’’غزل بتائے گی ‘‘ کی تقریب پذیرائی

’’غزل بتائے گی ‘‘ کی تقریب پذیرائی

گوجرانوالہ کی مٹی بہت زرخیز ہے جہاں بہت سے آرٹسٹ اور فنکار پیدا ہوئے۔اسی مٹی کے خمیر سے جنم لینے والا سچے جذبوں کا شاعر علی یاسر جو اپنی ذات میں ایک منفرد مقام رکھتا ہے۔وہ شاعر ،ادیب،کالمسٹ،مصنف اور اینکر پرسن ہونے کے علاوہ اسلام آباد میں مقیم ہے جہاں اکادمی ادبیات پاکستان میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر ہیں۔

علی یاسر غزل کے طویل سفر میں ایک لمحے کے لئے بھی اپنی ذات سے جدائی اختیار نہیں کرتا، کیونکہ اس کی غزل ایک آئینہ خانہ ہے ،جس میں ہر زاویے سے اس کا اپنا عکس جھلکتا دکھائی دیتا ہے۔

وہ زمیں پہ بسنے والی مخلوق کا اس قدر خیر خواہ نظر آتا ہے کہ دوسروں کی خوشی کے لئے اپنے غم کا نوحہ سینے میں دفن کرتے اس بات کی طرف اشارہ دیتے ہیں کہ کسی روز آسمان سے قلم اُترے گا:

ہمیں لکھنا ہے زمیں والوں کے غم کا نوحہ

آسمانوں سے کسی روز قلم اُترے گا

اُسے دن کے اُجالوں میں رہنا اچھا لگتا ہے مگر وہ دن میں خواب نہیں دیکھتا اُسے رات کی چاندنی میں ستاروں سے دل لگی کرنا ،چاند سے باتیں کرناپسند ہیں۔وہ جب غزل کہتا ہے تو لفظ اُس کے ہونے کی گواہی دیتے ہیں۔ وہ ایک محب وطن آدمی ہے اُ س کی آنکھوں میں وطن عزیز کی محبت کا نقشہ یوں اُبھرتا ہے:

ہم نے آنکھوں میں رکھا پاک وطن کا نقشہ

کتنے طوفاں اسی تعویز سے جل جاتے ہیں

علی یاسر اپنے فن کے اعتبار سے اتنا قد آور ہے کہ اُس کے مقابل اُسکی عمر بہت کم ہے مگر اُس کے خیالات کی بلندی اور فنی پختہ کاری کا ایک اپنا معیار ہیں۔ وہ عروض کے متعلق بھی کافی معلومات رکھتا ہے۔

اس حوالے سے جان کاشمیری صاحب بتاتے ہیں کہ ’’علی یاسر فن عروض پر لیکچر بھی دیتا رہا ہے،علی یاسر ایک ایسا سہ پہلو انسان ہے جو ماہر عروض بھی ہے نظامت کاری میں بھی یدطولیٰ رکھتا ہے اور شعر کی نزاکتوں سے بھی کماحقہُ شناسا ہے، وہ گوجرانوالہ کی سرزمین میں اُگنے والا ایک ایسا دلکش پھول ہے ،جس کی خوشبو نہ صرف پاکستان کے اطراف اکناف میں روز بروز پھیل رہی ہے، بلکہ اس کی خوشبو کا دائرہ دوسرے ممالک کو بھی اپنے حصار میں لے رہا ہے جو گوجرانوالہ کے ساتھ ساتھ ملک خداداد پاکستان کے لئے ایک اعزاز کی حیثیت رکھتا ہے‘‘

علی یاسر کے بات کرنے کا اندازبہت رسیلا ہے۔ اس کی شعری مطبوعہ کتب میں ’’ارادہ ‘‘اور ’’غزل بتائے گی‘‘ شامل ہیں۔گزشتہ دنوں ’’نیوز وائس آف کینیڈا اور بزمِ جان ادب ’’بجا‘‘ نے علی یاسر کی اس کتاب ’’غزل بتائے گی‘‘ کی تقریب پذیرائی کا اہتمام کیا۔ معروف ادیب خالد فتح محمد کی صدارت میں ہونے والی اس پروقار تقریب میں ملک کے نامور اہل علم وادب نے اظہار خیال کیا۔

جناب جان کاشمیری، سید انصر سبطین نقوی،نسیمِ سحر، جنید آذر، ادریس ناز، حسن عباسی، اقبال نجمی، عمران اعظم رضا ،پروفیسر احمد عباس طور،شہباز چوہان، ڈاکٹر سعید اقبال سعدی، اظہر ضیاء، میجر شہزاد نیئر، خواجہ آفتاب عالم،تنویز قاضی سمیت دیگر نے اپنی قیمتی رائے سے حاضرین کو نوازا۔ الطاف مہدی اور فیصل بٹ نے باقاعدہ موسیقی کے ساتھ علی یاسر کے کلام کو حاضرین کے سامنے پیش کیا۔ تقریب کی نظامت کی ذمہ داری ٹی وی کے مشہور اینکر پرسن سیف اللہ بھٹی نے کی۔

خوبصورت نعت خواں عمران شہزاد الحسینی نے علی یاسر کی لکھی ہوئی نعت کو اپنی آواز میں پڑھ کر حاضرین کو عشق رسولؐ میں جھومنے پر مجبور کر دیا۔اس تقریب میں مجھے بھی بلایا گیا اور میں نے علی یاسر کی کتاب ’’غزل بتائے گی‘‘ کے حوالے سے منظوم خراج تحسین پیش کیا۔ آخر میں علی یاسر کی نذر دو اشعار کرتا اجازت چاہوں گا:

غزل کیا ہے بتائے گا علی یاسر

محبت سے سنائے گا علی یاسر

ادب کے آسماں کا وہ ستارہ ہے

ہمیشہ جگمگائے گا علی یاسر

مزید : رائے /کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...