عراق میں داعش کے ہاتھوں زیادتی کا شکار خواتین زندہ لاشیں بن گئیں

عراق میں داعش کے ہاتھوں زیادتی کا شکار خواتین زندہ لاشیں بن گئیں
عراق میں داعش کے ہاتھوں زیادتی کا شکار خواتین زندہ لاشیں بن گئیں

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

اقوام متحدہ(آئی این پی)دنیا بھر میں تنازع کے مقامات پر جنسی تشدد سے متعلق اقوام متحدہ کی خاتون ایلچی پرامیلا پیٹن کا کہنا ہے کہ عراق میں داعش تنظیم کے ہاتھوں جنسی زیادتی کا نشانہ بننے والی اور بے تحاشہ جنسی تعلقات پر مجبور کی جانے والی لڑکیوں اور خواتین کی سپورٹ میں "شدید کمی" دیکھنے میں آئی ہے۔ پیٹن کے مطابق انہوں نے جن خواتین سے ملاقات کی وہ "زندہ لاشوں" کی طرح تھیں۔

غیرملکی میڈیا کے مطابق پرامیلا پیٹن کاپریس کانفرنس میں کہنا تھا کہ میرے دورہ عراق کے دوران دیکھنے میں آیاکہ متاثرہ خواتین میں سے بعض کو ان کے سرپرستوں کی جانب سے بے گھر افراد کے کیمپوں میں قید کر دیا گیا ہے اور ان کے پاس نفسیاتی اور سماجی سپورٹ کے حصول کے مواقع میسر نہیں۔پیٹن نے واضح کیا کہ بہت سی خواتین ابھی تک بے گھر ہیں۔ انہوں نے اپنی سلامتی کے حوالے سے شدید تشویش کا اظہار کیا۔ ان خواتین کو اندیشہ ہے کہ گھروں کو لوٹ جانے کی صورت میں انہیں انتقام کا نشانہ بنایا جائے گا۔

پیٹن نے بتایا کہ انہوں نے مذہبی ر ہنماں سے بھی ملاقاتیں کیں جنہوں نے "واپس آنے والی خواتین کے ساتھ بہت زیادہ ہمدردی کا اظہار بھی کیا"۔ تاہم متاثرہ خواتین نے پیٹن کو آگاہ کیا کہ ترکمان خواتین کو ان کی کمیونٹی کی جانب سے قبول کرنے سے انکار کر دیا جائے گا۔اقوام متحدہ کی ایلچی کے مطابق داعش تنظیم کے ہاتھوں نشانہ بننے والی یزیدی خواتین نے عراق سے کوچ کر جانے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔

مزید : بین الاقوامی