جائیں جسِ سے،صرف بڑے نہیں بلکہ چھوٹے،درمیانے درجہ کی دواسازی کرنے والے،معیاری،اصلی یو نانی دواساز ادارے بھی اینلسٹمینٹ،رجسٹریشن کروا کر بیروز گاری سے بچ سکیں،بلکہ معاشرے کے کم آمدنی والے 70%عوام کو بھی سستی معیاری سہولیات میسر آسکیں۔

اسِ ضمن میں ہماری تجویز ہے کہ؛

۱ ۔ڈر یپ میں،فیکٹری کے لیے AREA کے لیےLAND AREAکی بجائے،COVERD AREA کی شرط کی جائے،تاکہ بڑے شہروں جہاں زمین کی قیمت آسمانوں سے باتیں کر رہی ہے،میں دواساز ادارے اپنی فیکٹریز قائم کر سکیں۔

۲۔ اینلسٹمینٹ کے لیے درخواست دینے والے تمام اداروں کو اینلسٹ کر لیا جائے۔اُن کو اپنے ادارے کو ڈریپ کے معیارات پر پورا اُترنے کے لیے مناسب وقت دیا جائے،جسِ کا تعین پالیسی بورڈ کی متعلقہ کمیٹی کرے۔

۳۔انِ اینلسٹڈ اداروں کو فنی و عملی تعاون فراہم کیا جائے اور اس، دورانیے میں انِ کی فیکٹری میں کی جانے والی اصلاحات کی ،نگرانی اور راہ نمائی بھی کی جائے۔

۴۔انِ اداروں کو اینلسٹ کر تے وقت CATAGRIZE کیا جائے۔یعنی انِ کی تقسیم بلحاظ،سالانہ آمدن،ٹرن اور،ادا شدہ سیلز ٹیکس اور دیگر آمدن کی تشخیص کے ذرائع بروئے کار لاتے ہوئے کی جائے۔اسِ کے لیے تین درجہ بندیوں کی تجویز ہے۔چھوٹے،درمیانے اور بڑے بین القوامی ادارے۔

لہذا،تینوں کیٹیگریوں کے لیے،فیس،و دیگر مراحل کے لیے کمیٹی کی سفارشات کے مطابق قانون سازی کی جائے۔

۵۔SIMPLIFICATION OF PROCEDURE گذارش ہے کہ کمالِ شفقت فرماتے ہوئے انِ اداروں کے لیے علیحدہ سے ون ونڈو طرز کا طریقہ وضع کیا جائے،جسِ سے ڈریپ کے کوالٹی معیارات متاثر ہوئے بغیر انِ اداروں کو سہولت ملِ سکے۔اسِ کے لیے ہمارے پاس قابلِ عمل تجاویز ہیں،جو عزت مآب کی خدمت میں بوقتِ ضرورت پیش کر دی جائیں گی۔

مزید : بلاگ