حضرت امیرِ شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ (2)

حضرت امیرِ شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ (2)
 حضرت امیرِ شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ (2)

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

جہاں تک مختلف مکاتب فکر اور مسالک کا تعلق ہے شاہ صاحب کے دور میں فرقہ ورانہ تلخی اور باہمی کشمکش نہیں تھی کیونکہ شاہ صاحب سب کے ساتھ امت وحدہ کے سلوک کے داعی اور ساعی تھے۔

1953ء کی تحریک ختم نبوت کے دوران تمام علماء و مشائخ کو متفق اور مجتمع کرنے میں شاہ صاحب کا اہم کردار تھا چنانچہ تحریک کی مجلس عمل کا صدر بریلوی مکتب فکر کے مولانا سید محمد احمد قادری خطیب جامع مسجد وزیر خان لاہور کو منتخب کیا گیا تھا۔

ان کے دوش بدوش بریلوی، اہلحدیث اور شیعہ مسلک کی شخصیات اتحاد و یگانگت اور ملی وحدت کا مظاہرہ کرتے ہوئے شاہ صاحب کے ساتھ تھیں جن میں سے جمعیتہ علماء پاکستان کے بانی صدر مولانا عبدالحامد بدایونی، جمعیتہ اہلحدیث کے بانی صدر مولانا سید محمد داؤد غزنوی اور سیکرٹری جنرل مولانا محمد اسماعیل سلفی، مجلس تحفظ شیعہ کے بانی صدر علامہ کفایت حسین اور سیکرٹری جنرل مظفر علی شمسی تنظیم اہلسنت والجماعت کے بانی مولانا سید نور الحسن شاہ بخاری، جماعت اسلامی پاکستان کے بانی امیر مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی اور نائب امیر مولانا امین احسن اصلاحی کے اسماء گرامی خصوصاً قابل ذکر ہیں۔

ان میں سے بعض شخصیات جزوی طور پر طریق کار میں اختلاف رکھنے کے باوجود ملت کے اجتماعی مفاد کی خاطر شیر و شکر اور باہمدگر شانہ بشانہ سرگرم عمل تھیں۔

علمی و ادبی شخصیات :دینی اور مسلکی شخصیات کے ساتھ ساتھ برصغیر کے ممتاز اور نامور علمی و ادبی شخصیات بھی امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کی عظمت کی معترف اور شاہ صاحب بھی ان کے ساتھ اعزاز و اکرام کا سلوک اور احترام کا مظاہرہ کیا کرتے تھے، ان میں سے مولانا ابو الکلام آزاد، مولانا محمد علی جوہر، مولانا ظفر علی خان، چودھری افضل حق، نوابزادہ نصراللہ خان، انور صابری، آغا شورش کاشمیری، ماسٹر تاج الدین انصاری، مظہر علی اظہر، شیخ حسام الدین، مولانا بہاء الحق قاسمی، علامہ طالوت ملتانی، محض علم و ادب کے زیرعنوان جن شخصیات کو شاہ صاحب کے شرکاء محفل ہونے اور شمع محفل کے روشنی سے مستنیر ہونے کی سعادت نصیب ہوئی ہے ان میں سے سردار عبدالرب نشتر، حفیظ جالندھری، مولانا غلام رسول مہر، صوفی غلام مصطفی تبسم، غلام قادر گرامی، فیض احمد فیض، ایم ڈی تاثیر، عظامی ہوشیار پوری، عبدالمجید سالک، ڈاکٹر سید عبداللہ، مولانا مرتضیٰ احمد خاں میکش، نصراللہ خان عزیز، سعید احمد اکبر آبادی، مولانا ابو القاسم رفیق دلاوری، مولانا وارث کامل، پطرس بخاری، حکیم محمد حسن قرشی، مسعود کھدر پوش، احسان دانش، مختار مسعود، احمد ندیم قاسمی، سید سبط حسن، چراغ حسن حسرت، حافظ لدھیانوی، ساغر صدیقی، سید انور حسین نفیس رقم، مولانا محمد اسحاق بھٹی، علامہ حسین میر کاشمیری، مجیب الرحمن شامی، سائیں محمد حیات پسروری، حفیظ رضا، احمد سعید اختر مرزا، علامہ ارشد بہاولپوری، چودھری ظہور الٰہی، امین گیلانی، عاصی کرنالی، علامہ شریف جالندھری، حبیب جالب اور دوسری شخصیات کے اسماء گرامی قابل ذکر ہیں۔ شاہ صاحب کی مجلس میں علم و آگہی، سیاست و فراست اور شعرو ادب ہر موضوع پر اظہار خیال ہوتا تھا شعر گوئی اور شعر فہمی میں شاہ صاحب خوب دسترس اور مہارت کے مالک تھے، ان کا کلام فارسی اور اردو زبان میں ہوتا تھا، بطور نمونہ از خروارے نعتیہ کلام درج ذیل ہے:

لولاک ذرہ ز جہان محمدؐ است

سبحان من یراہ چہ شان محمدؐ است

سیپارہ کلام الٰہی خدا گواہ

آں ہم عبارتے ز زبان محمدؐ است

ناز و بنام پاک محمدؐ کلام پاک

نازم بآں کلام کہ جانِ محمدؐ است

توحید را کہ نقطہ پرکار دین است

دانی؟ کہ نکتہ ز بیانِ محمدؐ است

بہرحال امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ علم و فضل کی اعلیٰ قدروں کی حامل ایک اسی باغ و بہار شخصیت تھے کہ ایک مرتبہ ان سے ملاقات کا شرف حاصل کرنے والا ان کا گرویدہ ہو کر رہ جاتا تھا لیکن آج :

آں قدح بشکست و آن ساقی نہ ماند

امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ جب کبھی علامہ اقبالؒ سے ملاقات کو جاتے تو شاہ صاحب کو دیکھتے ہی علامہ صاحب اپنے خادم علی بخش سے فرماتے، وضو کے لئے پانی لاؤ، شاہ صاحب آ گئے ہیں، ان سے تلاوت قرآن سنیں گے، پھر شاہ صاحب کی فرمائش پر علامہ اقبالؒ اپنا کلام سناتے اور بعد ازاں شاہ صاحب کی وجد آفریں تلاوت سن کر علامہ اقبالؒ بے خود ہو جاتے اور محویت طاری ہو جاتی تھی۔ شاہ صاحب کی اس علمی و ادبی محفل آرائی میں طنز و مزاح کے بھی شگوفے پھوٹتے تھے چنانچہ 1953ء کی تحریک ختم نبوت کے دوران شاہ صاحب اپنے میزبان حاجی مولانا بخش سومرو (سابق وفاقی وزیر بحالیات) کی رہائش گاہ متصل مزار قائداعظمؒ میں قیام پذیر تھے، نماز مغرب کے بعد شاہ صاحب اپنے معمول کے مطابق اور اوراد و وظائف میں محو تھے کہ عبدالمجید سالک اور مجید لاہوری کمرے میں داخل ہوئے تو شاہ صاحب کو دیکھتے ہی سالک نے یہ شعر پڑھا:

برزباں تسبیح در دل گاؤ خر

این چناں تسبیح کے دار و اثر

شاہ صاحب نے سنتے ہی خاموشی کے ساتھ ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ سر ہلایا اور بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ راقم الحروف، شاہ صاحب کے بڑے فرزند مولانا سید عطاء المنعم شاہ بخاری اور حاجی مولا بخش صاحب قریب ہی بیٹھے تھے۔ حضرت شاہ صاحب نے اوراد و وظائف سے فراغت کے بعد سالک صاحب کی جانب متوجہ ہو کر فرمایا، ہاں سالک صاحب! اس وقت جب تم دونوں کمرے میں داخل ہوئے تو گاؤ اور خرکا تصور ہی تھا۔

مجید لاہوری طنز و مزاح میں یگانہ روزگار تھے فوراً ہاتھ جوڑ کر بول اٹھے شاہ جی! میں تو آپ کی گائے ہوں (یعنی سالک ’’خر‘‘ ہیں) اس پر سالک صاحب کھسیانے ہو کر رہ گئے اور مجلس قہقہوں سے کلیوں کی مانند چٹک گئی۔

ساحر لدھیانوی کو شعر کا عطیہ: امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ جہاں خطابت کے امام اور یگانہ روزگار تھے وہاں شعر گوئی اور شعر فہمی میں بھی کمال دسترس رکھتے تھے، علامہ طالوت ملتانی شاہ صاحب کے اشعار کے مصلح اور اس فن میں استاد تھے۔ فیض احمد فیض کا قول ہے کہ ہمیں تو شعر کے حسن کا اندازہ شعر کی داد دیتے وقت شاہ صاحب کے جنبش لب سے ہوتا ہے۔

شاہ صاحب کے اشعار کا مجموعہ کلام سواطح الالہام کے نام سے 1955ء میں نادیۃ الادب الاسلامی ملتان کی طرف سے شائع ہوا تھا، اس میں شاہ صاحب کی شعر گوئی کا ایک واقعہ لکھا ہے کہ 1944ء میں جن دنوں قحط بنگال کے باعث پورا ملک مغموم تھا تو مشہور شاعر ساحر لدھیانوی نے اس عنوان سے ایک دل ہلا دینے والی نظم لکھی جو کسی اخبار میں شائع ہوئی، شاہ صاحب نے اس کے ایک شعر پر خوب داد دی۔

ملیں اسی لیے ریشم کے ڈھیر بنتی ہیں

کہ دختران وطن تار تار کو ترسیں

شاہ صاحب نے اسی بحر میں اپنا شعر لکھا:

چمن کو اس لیے مالی نے خوں سے سینچا تھا

کہ اس کی اپنی نگاہیں بہار کو ترسیں

امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ ان دنوں امرتسر میں رہائش پذیر تھے، سفر سے واپس گھر پہنچے کہ ایک روز ساحر لدھیانوی، آغا شورش کاشمیری اور مشہور کمیونسٹ لیڈر غالباً فیروزدین منصور کے ہمراہ شاہ صاحب سے ملاقات کو حاضر ہوئے تو شاہ صاحب نے ساحر لدھیانوی کو اپنا یہ شعر ہدیہ کر دیا جو ان کے مجموعہ کلام تلخیاں کی اسی نظم میں شریک اشاعت ہے۔

گفتگو میں نکتہ آفرینی: بہرحال امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کی شخصیت قدرت کاملہ کی ایک نشانی تھی، ان کا چہرہ مہرہ پاکبازوں کا آئینہ دار، ان کا انداز خطاب سحر آفریں، ان کا تکلم شیریں اور نکتہ آفریں، ان کی تلاوت قرآنی کیا تھی۔ ایک جادو اور سحر تھا کہ لوگ دیوانہ وار سننے کو آتے، صرف مسلمان ہی نہیں ہندو و سکھ مرد، عورتیں بھی جلسہ گاہ میں کشاں کشاں آتے تھے۔

شاہ صاحب عجیب انداز اور ادیبانہ پیرائے میں خطاب کرتے تو سامعین جھوم جھوم جاتے، شاہ صاحب جب پہاڑوں کی فلک بوس چوٹیوں، آبشاروں کے بہاؤ، ہواؤں کی سرسراہٹ، دیواروں کی خاموشی اور درختوں کے گھنے سائے کا ذکر چھیڑتے تو مجمع کی حالت دیدنی ہوتی تھی، پھر مجمع کی خاموشی اور سناٹا دیکھ کر خود ہی فرماتے بول میری قوم! یہ خاموشی کیوں ہے؟

پھر گھنگھریالے بال جھٹکتے ہوئے گرجدار آواز میں کہتے ہائے، کیا کروں؟ اور کسے سناؤں مجھے تو کبھی یوں محسوس ہوتا ہے گویا قبرستان میں اذان دے رہا ہوں۔

شاہ صاحب سے ایک مجلس میں کسی نے دریافت کیا، شاہ جی! کیا مردے بھی سنتے ہیں؟ آپ نے برجستہ فرمایا! ہاں بھائی سنتے ہوں گے، جس کی سنتے ہوں گے میری تو زندہ نہیں سنتے۔

راقم الحروف ایک روز ملتان میں امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کی خدمت میں حاضر تھا کہ شاہ صاحب روٹی کے باریک ٹکڑے کرکے آ۔ آ۔ آ۔ کہہ کر مرغیوں کو پکارنے لگے یکایک شاہ صاحب نے میری جانب متوجہ ہو کر فرمایا، کیوں بیٹا؟ بات سمجھ میں آ گئی؟

میں نے اپنی قوم اور امت مسلمہ کے ایک ایک فرد کے سامنے لیلاً و نہاراً (رات دن) قرآن کریم سنایا، محسن انسانیت سیدنا رسول اللہؐ کا پیغام ان تک پہنچایا، عقیدہ ختم نبوت میں گھر گھر، قریہ قریہ، بستی بستی، راس کماری سے خیبر کی وادی اور طورخم کی پہاڑیوں تک ہر جگہ بیان کیا۔

قرآن سناتے سناتے میرے بالوں میں سفیدی آ گئی مگر اس قوم کے دلوں کی سیاہی دور نہ ہو سکی، میری آواز پر یہ گنگی مخلوق تو دیوانہ وار لپک کر آتی ہے۔ میں اس کے لئے خطیب اعظم ہوں یا اس قوم کے لیے؟

پتا پتا بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے

جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے

مزید : رائے /کالم