سراج الحق: ایک مضبوط برانڈ (2)

سراج الحق: ایک مضبوط برانڈ (2)
سراج الحق: ایک مضبوط برانڈ (2)

  

غریب خود بھی اس موضوع پر اب کم ہی سوچ پاتا ہے ،میں نے دھیرے سے سوچا اور پوچھ لیا تھا، ’’یہ غریب جس جس کو بھی اپنی قیادت اور راہنمائی کے لئے چنتا ہے اس کا تو دور دور سے غربت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا ‘‘ انہوں نے بات کو آگے بڑھایا ’’ میں غریب کو قصور وار نہیں ٹھہراتا اس کے دکھ کا جس کے پاس مداوا ہے وہی اس کو سمجھا نہیں پا رہے ، جہاں وہ ہماری بات سمجھ رہے ہیں وہاں ووٹ بھی مل رہے ہیں ،ہماری کوششوں میں تیزی اور بہتری کی ضرورت ہے ،ہمارے نوجوانوں کو ایسے ہی سوچنا ہے جیسے آگ لگی ہو تو اس کو بجھانے کے لئے دوڑتے ہیں ،کسی بچے کو غربت کے ڈھیر سے رزق تلاش کرتے دیکھو تو دکھ کی شدت تو ایک سی محسوس ہونی چاہئے، جماعت اسلامی کے سبھی لوگ اس انسانی مسلے پر ایک سی قوت اور ایک سے احساس سے سوچ کر اسے حل کرنے اس بارے میں بات کرنے نکلیں گے تو ہی ہم سواد اعظم کی رہنمائی کے منصب پر فائز ہونے کا سوچ سکیں گے،ہم اسی لئے اپنی سیاسی ٹیم میں پچاس فیصد کے لگ بھگ اب نئے اور نوجوان لوگ لا رہے ہیں اور اصولی طور پر ایک بڑا فیصلہ کرنے جا رہے ہیں کہ جماعت کے تنظیمی اور دعوتی کام بھی اسی طرح ہوتے رہیں مگر سیاسی فیصلے اور کام وہ ایک سیاسی ونگ کرے اور پوری آزادی سے کرے ،جماعت کی شوری میں اس مسلئے پر تفصیلی بات ہو چکی ہے اور ہم مکمل یکسوئی کے ساتھ اپنی سیاسی حرکیات طے کیا کریں گے ۔یہ ایک بڑا فیصلہ اور بڑی سیاسی موو ہوگی ،جماعت اس کی ٹائمنگ کیا طے کرتی ہے یہی بات اس کے اثرات اور ثمرات کو بڑھانے کا باعث ہوگی ۔

کنسرن کو سنجیدگی کہہ لیں یا پوری توجہ سراج الحق صاحب کو اپنے کام مقاصد اور طریق کار پر کوئی ابہام نہیں ہے،وہ اپنے حلقے اور وہاں کے لوگوں کو اپنی اولین ترجیح پر رکھتے ہیں میں نے پوچھا کیا یہ درست ہے کہ آپ جماعت کی سب سے بڑی مشورہ ساز مجلس یعنی مجلس عاملہ میں تھے جب آپ کے حلقے سے ایک فون آیا اور آپ نے مجلس کا اجلاس روک کر اسے سنا ،وہاں کوئی ٹرانسفارمر جل گیا تھا ،آپ نے فوراَ رابطے کئے جب تک مسلہ حل نہیں ہو گیا اجلاس رکا رہا ، سوال سن کر انہوں نے سر ہلایا ہاں یہ درست ہے ۔

دیکھیں اگر ہم نے اپنی سیریس نیس نہیں دکھائی تو مسلے اپنے آپ حل نہیں ہوتے ،نہ اس کا سائز چھوٹا ہوتا ہے وہ تو انہیں حل کر کے ان کی طرف متوجہ ہو کر ان کا حل نکال کر ہی انہیں چھوٹا کیا جا سکتا ہے پھر انہوں نے ایک بڑی بات کہی ’’ اصولوں کے بیان سے وہ بڑے نہیں ہوتے ان کو پہلے خود ماننا اور اپنانا پڑتا ہے‘‘ میرے حلقے میں ابھی بلدیاتی انتخاب میں بھی ہم نے سات سو زیادہ لیڈ لی ہے ،ہمارا ایک امیدوار بھی ادھر ادھر ہوگیا تھا تب بھی جیتے ہیں، بہت سے کاموں کے حل میں خرچ نہیں اٹھتا مگر ہماری تربیت میں یہ بات اب شامل ہونی چاہیئے کہ ہم اس کے لئے اٹھیں اور کوشش کریں ،اللہ نے بھی نتائج کوشش کے ساتھ جوڑے ہیں ‘‘

آپ عہد حاضر میں سب سے زیادہ سفر کرنے والے اور دور دراز کے مقامات پر جانے والے لیڈر کہے جا رہے ہیں،اتنے طویل اور مسلسل سفر میں آرام کا موقع کب ملتا ہے،اس دوران ان کے سیکریٹری شیرپاو صاحب نے ایک کال ملا کر تھرو کرنے کا پوچھا کسی سے تعزیت کئلئے ملوانے کا انہوں نے کہہ رکھا تھا ،ہم ان کے آفس میں ان کرسیوں پر بیٹھے تھے جو ان کی جماعتی امیر کی روائتی نشست سے ذرا ہٹ کر رکھی گئی ہیں ،ان کے میز پر پرانے عہد کے دانش وروزرائے اعظم کے استعمال میں آنے والا ایک سادہ اور خصوصی طور پر بنوایا گیا رائیٹنگ سٹینڈ تھا جو ان کی میز پر ایستادہ تھا جس پر وہ میرے جانے سے قبل کسی کو خط لکھ رہے تھے ،آپ آج بھی خط لکھتے ہیں ’’کیوں نہیں ہم روایت اور جدت دونوں کو لے کر چلتے ہیں ،خط آج بھی دلی تعلق اور سنجیدگی کی علامت گنا جاتا ہے اور مجھے عام طور پر جب کسی بات پر تحسین کرنی ہو توجہ دلانی ہو ،یاد دہانی کا کہنا ہو تو اسے لکھ کر ہی اطمینان محسوس کرتا ہوں ،آرام کی آپ نے خوب کہی اب شام کو جب آفس کا کام کر رہا تھا مغرب کے بعد تو ایک دم سے آرام کرنے کو جی چاہا تھا ‘‘ ،شکر ہے انہوں نے یہ نہیں کہہ دیا کہ پھر آپ آگئے۔

سراج الحق جماعت اسلامی کے نئے اور پرانے سبھی کارکنوں کی مضبوط امید کا استعارہ ہے ،لوگ ان سے انقلابی نتائج کی توقع باندھے بیٹھے ہیں وہ ان کی آس توڑنے کی بات نہیں کرتے بلکہ یہ کہتے ہیں پوری انسانی تاریخ ممیں بار بار تبدیلی آتی ہے مگر اس کے لئے مطلوبہ خوبیوں اور کوشش کی شرط تو پوری کرنی ہو گی ،سیاسی کامیابی آرزو سے نہیں دل بدلنے سے آتی ہے ،بہتر آپشن بننے سے ،لوگوں کے مان جانے سے ان کی امیدوں کا جواب بننے سے آتی ہے یہی پائیدار حل ہے اور ہمارے ساتھیوں کو اسی کے لئے اپنی زندگیوں کو لگانا ہے۔

سراج الحق سے مل کر ہر بار ہی اچھا لگتا ہے کچھ نیا ،کچھ امید سے جڑا ہوا ،کچھ مستقبل کی زلفوں کو سلجھاتا ہوا ،کچھ تو خاص ہے ان کی باتوں میں ان کی آنکھوں اور لفظوں میں جو ان کو ملنے والے انہیں بھلا نہیں پاتے۔

کیا وہ صرف سادگی ہے تو سچ یہ ہے کہ اتنے سادہ بھی نہیں ہیں وہ ایک واضح سیاسی کامیابی کا مقصد ہی نہیں طریق کار بھی رکھتے اور اس کی تفہیم کرتے ہیں اور اسی کی تیاری پر لگے ہیں جماعت اسلامی جیسی تنظیم کی قیادت کے لئے جس احتیاط کی تنی ہوئی تار پر چلنا پڑتا ہے اس پر وہ بہت کامیابی سے چلتے اور فاصلے طے کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ (حتم شد)

مزید : رائے /کالم