قصور اپنا نکل آیا

قصور اپنا نکل آیا
 قصور اپنا نکل آیا

  

سینیٹ انتخابات میں بری طرح شکست کے بعد تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان ایک نئی مشکل میں دو چار ہو گئے ہیں۔ سینیٹ انتخابات سے قبل وہ مخالف جماعتوں پر ہارس ٹریڈنگ کے الزاما ت لگا رہے تھے جبکہ انتخابات کے بعد خود پی ٹی آئی پر الزام لگ رہے ہیں کہ اس جماعت نے بدترین ہارس ٹریڈنگ کی ہے اور اس نے اپنے ایم پی ایز کو ستر ستر لاکھ میں خریدنے کی کوشش کی ہے۔

پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما ضیا اللہ آفریدی نے الزام لگایا ہے کہ عمران خان اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے چالیس چالیس کروڑ روپے کے عوض سینیٹ کے ٹکٹ بیچے ہیں۔دونوں رہنما تحقیقات کے لئے خود کو پیش کریں۔

ایک ٹی وی رپورٹ میں تو یہاں تک دعویٰ کیا گیا ہے کہ پی ٹی آئی کے ارکان ایک ارب پچانوے کروڑ روپے میں فروخت ہوئے جو اب تک کی سب سے بڑی فروخت ہے۔

اس حوالے سے عمران خان کو اپنا واضح موقف پیش کرنا چاہیے کیونکہ ایک طرف تو وہ کرپشن کے خلاف مہم کے سرخیل بنے پھرتے ہیں‘ وہ یوں ظاہر کرتے ہیں کہ وہ اور ان کی پارٹی بڑی پاک باز اور صاف ستھری ہیں جبکہ ان کے اپنے ہاں ہی کرپشن کی بڑی بڑی داستانیں رقم ہو رہی ہیں اور وہ دوسروں پر کیچڑ اچھالنے میں لگے ہیں۔

اسی وجہ سے عمران خان کی مقبولیت اب پہلے جیسی نہیں رہی۔ عوام پر یہ حقیقت آشکار ہو چکی ہے کہ ان کا مخالفین کی کردار کشی کا مقصد سستی شہرت کا حصول تھا اور دیانت اور صداقت جیسے اصولوں کی ان کے نزدیک کوئی اہمیت نہیں۔

ایک طرف تو عمران خان کہتے ہیں کہ سپریم کورٹ نے انہیں صادق اور امین قرار دیا ہے دوسری جانب وہ ایک ایسے گھر بلکہ محل میں رہ رہے ہیں جس کے کاغذات اور قانونی ملکیت پر بھی سوال اٹھنے لگے ہیں حتیٰ کہ سپریم کورٹ نے یہاں تک کہہ دیا ہے کہ عمران خان کے گھر کا نقشہ منظور شدہ نہیں اس لئے وہ اس کی سزا بھگتنے کے لئے تیار ہو جائیں۔

دیکھنے کی بات یہ ہے کہ جو شخص اپنے گھر کی تعمیر اور ملکیت میں ایمانداری کا مظاہرہ نہیں کرتا اور جو گھر کی ملکیت کی سرکاری فیس ادا کرنے کا روادار نہیں وہ دوسروں کو بے ایمانی کے طعنے کیسے دے سکتا ہے۔

جو شخص اپنے گھر کے ساتھ مخلص نہیں ہو سکتا وہ ملک کے ساتھ کیسے خلوص کا مظاہرہ کرے گا۔ عمران خان کی یہی خامی انہیں دن بدن کمزور کر رہی ہے۔

ان کے قول و فعل میں جو تضاد موجود ہے لوگ اس سے بد دل ہوتے جا رہے ہیں۔ بظاہر وہ نوجوانوں کی پارٹی کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن ان کی جماعت میں ہر طرح کے لوٹے اور جاگیردار دھڑا دھڑ شامل کئے جا رہے ہیں۔

میرٹ کی آواز اٹھانے والا آج خود میر ٹ کی دھجیاں اڑا رہا ہے۔ وہ دوسروں کو روایتی سیاست کے طعنے دیتے ہیں اور خاندانی سیاست پر تنقید کرتے ہیں لیکن خود ان کے اپنے رہنما جہانگیر ترین نے اپنی سیٹ پر اپنے ہی بیٹے کو کھڑا کر دیا۔

تحریک انصاف کے چیئرمین کے بارے میں ان کے پسندیدہ ٹی وی اینکرز بھی یہی کہتے پائے جا رہے ہیں کہ عمران خان کے اپنے فیصلے ان کو لے ڈوبے ہیں۔ جس طرح انہوں نے ایک پیرنی سے شادی کی‘ اسے خفیہ رکھا اور جس موقع پر نکاح کیا یہ سب عمران خان کی سیاست کو بہت نقصان پہنچائے گا کیونکہ عمران خان کی ذاتی زندگی پر بھی لوگوں کی گہری نظر ہے۔

جب کوئی لیڈر یا سیاستدان سیاست میں آتا ہے‘ وہ اقتدار یا اپوزیشن کا حصہ بنتا ہے تو پھر اس کی ذاتی زندگی بھی اس کے سیاسی کیرئیر پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ وہ ذاتی زندگی میں غلطیاں کرتا پھرے اور لوگ یا میڈیا اس سے صرف نظر کرتے رہیں۔

دنیا بھر میں یہی ہوتا آیا ہے حتیٰ کہ امریکہ کے کئی صدور کو اپنی صدارت سے ایسے ہی سکینڈلز کی وجہ سے ہاتھ دھونا پڑا اور یہ سکینڈلز اب تک ان کا پیچھا کر رہے ہیں۔

عمران خان اخلاقیات کا بڑا ڈھنڈورا پیٹتے ہیں تو پھر اخلاقیات میں کیا ذاتی زندگی کے فیصلے شامل نہیں ہوتے؟ ایک اچھا انسان اور سیاستدان وہی مانا جاتا ہے جو اپنی ذاتی اور سیاسی زندگی میں غیرمقبول فیصلوں سے اجتناب کرے تاکہ لوگ اس پر انگلیاں نہ اٹھائیں اور اس کی زندگی کو تنقید کا نشانہ بنانے سے گریز کریں۔

تاہم عمران خان اس با ت کو سمجھنے کو تیار نہیں ہیں۔ اس لئے انہیں یہ بات آئندہ الیکشن میں سمجھ آئے گی جب انہیں اور ان کی جماعت کو عبرتناک شکست کا سامنا کرنا پڑے گا۔

سینیٹ الیکشن میں اگر تحریک انصاف کو ناکامی اور الزامات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے تو اس کی ایک وجہ عمران خان کی پارلیمنٹ پر ناجائز تنقید اور اسے برا بھلا کہنا ہے۔

انہوں نے پارلیمنٹ کے لئے لعنت جیسے الفاظ استعمال کئے وہ اسی پارلیمنٹ کے نام پر سیاست کر رہے ہیں، لیڈر کہلاتے ہیں اور اسی پارلیمنٹ کو گالیاں بھی دیتے ہیں حتیٰ کہ پارلیمنٹ کے اجلاسوں میں شرکت کرنا بھی گوارا نہیں کرتے۔

انہوں نے سینیٹ الیکشنز میں بھی ووٹ ڈالنے کی زحمت گوارا نہیں کی۔ اپنی جماعت کی منحرف رکن عائشہ گلالئی کو انہوں نے ماضی میں کئی بار تنبیہ کی کہ وہ پارلیمانی اجلاس اور سیشنز میں شریک ہوا کریں لیکن خودانہوں نے اجلاسوں میں شرکت کی نہ کوئی دلچسپی ظاہر کی۔

جمہوریت کی بالادستی اور ایوان کے تقدس کا خیال اسی صورت میں رکھا جا سکتا ہے جب سیاسی جماعتیں اور ان کے لیڈر جمہوریت کے بنیادی اصولوں پر عمل پیرا ہوں اور منفی سیاست سے گریز کریں ۔ مسلم لیگ ن کو جتنا الزامات سے پیچھے ہٹانے کی کوشش کی جا رہی ہے یہ اتنا ہی اُبھر کر سامنے آ رہی ہے۔

اس کے لیڈر کو صدارت کے عہدے سے ہٹا دیا گیا‘ پارٹی کا نام حتیٰ کہ شیر کا نشان تک چھین لیا گیا لیکن اس کے عوامی نمائندے کسی نشان کے بغیر ہی جیتنے میں کامیاب ہوئے اور اپنی جیت کو میاں نواز شریف اور مسلم لیگ ن کے نام کر دیا۔

عوام نے انہیں ووٹ دے کر ثابت کر دیا کہ اصل احتساب عوام ہی کرتے ہیں اور یہی جمہوریت کا اصل حسن ہے۔

مزید : رائے /کالم