بھارت میں ہندوتا کی مہم

بھارت میں ہندوتا کی مہم
 بھارت میں ہندوتا کی مہم

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

مذہبی آزادی سے متعلق امریکی عالمی کمیشن کے رکن نے انکشاف کیا ہے کہ بھارت میں سرکاری سرپرستی میں ہندوتا کی مہم چلائی جارہی ہے۔ وفد کا کہناہے کہ نئی دہلی عیسائیوں،مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے خلاف مظالم کو عالمی برادری سے چھپانا چاہتاہے۔

بھارت میں سرکاری پشت پناہی میں ہندو بنیاد پرست عیسائیوں، مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کی عبادت گاہوں پر حملے کرکے انہیں زبردستی ہندو بننے پر مجبور کررہے ہیں۔

تھامس ریس نے مطالبہ کیاکہ بھارتی وزیراعظم مودی اقلیتوں پر مظالم بند کرائیں۔ امریکی محکمہ خارجہ نے بھی اپنے بیان میں بھارتی پالیسی پرسخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ بھارت عالمی انسانی حقوق کی کنونشن کی خلاف ورزی نہ کرے اور امریکی کمیشن کے ارکان کو ویزہ دے کر صورتحال کا جائزہ لینے دیا جائے۔

USCIRF کے چیئرمین رابرٹ جارج کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے، ’’ہمیں بھارتی حکومت کی جانب سے ویزے نہ دیئے جانے پر شدید مایوسی ہوئی ہے۔

‘‘ ’’ایک کثیر القومی، غیر فرقہ ورانہ اور جمہوری ریاست کے ساتھ ساتھ امریکا کے قریبی پارٹنر ہونے کے ناطے بھارت کو ہمیں دورے کی اجازت دیتے ہوئے اعتماد ہونا چاہیے تھا۔‘‘

جارج کے مطابق اسی کمیشن کی ٹیمیں سعودی عرب، ویتنام، چین، میانمار اور پاکستان سمیت بہت سے ایسے ممالک کے دورے کر چکی ہیں، جن میں سے بعض میں مذہبی آزادی کی بدترین خلاف ورزیاں ہوتی ہیں: ’’کوئی بھی شخص یہ توقع کرے گا کہ بھارتی حکومت ان ممالک کے مقابلے میں زیادہ اعتماد سے اجازت دے گی، اور کمیشن کے سامنے براہ راست اپنا نقطہ نظر واضح کرنے کا خیرمقدم کرے گی۔‘‘

امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی کی جانب سے 2015ء میں جاری کی جانے والی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ بھارت میں مذہبی وجوہات سے فرقہ ورانہ تشدد میں گزشتہ مسلسل تین برس سے اضافہ ہو رہا ہے۔

غیر سرکاری تنظیمیں اور مسلمانوں، مسیحیوں اور سکھوں کے مذہبی رہنما اس بڑھتے ہوئے تشدد کی وجہ 2014ء کے انتخابات کے دوران مذہبی بنیادوں پر چلائی جانے والی انتخابی مہم کو بھی قرار دیتے ہیں۔ انہی انتخابات کے نتیجے میں نریندر مودی اقتدار میں آئے تھے۔

رپورٹ کے مطابق انتخابات کے بعد سے مذہبی اقلیتیں نریندر مودی کی سیاسی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی سے تعلق رکھنے والے سیاستدانوں کی جانب سے مسلسل توہین آمیز تبصروں کا شکار رہی ہیں۔ اس کے علاوہ ہندو قوم پرستوں کی طرف سے زبردستی لوگوں کے مذہب تبدیل کروانے اور پر تشدد حملوں کے بھی متعدد واقعات ہوتے رہے ہیں۔

بھارت حکومت نے امریکی وفد کو ویزے جاری کرنے سے انکار کے فیصلے کو درست قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنے ملک میں مذہبی آزادی کے حوالے سے کسی غیر ملکی تنظیم کے جائزے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔

اس طرح کے دوروں کے لیے ہندوستان کی ویزا پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ ہندوستان ایک متحرک معاشرہ ہے جس کا آئین شہریوں کو مذہبی آزادی سمیت تمام بنیادی حقوق کی ضمانت دیتا ہے۔

بھارتی سفارت خانے کے بیان میں کہا گیا کہ ہم یو ایس سی آئی آر ایف سمیت کسی غیر ملکی تنظیم کے اپنے ملک میں مذہبی آزادی کے حوالے سے فیصلے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے اور نہ ہندوستانی شہریوں کے آئینی طور پر محفوظ حقوق پر کوئی تبصرہ چاہتے ہیں۔

34 امریکی قانون سازوں کی جانب سے وزیراعظم نریندر مودی کو خط لکھا گیا تھا جس میں انھوں نے ہندوستان میں اقلیتوں کے خلاف 'بڑھتی ہوئی عدم برداشت اور تشدد' پر 'گہری تشویش' کا اظہار کیا تھا۔

خط میں کہا گیا، 'ہم آپ کی حکومت پر زور دیتے ہیں کہ فوری طور پر ایسے اقدامات اٹھائے جائیں جن سے اقلیتوں کو بنیادی مذہبی آزادی حاصل ہو اور تشدد میں ملوث افراد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جاسکے'۔مذکورہ خط پر 8 امریکی سینیٹرز اور ایوان کے 26 اراکین نے دستخط کیے تھے اور اسے ایوان نمائندگان کی دونوں جماعتوں نے مشترکہ طور پر جاری کیا تھا۔

خط میں واضح کہا گیا کہ جون 2014 میں ریاست چھتیس گڑھ کے علاقے کی 50 دیہات میں لگائی جانے والی 'غیر ہندو مذہبی پروپیگنڈے، دعاؤں اور تقاریر' پر پابندی کی جانب اشارہ کیا گیا تھا، جس میں اس علاقے کے 300 عیسائی خاندانوں کی عبادات اور مذہبی رسومات پر پابندی عائد کی گئی تھی۔مذکورہ خط میں منی پور اور اتر پردیش میں تشدد کے واقعات میں ہلاک کیے جانے والے دو مسلمانوں محمد حشمت علی اور محمد سیف کی بھی نشاندہی کی گئی تھی۔

اس کے علاوہ مذکورہ خط میں گزشتہ سال اکتوبر میں سکھوں کی مقدس مذہبی کتاب، گورو گرنتھ صاحب کی بے حرمتی پر احتجاج کے دوران دو سکھوں کی موت کا حوالہ بھی دیا گیا تھا۔

مزید : رائے /کالم