سیرت مطہرہؐ پر ایک یادگار کتاب !

سیرت مطہرہؐ پر ایک یادگار کتاب !
سیرت مطہرہؐ پر ایک یادگار کتاب !

  

حضور نبی اکرمؐ سے عشق و محبت ایمان کا تقاضا ہے۔ جس کے دل میں حب رسولؐ نہ ہو، اُسے مومن شمار نہیں کیا جاسکتا۔ فتنوں کے اس دور میں حب رسولؐ کے تقاضوں سے لوگوں کو واقف کرانا، ایک بہت بڑا کارِ خیر ہے۔

جس طرح آنحضورؐ نے ایک مختصر وقت میں اللہ کے دین کو غالب کرکے دکھا دیا، اسی طرح آج اگر صحیح معنوں میں آنحضورؐ کی سیرت انسانیت کے سامنے پیش کی جائے تو امت مسلمہ کی کمزوریوں کے باوجود سیرت کا یہ پیغام خود دلوں کی دنیا میں انقلاب برپا کرسکتا ہے۔

اس کے نتیجے میں غیر مسلم بھی اسلام کی آغوش میں آسکتے ہیں۔ تاریخ کے ہر دور میں سیرت پر اتنا کام ہوا ہے کہ کوئی اور موضوع اس کا ثانی نہیں۔

عاشقانِ رسول نے آپؐ کے دور سے لے کر آج تک خدمتِ اقدس میں عقیدت کے پھول پیش کیے ہیں۔ یہ سب خوش نصیب لوگ ہیں۔ دور جدید میں کئی اہل علم اس میدان میں کام کر رہے ہیں۔

ہمارے بھائی اور جماعت کے بزرگ رہنما جناب حافظ محمد ادریس کا ذوق اس حوالے سے قابلِ رشک ہے۔ آنحضورؐ اور صحابہ و صحابیاتؓ پر ان کی کئی کتابیں شائقین علم سے داد و تحسین وصول کرچکی ہیں۔ سیرتِ مطہرہؐ کے مدنی دور پر رسول رحمتؐ تلواروں کے سائے میں پانچ جلدوں میں مکمل ہوگئی تھی۔

اب حافظ محمد ادریس صاحب نے مکی دور پر قلم اٹھایا ہے تو ماشاء اللہ پہلی جلد ’’رسول رحمت ؐ مکہ کی وادیوں میں ‘‘شمع رسالت ؐکے پروانوں کے ہاتھوں میں پہنچ چکی ہے۔ دوسری جلد کا شدت سے انتظار ہے۔ مصنف کے بقول دو جلدوں میں مکی دور کے حالات مکمل ہوجائیں گے۔ اللہ جلد اس کی تکمیل کی توفیق عطا فرمائے۔

انسانیت کی حقیقی کامیابی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات وسیرت مطہرہ سے رہنمائی حاصل کیے بغیر ممکن نہیں ہے۔ اہلِ ایمان پر یہ حقیقت واضح ہونی چاہیے کہ یہ کام سیرت رسولؐ کی روشنی میں قرآن کے مطالعے سے ہی ممکن ہوسکتا ہے۔

محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت اور قرآن مجید اللہ رب العزت کا انسانیت پر بہت بڑا انعام ہے۔ مشرکین مکہ نے اس عظیم نعمت کو ناشکری اور کفران نعمت سے بدل ڈالا۔ اس کے نتیجے میں وہ دنیا اور آخرت میں ناکامی اور نامرادی سے دوچار ہوئے۔

ابوالانبیا حضرت ابراہیم علیہ السلام کو ہر طرح کی آزمایشوں سے گزارنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے انسانیت کا امام بنایا۔ انھوں نے امامت کے حوالے سے اپنی ذریت(اولاد) کے بارے میں استفسار کیا ۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جواب آیا میرا وعدہ ظالموں کے لیے نہیں۔

اور جب تیرے رب نے ابراہیم علیہ السلام کو کئی باتوں سے آزمایا اور اس نے ان کو پورا کیا تو اللہ نے ارشاد فرمایا کہ میں تجھے انسانیت کا امام بناتا ہوں۔ آپؑ نے کہا کہ میری اولاد کے بارے میں کیا حکم ہے؟ فرمایا میرا وعدہ ظالموں کو نہیں پہنچے گا۔

اللہ تعالیٰ کے اس فیصلے کے مطابق انسانیت کی امامت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد کے اس حصے میں رہی جو ان کے چھوٹے فرزند حضرت اسحاق علیہ السلام کی نسل سے ہے اور جب ان لوگوں کے ہاتھوں ظلم کا صدور انتہا کو پہنچا تو امامت حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بڑے فرزند حضرت اسماعیل علیہ السلام کی نسل میں لوٹا دی گئی۔

محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی دعا کو شرف قبولیت بخشتے ہوئے قریش کے عظیم قبیلے اور مکہ مکرمہ کے مقدس شہر میں نبی اور رسول بنا کر مبعوث فرمایا، دونوں انبیا نے اللہ سے دعا مانگی تھی:

(البقرۃ2:129) اے ہمارے رب! ہماری اولاد میں ایک رسول بھیج دیجیے جو ان پر تیری آیات تلاوت کرے ان کو کتاب اور حکمت کی تعلیم دے اور ان کا تزکیہ کرے۔ بے شک تو غالب اور حکمت والا ہے۔

بنی اسرائیل اس تبدیلئ امامت پر بہت تلملائے، مگر اللہ کایہ فیصلہ تو روز اول سے محفوظ تھا کہ خاتم النبیین، سیدالاولین والآخرین محمد مصطفیؐ، احمد مجتبیٰؐ آل اسماعیلؑ میں سے ہوں گے۔ آپ کے لیے جو دعائیں اللہ کے دو نبیوں نے تکمیل تعمیرِ بیت اللہ کے وقت مانگی تھیں وہ اللہ کے ہاں مقبول تھیں۔

محترمی و مکرمی حافظ محمد ادریس صاحب نے سیرت رسولؐ پر قلم اٹھایا تو اللہ تعالیٰ نے ان کی کاوش میں برکت ڈالی اور رسول رحمتؐ تلواروں کے سائے میں پانچ جلدوں میں مکمل ہوگئی۔

یہ حصۂ سیرت مدنی دور پر مشتمل ہے جو اس سے قبل منصہ شہود پر آکر مقبولیت حاصل کرچکا ہے۔ اب رسول رحمتؐ مکہ کی وادیوں میں ان کے قلم سے تیار ہو رہی ہے جس کی پہلی جلد نذر قارئین ہے۔

یہ کام ایسے دور میں ہو رہا ہے جبکہ انسانیت کی امامت کا منصب امت محمدؐسے ان کی سیرت رسولؐ اور کلام الٰہی، قرآن مجید سے غفلت اور دوری کے نتیجے میں سنت الٰہی کے عین مطابق چھن چکا ہے۔

دنیا ظلم و عدوان سے بھر چکی ہے۔ انسانیت رہنماؤں کی تلاش میں ہے اور جن کو رہنما ہونا چاہیے تھا یعنی امت محمدؐ، ان کے حکمران اور لیڈران گمراہوں کے پیچھے چل پڑے ہیں، جو بے خدا تہذیب کے علم بردار ہیں۔

سیرت رسولؐ کو عام کرنے اور اس کی روشنی میں قرآن کو سمجھنے اور اس کے مطابق انسانیت کی رہنمائی کے لیے آگے بڑھنے کا شاید یہ وقت سب سے زیادہ محتاج ہے اور یہی انسانیت کے لیے دنیا میں ظلم سے اور آخرت میں جہنم سے نجات کا واحد ذریعہ ہے۔

محترم حافظ محمد ادریس صاحب کو اللہ تعالیٰ نے سیرت رسولؐ اور سیرت صحابہ رضی اللہ عنہم کی تحریر اور بیان کی بہترین صلاحیت سے نوازا ہے۔ اس موضوع پر ان کی تحریریں محض تاریخی واقعات نہیں بلکہ قاری کے لیے تربیت و تزکیے کا لوازمہ بھی فراہم کرتی ہیں۔ میری دعا ہے کہ اللہ ان کی صلاحیتوں کو مزید جلا بخشے تاکہ ان کا قلم رواں دواں رہے اور اہلِ ایمان کے درمیان خیر پھیلتا رہے۔ آج قلمی جہاد ہی کی ضرورت ہے اور یہ اس دور کا اہم ترین تقاضا ہے۔ وما توفیقی الا باللّٰہ۔

مزید : رائے /کالم