کوئلے سے بجلی کی تیاری کے دو نئے معاہدے

کوئلے سے بجلی کی تیاری کے دو نئے معاہدے

یہ خبر حوصلہ افزا ہے کہ تھر کے کوئلے سے 990 میگا واٹ بجلی پیدا کرنے کے دو نئے معاہدے کئے گئے ہیں، یہ معاہدے دو نجی کمپنیوں سے ہوئے ہیں، ان منصوبوں پر ایک ارب 41 کروڑ ڈالر خرچ ہوں گے اور آئندہ تین برسوں میں بجلی کی مکمل پیداوار حاصل ہوسکے گی، بتایا گیا ہے کہ اس وقت تھر کے کوئلے سے پانچ ہزار میگا واٹ بجلی حاصل کرنے کے لئے مختلف منصوبوں پر کام ہورہا ہے۔ پچھلے کئی مہینوں سے بجلی کی لوڈشیڈنگ کا مسئلہ اس حد تک تو حل کرلیا گیا ہے کہ دس دس اور بارہ بارہ گھنٹوں کی بجائے ملک کے بیشتر علاقوں میں لوڈشیڈنگ ختم کر دی گئی ہے، بعض علاقوں میں دو سے چار گھنٹے لوڈشیڈنگ ہورہی ہے، اس بارے میں وزارت پانی و بجلی کا یہ کہنا ہے کہ وہاں بجلی کے بلوں کی مکمل ادائیگی نہ ہونے کی وجہ سے لوڈشیڈنگ ہوتی ہے، یہ بھی کہا گیا ہے کہ بجلی کی پیداوار طلب کے مطابق حاصل ہورہی ہے، لہٰذا لوڈشیڈنگ کا خاتمہ ہوچکا ہے، سابق وزیراعظم نواز شریف نے 2018ء میں لوڈشیڈنگ کا مسئلہ حل کرنے کا وعدہ کیا تھا، تاہم 2018ء کے آغاز سے دو ماہ قبل ہی لوڈشیڈنگ ختم کردی گئی، حکومت مخالف حلقوں کی طرف سے کہا گیا کہ موسم سرما کی وجہ سے بجلی کی کھپت کم ہے، گرمی شروع ہوتے ہی لوڈشیڈنگ کرنا پڑے گا، اس کے جواب میں حکومتی ذمہ داران کا مؤقف یہ ہے کہ گزشتہ تین چار سال کے دوران ملک بھر میں تیزی سے بجلی کے پیداواری منصوبوں کو مکمل کرکے ضرورت کے مطابق بجلی حاصل کرلی گئی ہے جبکہ کئی منصوبے اس سال پایۂ تکمیل کو پہنچیں گے تو فاضل بجلی ہونے سے لوڈشیڈنگ نہیں ہوگی۔جہاں تک تھر کے کوئلے سے بجلی تیار کرنے کے منصوبوں کا تعلق ہے تو ساہیوال میں بہت بڑے پراجیکٹ کو ریکارڈ مدت میں مکمل کیا گیا ہے اور اس کے پراجیکٹ ون سے گزشتہ چند ماہ سے بجلی حاصل ہورہی ہے، اگلے مرحلے کے لئے تیزی سے کام ہوہا ہے، جو جلد ہی پایۂ تکمیل کو پہنچ جائے گا، ساہیوال میں کوئلے سے بجلی کی تیاری کے تجربے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے 990 میگا واٹ بجلی تیار کرنے کے لئے جو دو معاہدے کئے گئے ہیں، وہ اس لحاظ سے مفید ثابت ہوں گے کہ اگلے تین سال کے دوران بجلی کی ڈیمانڈ بڑھ جائے گی تو اس وقت بحران پیدا نہیں ہوگا، ویسے بھی کیونکہ دیگر کئی منصوبوں پر بھی کام ہورہا ہوگا، بجلی کی پیداوار ضرورت کے مطابق حاصل کرنے میں کامیابی باعثِ اطمینان ہے کہ لوڈشیڈنگ کے عذاب سے نجات ملی، لیکن اصل مسئلہ یہ ہے کہ جو بجلی دستیاب ہے، یہ بہت مہنگی ہے، اگرچہ بعض منصوبوں سے مکمل پیداوار حاصل ہونے پر بجلی کے نرخوں میں کمی کا فیصلہ کیا گیا ہے، لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ زیادہ سے زیادہ سستی بجلی حاصل کی جائے، بعض منصوبوں سے بجلی بدستور مہنگے داموں حاصل ہو رہی ہے اور حکومت کو سبسڈی کا بوجھ برداشت کرنا پڑ رہا ہے، قومی خزانے پر یہ بوجھ ختم ہونا چاہئے، اسی طرح بجلی کے صارفین اور حکومت کو فائدہ ہوسکے گا، تھر کے کوئلے سے اگر سستے داموں بجلی حاصل ہوگی تب ہی ان منصوبوں کا فائدہ ہوگا، اس معاملے میں سستی بجلی کی تیاری کو ترجیح دی جائے۔

مزید : رائے /اداریہ