سینیٹ کے ووٹوں کی خرید و فروخت کیسے رک سکتی ہے؟

سینیٹ کے ووٹوں کی خرید و فروخت کیسے رک سکتی ہے؟

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ سینیٹ الیکشن میں پیسوں سے سینیٹر منتخب ہونے والوں کو عوامی نمائندگی کا کوئی حق نہیں، دھاندلی کے ذریعے سینیٹر بننے والوں کا مقابلہ کرنا ہم اپنا فرض سمجھتے ہیں، ہم ملک کے جمہوری نظام میں شفافیت کے خواہاں ہیں، سیاسی مستقبل کے فیصلے سڑکوں اور چوراہوں پر نٰہیں ہونے چاہئیں، یہ فیصلے پولنگ سٹیشنوں پر ہوتے ہیں، کسی کو حق نہیں کہ ایسے فیصلوں کی نفی کرے، جمہوریت کا تسلسل ہوگا تو ترقی کا سفر جاری رہے گا جس ملک میں سیاست بدنام ہو وہ ملک کبھی ترقی نہیں کر سکتا، صرف وہی ملک ترقی کرتے ہیں جہاں سیاست کو اس برائی سے پاک رکھا جائے، جو شخص ارکان اسمبلی کو خرید کر سینیٹ تک پہنچا ہو اس نے عوام کی کیا خدمت کرنی ہے، ان کا کہنا تھا کہ آئین میں تمام اداروں کے اختیارات کا تعین موجود ہے اس کے مطابق ادارے اپنا اپنا کردار ادا کریں، ہم چاہتے ہیں کہ اتفاق رائے سے ایک بہتر شخص سینیٹ کا چیئرمین بنے۔ اُن کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) اور اس کی قیادت ہمیشہ عدالتوں کا احترام کرتی آئی ہے اور عدالتوں کے احکامات پر عمل کیا جاتا ہے، نیب کا قانون ایک آمر نے بنایا تھا، سیاست دانوں کی بدقسمتی ہے کہ ہم اس کالے قانون کو ختم نہیں کر سکے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار تربیلا فور توسیعی منصوبے کے افتتاح کے موقع پر کیا۔

آج سینیٹ کے نومنتخب ارکان حلف اٹھائیں گے اور اگلے تین سال کے لئے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کا انتخاب ہوگا، اس وقت جب یہ سطور رقم کی جا رہی ہیں، سینیٹ کے چیئرمین کے انتخاب میں حصہ لینے والی سٹیک ہولڈر پارٹیاں اپنے اپنے مشاورتی اجلاس کر رہی ہیں اور کسی بہتر نتیجے پر پہنچنے کے لئے کوشاں ہیں۔ دونوں عہدوں کے لئے مقابلہ کھلے عام ہوگا البتہ ووٹ خفیہ ڈالے جائیں گے، اس رائے شماری کے نتیجے میں جو بھی امیدوار سب سے زیادہ ووٹ لے گا، وہ منتخب ہو جائے گا۔ پارٹی پوزیشن البتہ واضح ہے کوئی بھی جماعت اپنے بل بوتے پر اپنے امیدوار منتخب نہیں کرا سکتی، اس کے لئے دوسری جماعتوں کا تعاون درکار ہے۔ اس تعاون کے حصول کے لئے بھی کوششیں جاری ہیں جو آخری وقت تک جاری رہ سکتی ہیں اور سیاسی جماعتوں کو اپنے اپنے ارکان پر نظر بھی رکھنا ہوگی تاکہ وہ طے شدہ پالیسی کے مطابق ووٹ ڈالیں اور کسی قسم کی ترغیب و تحریص کا شکار نہ ہوں۔

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا یہ کہنا تو بالکل درست ہے کہ جو سینیٹر ووٹ خرید کر منتخب ہوئے ہیں، انہیں عوامی نمائندگی کا کوئی حق نہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ انتخاب تو جیسے بھی ہوا ہو گیا، اس کا نتیجہ اگر ایسا نہیں نکلا جیسا پارٹیوں کی عددی اکثریت کے مطابق نکلنا چاہئے تھا تو یہی خیال کیا گیا کہ اپنے حق میں ووٹ لینے کے لئے خرید و فروخت ہوئی ہے۔ سیاسی جماعتوں خاص طور پر عمران خان نے بڑے طمطراق سے اعلان کیا کہ جن لوگوں نے ووٹ بیچے ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی لیکن 3 مارچ کے بعد آج 12 مارچ تک ہم دیکھتے ہیں کہ کسی ایک جماعت نے بھی اپنے کسی کارکن کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی، کارکنوں کو ممکن ہے شوکاز نوٹس وغیرہ دیئے گئے ہوں، اگر ایسا ہوا ہے تو اس کا جواب بھی قبل از وقت معلوم ہے کیونکہ اگر کسی رکن اسمبلی نے ووٹ فروخت کیا ہے تو وہ کب مانے گا کہ اس نے ایسا کیا ہے البتہ وزیراعلیٰ پرویز خٹک نے اپنے لیڈر کو ایک رپورٹ پیش کر دی ہے جس میں مشتبہ لوگوں کے نام دے دیئے گئے ہیں لیکن امکان یہی ہے کہ فوری طور پر کوئی کارروائی نہیں ہوگی۔ آج چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کا الیکشن ہونے کے بعد یہ معاملہ ویسے ہی ٹھنڈا ہو جائے گا پھر کے پی کے میں صورتِ حال یہ ہے کہ تحریک انصاف کو ایوان میں سادہ اکثریت بھی حاصل نہیں اگر پارٹی نے اپنے ارکان کے خلاف کوئی کارروائی کر ڈالی یا کسی ایم پی اے نے خود ہی احتجاجاً پارٹی چھوڑ دی تو حکومت قائم نہیں رہ سکے گی۔ اس لئے پرویز خٹک یہ کڑوا گھونٹ بھی خاموشی سے پی جائیں گے اور لگتا یہی ہے کہ کسی کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوگی۔

اب سوال یہ ہے کہ جو ارکان منتخب ہوگئے وہ بقول وزیراعظم اگر عوامی نمائندگی کے اہل نہیں تو پھر کیا ہوگا؟ یہ ارکان تو منتخب ہو گئے انہوں نے اپنے ووٹوں سے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین بھی منتخب کر لئے ممکن ہے ان میں سے کسی نے کوئی مالی منفعت بھی حاصل کر لی ہو یا کوئی دوسرا فائدہ اٹھا لیا ہو، اس لئے اگر یہ عوامی نمائندگی کے اہل نہیں تو وزیراعظم کے ذہن میں وہ کیا منصوبہ ہے جس کے تحت ان لوگوں کو ’’نااہل‘‘ بنایا جائے گا یا اُن کا ’’مقابلہ‘‘ کیا جائے گا؟ وزیراعظم کے ذہن میں جو بھی ہو وہ سامنے آنا چاہئے تاکہ اس کے پیش نظر مستقبل کے لئے کوئی بہتر منصوبہ بندی کی جا سکے۔

اگر سیاسی جماعتیں مخلص اور خواہش مند ہوں تو آئندہ سے سینیٹ کے انتخاب میں ووٹوں کی خرید و فروخت کا کاروبار بند ہو سکتا ہے۔ اگلا انتخاب اب 2021ء میں ہوگا۔ اس وقت وہ سینیٹر ریٹائر ہوں گے جو اپنی چھ سالہ مدت پوری کر لیں گے، اس سے پہلے کوئی آئینی ترمیم ایسی کی جا سکتی ہے کہ یا تو رائے شماری ایوان میں ڈویژن کی بنیاد پر کی جائے جس امیدوار کا نام پکارا جائے اس کے حق میں تقسیم کی بنیاد پر ایوان سے رائے لے لی جائے۔ اس طرح جو رکن اسمبلی ووٹ دے گا وہ سب کے سامنے آ جائے گا، اس انتخاب میں پارٹی کی رائے کے مطابق ووٹ دینے کی تو کوئی پابندی نہیں ہوتی اس لئے جو ارکان اسمبلی اپنی پارٹی کے خلاف ووٹ دینا چاہیں وہ کھل کر اور جرأت کے ساتھ ایسا کر سکتے ہیں، تاہم اگر اس طریقِ کار سے اختلاف ہو تو براہِ راست انتخاب کا معروف راستہ اختیار کیا جا سکتا ہے جس کا طریقِ کار وضع ہو سکتا ہے اس مقصد کے لئے آئین میں جس ترمیم کی ضرورت ہو وہ پارلیمینٹ کے دونوں ایوانوں میں دو تہائی اکثریت سے کی جا سکتی ہے۔ اس مقصد کے لئے نئی پارلیمینٹ سے آغاز کیا جا سکتا ہے جو متوقع طور پر جولائی میں وجود میں آ جائے گی کیونکہ موجودہ قومی اسمبلی کی مدت 31 مئی کو ختم ہو رہی ہے، نگران حکومت اس کے بعد بن جائے گی جو ساٹھ دن کے اندر انتخاب کرائے گی، جو امکانی طور پر جولائی کے وسط میں ہو سکتے ہیں۔ جب تک سینیٹ کے الیکشن کا موجودہ طریق کار موجود رہے گا ووٹ خریدے اور بیچے جاتے رہیں گے اور ہر الیکشن کے موقع پر ریٹ بھی پہلے سے بڑھ کر لگے گا، اس لئے ہر سیاسی جماعت کو چاہئے کہ وہ اس مقصد کے لئے آئینی ترمیم کی خاطر اپنا کردار ادا کرے جو جماعتیں ایسا نہیں کریں گی ان کے بارے میں یہی خیال کیا جائے گا کہ وہ موجودہ طریقِ کار کو برقرار رکھ کر اپنے ارکان اسمبلی کو اس سے مستفید ہوتے رہنے سے مطمئن ہیں اور جو شور بھی ڈالا جا رہا ہے وہ سب عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لئے ہے۔

مزید : رائے /اداریہ

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...