نظام تعلیم تباہی کے دھانے پر۔۔۔ذمہ دار کون؟

نظام تعلیم تباہی کے دھانے پر۔۔۔ذمہ دار کون؟
 نظام تعلیم تباہی کے دھانے پر۔۔۔ذمہ دار کون؟

’’ معزز اراکین پارلیمان! مَیں نے ہندوستان کے طول و عرض میں بار ہا سفر کیا، مَیں نے وہاں مسلمان قوم کی اتنی بلند اخلاقی قدریں دیکھی ہیں اور مَیں ان کی اتنی بڑی بڑی ہستیوں سے ملا ہو ں کہ مجھے پختہ یقین ہو گیا ہے کہ ہم انگریز اس وقت تک اس ملک کو فتح نہیں کر سکیں گے جب تک کہ اس قوم کی ریڑھ کی ہڈی کو نہ توڑ دیں۔ان کی ریڑھ کی ہڈی ان کا روحانی و تہذیبی ورثہ اور نظام تعلیم ہے۔

مَیں تجویز کرتا ہوں کہ ہم اس قوم کا نظام تعلیم اور ان کا کلچر بدل کر رکھ دیں۔ دیکھنے میں یہ لوگ گندمی یا سانولی رنگت رکھتے ہوں، لیکن ان کے سینے کے اندر سفید فام انگریز کا دل دھڑکتا ہو۔ اگر ہم ان کو یقین دلا دیں کہ ہر وہ چیز جو انگریزی ہے، وہ ان کی اپنی چیزوں سے بہت بہتر ہے تو یہ لوگ بہت جلد خود اپنی نظروں سے گر جائیں گے ۔

اس طرح وہ اپنی تہذیب اور اپنے تعلیمی نظام کو چھوڑکر ہماری نقالی کرنے میں فخر محسوس کرنے لگیں گے۔ ان کے قلوب و اذہان فتح کرلینے کے بعد ان کے جسموں کو فتح کرنا کچھ زیادہ مشکل نہیں ہوگا‘‘۔۔۔ یہ باتیں بر طانوی مفکراور سیاستدان لارڈمیکالے نے 85برس قبل برطانیہ کی پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہی تھیں۔

حالات حاضرہ سے آگاہ ہر فرد کے علم میں ہے کہ لارڈمیکالے کے اس پروگرام پر انتہائی مربوط طریقے سے عمل در آمد ہوا اور آج ہماری قوم نہ صرف فکری ژولیدگی اور اخلاقی بحران سے دو چار ہو چکی ہے، بلکہ ہمارا نظام تعلیم بھی آکسیجن ٹینٹ میں آخری سانسیں لیتا دکھائی دے رہا ہے۔

اسلامی ثقافت و تہذیب کو مغربی اور ہندوانہ تہذیب و ثقافت کا ملغوبہ بنا دیا گیا ہے تو ہمارے نصاب تعلیم کو اسلامی تعلیمات اور اسلامی تاریخ سے ’’ پاک ‘‘ کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جارہی ہے۔ اب اس سے بڑا ظلم سندھ سرکار کی طرف سے یہ ہونے جا رہا ہے کہ اعلیٰ تعلیم کے معاملات کو بھی سیاست کی بھینٹ چڑھانے کے لئے قانون سازی کی کاوش سامنے آئی ہے۔

پیپلز پارٹی کی حکومت نے سندھ کی سرکاری جامعات میں چانسلر کے اختیارات گورنر سے وزیر اعلیٰ کو منتقل کرنے کا بل ’’سند ھ یونیورسٹیز اینڈ انسٹی ٹیوٹس لاز (ترمیمی بل) 2018ء‘‘اپوزیشن کے شدید احتجاج اور واک آؤٹ کے باوجود کثرت رائے سے منظور کر لیا ہے۔

اس بل کے ذریعے صوبے کی 23سرکاری جامعات اور دو انسٹی ٹیوٹس کے قوانین میں ترامیم کی جائیں گی ۔اس بل کی منظوری کے بعد تمام سرکاری یونیورسٹیز اور ڈگری جاری کرنے والے اداروں کے حوالے سے گورنر سندھ کا کردار ختم ہو گیا ہے۔ اب گورنر کسی بھی یونیورسٹی کا چانسلر نہیں ہوگا۔

اس بل کی منظور ی کے بعد گورنر کی بجائے اب تمام جامعات کے چانسلر کے اختیارات وزیر اعلیٰ کے پاس ہوں گے۔ اب وزیر اعلیٰ سند ھ ہی تمام سرکاری یونیورسٹیز اور انسٹی ٹیوٹس کے وائس چانسلرز اور پرو وائس چانسلر ز کا تقررکیا کرے گا ۔

سند ھ حکومت کا یہ انتہائی قابل مذمت اقدام اعلیٰ تعلیم کو سیاست زدہ کرنے اور اعلیٰ تعلیم کا معیار مزید گرانے کی ایک کھلی سازش اور طلبہ کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ کرنے کے مترادف ہے ۔

جامعہ کراچی اور دیگر یونیورسٹیز کے اساتذہ نے اس ایکٹ کی منظوری پر شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ترمیم جامعات کے تعلیمی و انتظامی معاملات پر براہ راست حملہ ہے اورذولفقار علی بھٹو کے بنائے ہوئے اس ایکٹ کو بھٹو کی اپنی ہی جماعت کی طرف سے ختم کرنا شرمناک اور ناقابل قبول ہے۔

جامعہ کراچی کے اساتذہ نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا ہے کہ وہ سندھ حکومت کی جانب سے جامعات کی خودمختاری سلب کرنے کے اس اقدام کی کسی صورت حمایت نہیں کریں گے ۔ یہ تو ہے سندھ میں اعلیٰ تعلیم پر شب خون کا تازہ احوال، دوسری جانب تعلیمی فرقہ بندی اور طبقاتی نظام تعلیم بھی ملک بھر میں ناسور کی شکل اختیار کر چکا ہے ۔

ہماراعصری نظام تعلیم اردو میڈیم اور انگلش میڈیم ، سرکاری اور پرائیویٹ کے خانوں میں بٹا ہوا ہے ۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ قومی زبان اردو ہے لیکن انگلش میڈیم طرز تعلیم یہاں بڑے پیمانے پر نہ صرف رائج ہے، بلکہ ہمارے اکثر ’’ دانشور‘‘ اردو میڈیم کو سرے سے تعلیمی نظام ماننے کو ہی تیار نہیں ہیں ۔یہ انگریزی سے بری طرح مرعوب نام نہاد دانشور طبقہ انگریزی زبان کو’’ علم ‘‘ سمجھے بیٹھا ہے۔

کاش کوئی ان کو سمجھا سکے کہ ہمارے پڑوس میں’’انگریزی علم ‘‘ حاصل کئے بغیرعوامی جمہوریہ چین عنقریب پہلی عالمی معاشی و عسکری طاقت بننے جا رہا ہے۔

چین کے ماہرین تعلیم کسی بھی پرائی زبان میں تعلیم کے حصول کو پوری قوم اور ملک کے ساتھ ظلم قرار دیتے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ چینی زبان پوری طاقت اور فخر سے ملک کے طول و عرض میں نافذ ہے ۔

اس کے برعکس ہم پرائی انگریزی زبان میں حصول تعلیم کو باعث فخر سمجھ کر قوم کے مستقبل کو تاریکیوں میں دھکیلتے چلے جا رہے ہیں۔ بات صرف پڑوسی ملک چین تک نہیں، جرمنی میں بھی پورا نظام تعلیم جرمن زبان میں ہے، اٹلی میں اٹالین کو ہی ذریعہ تعلیم بنایا جا رہا ہے، جاپان میں قومی زبان ہی پوری آب و تاب سے رائج ہے، خود برطانیہ اور امریکا میں بھی انگریزی کے سوا کسی پرائی زبان کو تعلیمی یا حکومتی نظام میں مداخلت کی جرأت نہیں۔ اپنی قوم کو اپنی قومی زبان میں تعلیم دینے کے باوجود یہ تمام ممالک نہ صرف تعلیم کے میدان میں کامیابیوں کے جھنڈے گاڑ رہے ہیں بلکہ ان ممالک کی معاشی ، فنی اور سائنسی ترقی بھی قابل رشک ہے۔ اپنی قومی زبان اور اپنی اعلیٰ تہذیت و ثقافت کے متعلق یہ احساس کمتری لارڈ میکالے جیسے دانشوروں کی دی ہوئی لائین پر چلتے ہوئے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ہماری قوم کے قلوب و اذھان میں سرایت کیا گیا ہے ۔

ہمارے تعلیمی نظام میں بات صرف انگلش میڈیم اور اردو میڈیم تک ہی رہتی توبھی ایک بات تھی ۔ المیہ یہ ہے کہ انگلش میڈیم سکولوں کی ہر چین(Chain) کابھی اپنا اپنا نصاب تعلیم ہے ۔ پھر گلی محلے کی سطح پر کھلے ہوئے نان رجسٹرڈ سکولوں کا من مانا نصاب تعلیم ہے ۔اسی طرح اردو میڈیم سکولوں کی انتظامیہ کو بھی مرضی کا نصاب منتخب کرنے کے لامحدود اختیارات حاصل ہیں ۔ایسے پرائیویٹ سکولوں کی بھی بھر مار ہے جن کے ہاں بیک وقت آکسفورڈ، گابا، پنجاب بورڈ وغیرہ کی ایک ایک یا دو دو کتابیں ہر کلاس کے نصاب میں شامل ہیں۔ یعنی انگلش کی بک آکسفورڈ کی ہے تو اردو گابا پبلشرز کی۔ الغرض آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے۔ چیک اینڈ بیلنس کے لئے سرکاری سطح پر سکروٹنی کمیٹیاں موجود بھی ہیں تو ان کی کارکردگی صفر ہے۔

معمولی سے نذرانے کے عوض کسی بھی سکول کو کسی بھی بورڈ سے الحاق کا سر ٹیفکیٹ دلوایا جا سکتا ہے ۔ سرکاری تعلیمی اداروں میں رائج نصابِ تعلیم اگرچہ کا فی حد تک متفقہ ہوتا ہے، لیکن ہر سال ان نصابی کتب میں غیر ضروری قسم کی ترامیم و اضافے نے اس نصابِ تعلیم کا حلیہ بگاڑ کر رکھ دیا ہے ۔

اس تمام صورتِ حال کا جائزہ لینے کے بعد ثابت ہوتا ہے کہ بد قسمتی سے پاکستان کے اندر ایک مربوط اور جامع قومی تعلیمی پالیسی کا سِرے سے وجود ہی نہیں ہے اور لارڈ میکالے کے پروگرام کے مطابق ہماری ریڑھ کی ہڈی کو اسلام اور پاکستان دشمن قوتیں بری طرح مسخ کرنے میں کافی حد تک کامیاب رہی ہیں ۔

اگر ہم ترقی یافتہ ممالک پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ان کی ترقی ،تعلیم کے میدان میں کامیابی سے جڑی ہوئی ہے ۔امریکا ، برطانیہ اور فرانس سمیت متعدد مغربی ممالک اپنے شہریوں کو آخری لیول تک مفت تعلیم فراہم کرتے ہیں ۔

چین کی حکومت بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کے آدھے اخراجات خود برداشت کر تی ہے۔ اسرائیل میں تعلیم کو اتنی اہمیت دی جاتی ہے کہ آج امریکی حکومت کی 70فیصد کلیدی پوسٹوں پر اسرائیلی تعینات ہیں۔ ملائشیا نے قلیل وقت میں ترقی اس لئے کی کہ مہاتیر محمد نے وہاں تعلیمی انقلاب برپا کیا جس کے بعد ملائشیاء کی ترقی کو پَر لگ گئے۔

1945ء میں دوسری عالمی جنگ کے دوران ہیرو شیما اور ناگاساکی پر ایٹمی حملے کے بعد بد ترین اقتصادی بد حالی کا شکار جاپان آج دنیا کی ممتاز اقوام میں شامل ہے تو اس کے پیچھے بھی تعلیمی انقلاب کا ہی ہاتھ ہے ۔

جبکہ پاکستان دنیا کے 186ممالک میں تعلیم کے حوالے سے 167ویں نمبر پر کھڑا ہے۔ ایک ایٹمی قوت ہوتے ہوئے ہمارے لئے اس سے بڑا تضحیک اور شرم کا مقام کیا ہو سکتاہے ۔

پاکستان کو اگر ترقی کے راستے پر آگے بڑھانا ہے اور لارڈ میکالے کے جانشینوں کی ہمارے تعلیمی نظام کے خلاف جاری سازشوں کو ناکام کرنا ہے تو ہمیں ایک جاندار قومی تعلیمی پالیسی تشکیل دینے کے ساتھ میرٹ کی پامالی، تعلیمی اداروں میں سیاسی اثر و نفوذکا خاتمہ ، طلبہ تنظیموں پر مستقل پابندی ، شعبہ تعلیم میں چھپے جعلی ڈگری ہولڈر اور سیاسی بنیادوں پر بھرتی ہونے والے اساتذہ کی چھانٹی، تعلیمی فرقہ واریت کی بیخ کنی ، بار بار نصاب تعلیم میں ردو بدل کی حوصلہ شکنی کرنے کے ساتھ تعلیمی بجٹ میں نمایاں اضافہ کرنا ہوگا اور اساتذہ کی تربیت کے لئے مربوط ورکشاپس کا انعقادبھی یقینی بنانا ہو گا۔

علاوہ ازیں قومی زبان اردو کو ہر سطح پر نافذ کرنے کے حوالے سے 8 ستمبر 2015ء کو دئیے گئے سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل کرتے ہوئے نصاب تعلیم کو بھی قومی زبان میں تشکیل دینا حکومت اور ماہرین تعلیم کا فرض ہے، جس سے مسلسل مجرمانہ غفلت برتی جا رہی ہے۔

وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو اس طرف خصوصی توجہ مبذول کرنی چاہئے ۔سپریم کورٹ کا طبقاتی نظام تعلیم کے خاتمے کے لیے اٹھایا گیا حالیہ قدم بھی قابل تحسین ہے، جسے منطقی انجام تک پہنچنا چاہئے۔

مزید : رائے /کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...