میڈیا اور پاکستان کا مثبت تاثر

میڈیا اور پاکستان کا مثبت تاثر

سوشل میڈیا پر جناب مجیب الرحمن شامی کا ایک اسٹیٹس نظر سے گذرا جس نے بہت کچھ سوچنے پر مجبور کردیا، وہ کہتے ہیں: ’’امام کعبہ یہاں آئے ہوئے ہیں، ان سے ملاقات ہوئی، پاکستانی میڈیا کو انہوں نے سچ کا ساتھ دینے اور سچ کی کھوج لگانے کی نصیحت کی، سعودی سفیر بھی وہاں موجود تھے، انہوں نے ایک ایسی بات کہی کہ سن کر ہم شرمسار رہ گئے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی میڈیا کو اپنے بارے میں کچھ غور ضرور کرنا چاہئے۔ سعودی سفیر نے کہا کہ ہمارے جو دوست باہر سے آتے ہیں، ان سے ہم پوچھتے ہیں کہ پاکستان کے بارے میں ان کی رائے کیا ہے؟ تو وہ جواباً پوچھتے ہیں آنے سے پہلے یا آنے کے بعد؟

کہتے ہیں کہ میڈیا کے ذریعے جو پاکستان دیکھتے تھے، یہاں آکر دیکھا تو بہت مختلف پایا، ہمارا ہی میڈیا اس قوم کا اتنا منفی تاثر پھیلا رہا ہے‘‘۔۔۔ اب اس بات کا راوی کوئی اور ہوتا تو کہا جاتا کہ وہ میڈیا کی آزادی کے خلاف بات کررہا ہے، یا اسے میڈیا کی ترقی ہضم نہیں ہورہی، لیکن یہ بات مجیب الرحمن شامی صاحب نے کی، جو پاکستان میں میڈیا کی آزادی کے سب سے بڑے داعی ہیں اور خود ان کی شخصیت پاکستان میں آزاد صحافت کی ایک مضبوط دلیل سمجھی جاتی ہے۔ انہوں نے سعودی سفیر کے تاثر کو بیان کرکے پاکستانی میڈیا کے ایک بہت بڑے نقص کی نشاندہی کردی ہے۔

گویا ہمارا میڈیا پاکستان کی جو تصویر پیش کررہا ہے، اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ جب باہر سے لوگ یہاں آتے ہیں تو انہیں میڈیا کے دکھائے ہوئے پاکستان اور حقیقی پاکستان میں زمینی آسمان کا فرق نظر آتا ہے۔

سعودی عرب کے سفیر نے جس طرف اشارہ کیا ہے، ہمارے بیرون ملک رہنے والے اکثر پاکستانی اور عزیز و اقارب پاکستان آنے پر اسی حیرت کا اظہار کرتے ہیں۔

یہ اسی میڈیا کی تصویر کا کیا دھرا ہے کہ پاکستان میں بیرون ملک سے ٹیمیں میچ کھیلنے نہیں آتیں، حالانکہ یہاں حالات بالکل نارمل ہیں اور ایسی کوئی بات نہیں، جسے خطرے کی علامت سمجھا جائے۔

واقعات تو امریکہ میں بھی ہوجاتے ہیں اور سینما گھر میں گھس کر پچاس سے زائد لوگوں کو مار دیا جاتا ہے، مگر امریکہ کا میڈیا ایسی تصویر پیش نہیں کرتا کہ پورے امریکہ کو بد امنی کا گڑھ ثابت کرے۔

ہمارا مسئلہ دہری مشکل ہے، جب کوئی واقعہ ہوتا ہے تو اسے مغربی و بھارتی میڈیا بھی ہمارے خلاف اچھالتا ہے اور خود ہمارا میڈیا بھی یہی کچھ کررہا ہوتا ہے۔

خبر کے اس زاویے کو دبا دیا جاتا ہے کہ ملک میں قانون نافذ کرنے والے ادارے متحرک ہیں، قربانیاں دے رہے ہیں، اور بد امنی میں ملوث افراد کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جارہا ہے۔

پاکستانی معاشرہ عمومی طور پر ترقی پسند اور لبرل معاشرہ ہے، روشن خیالی ہر سطح پروان چڑھ رہی ہے، لیکن مغربی میڈیا تو خیر اس مشن پر ہے کہ پاکستان کو ایک رجعت پسند اور مذہبی جنونیت میں مبتلا معاشرہ ثابت کرے۔ وہ کبھی ہمیں طالبان سے جوڑتا ہے اور کبھی دھرنوں کے حوالے سے پاکستانی معاشرے کو مذہبی انتہا پسندوں کا یرغمالی ثابت کرتا ہے۔

ستم ظریفی یہ ہے کہ خود ہمارا میڈیا بھی یہی کررہا ہوتا ہے۔ اسلام آباد کے دھرنے کو لمحہ بہ لمحہ براہ راست دکھانے کی کیا ضرورت تھی، خادم حسین رضوی کے مغلظات میں لتھڑے مطالبات کیوں دکھائے جاتے رہے؟ کیا اس دلیل کو مان لیا جائے کہ میڈیا تو ایک آئینہ ہوتا ہے، اسے ہر طور پر سب کچھ دکھانا ہوتا ہے۔۔۔ نہیں صاحب نہیں، دنیا میں کہیں بھی ایسا نہیں ہوتا کہ قومی مفادات کے خلاف بھی نشریات چلائی جائیں۔ بھارت کا میڈیا ہمارے میڈیا کلپس دکھا کر دنیا میں ہمارے ہی خلاف پروپیگنڈہ کرتا ہے۔ پاکستانی ریاست کی کمزور رٹ کو اجاگر کرکے بالآخر تان اس نکتے پر توڑتا ہے کہ پاکستان کا نیوکلیئر پروگرام انتہا پسندوں کے ہاتھ لگ سکتا ہے۔

اگر کوئی امریکہ میں جرائم کی شرح نکالے تو پاکستان میں جرائم اسے آٹے میں نمک کے برابر نظر آئیں گے، لیکن یہ امریکی میڈیا کا کمال ہے کہ وہ ایسے معاملات کو صرف پولیس تک محدود رکھتا ہے اور ہمارے میڈیا کا کمال یہ ہے کہ ذرے کو بھی پہاڑ بنا کر پیش کرتا ہے۔

کراچی جیسے اڑھائی کروڑ آبادی کے شہر میں موبائل چھیننے یا گاڑیاں لے جانے کے دو واقعات ہوجائیں تو بریکنگ نیوز یہ چلتی ہے کہ کراچی پھر ڈاکوؤں اور لٹیروں کے نرغے میں۔ اس خبر سے یوں لگتا ہے کہ جونہی آپ کراچی ایئر پورٹ سے باہر نکلیں گے، لائن میں کھڑے ہوئے ڈاکو اور لٹیرے آپ پر کود پڑیں گے۔

میرا ایک دوست وقار بھٹی شکاگو میں ٹیکسی چلاتا ہے، وہ بتاتا ہے کہ شہر کے کئی علاقے ایسے ہیں جہاں ہم ٹیکسی لے جاتے ہوئے ڈرتے ہیں، وہاں بندہ مارنا معمولی بات ہے اور لوٹ مار کرنا تو کسی شمار قطار میں نہیں آتا، مگر اس کے باوجود شکاگو کا میڈیا شہر کو جنت نظیر بنا کر پیش کرتا ہے۔

امریکہ جانے والے شکاگو ضرور جانا چاہتے ہیں، کیونکہ چند واقعات کی بناء پر شہر کا نقشہ ایسا نہیں بنایا گیا کہ جیسے چند وارداتوں کے بعد میڈیا کراچی یا لاہور کا نقشہ پیش کرتا ہے۔

باہر رہنے والے کچھ دوست بتاتے ہیں کہ پچھلے کچھ عرصے میں زینب کیس کے بعد جس طرح میڈیا نے بچوں پر مظالم کا طوفان برپا کیا اور ایسی منفی رپورٹنگ کی، جیسے پورے ملک میں بچوں کا گھروں سے نکلنا ختم ہوگیا ہے، سکولوں میں حاضری کم ہوگئی ہے اور جنسی درندے گویا سڑکوں پر سرعام دندناتے پھر رہے ہیں۔

واقعات ضرور ہوئے، مگر ایسا بھی نہیں کہ معاشرہ جنگل بن گیا ہو، قانون نام کی کوئی چیز نہ رہی ہو، پولیس اور دیگر ادارے بے بسی کی تصویر بن گئے ہوں۔ خود یورپ اور امریکہ میں ہر سال جنسی زیادتی کے ہزاروں واقعات ہوتے ہیں، مگر وہاں میڈیا ذمہ داری کا مظاہرہ کرتا ہے۔

جنہوں نے جرم کیا ہوتا ہے، ان کی خبر دیتا ہے اور اپنے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بے بس ثابت کرنے کی بجائے طاقتور بناکر پیش کرتا ہے تاکہ احساسِ تحفظ بھی موجود رہے اور جرائم پیشہ افراد کی حوصلہ شکنی بھی ہو۔ یہاں پہلا وار پولیس پر کیا جاتا ہے، خبروں کا انداز کچھ ایسا ہوتا ہے کہ پولیس بری طرح ناکام، ملزمان دندناتے پھر رہے ہیں یا قاتل چھلاوا بن گیا ہے، پولیس کی گرفت میں نہیں آرہا، حالانکہ دیکھا جائے تو پولیس نے ہر ہائی پروفائل کیس کو حل کیا ہے۔

زینب کیس کا قاتل پکڑا گیا، ادھر معصوم عصمہ کے ساتھ ساتھ مردان میڈیکل کالج کی طالبہ عاصمہ کا قاتل بھی ابو ظہبی سے گرفتار ہوگیا،۔ واقعات کو اگر اس طرح پروجیکٹ کیا جائے کہ ان میں مجرمانہ ذہنیت رکھنے والوں کو کشش محسوس ہو تو یہ بہت بڑی غلطی ہے۔ جب سے ٹی وی چینلوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے تو مقابلے کی اندھی دوڑ میں سنسنی کو خبروں میں خصوصی اہمیت دی جانے لگی ہے۔

کسی استاد نے بچے کو ڈنڈے مارے تو اسے بریکنگ نیوز کے طور پر اس طرح چلایا جائے گا، جیسے یہ جرم اجتماعی طور پر تمام اساتذہ کررہے ہیں، پھر ایک بار نہیں، بلکہ دن کے تمام نیوز بلیٹنز میں یہ خبر دکھائی جاتی رہے گی، اگر ننانوے فیصد سکولوں میں ایک کام نہ ہورہا ہو اور ایک فیصد میں سے کسی ایک واقعہ کو اس طرح بڑھا چڑھا کر پیش کیا جائے تو خاص طور پر بیرون ملک رہنے والے یہی سمجھیں گے کہ پاکستان میں اساتذہ بھی ظالم بن گئے ہیں۔

ایک طرف بچوں کا جنسی استحصال ہورہا ہے اور دوسری طرف انہیں اساتذہ کے مظالم کا سامنا ہے، حالانکہ زمینی حقائق اس سے قطعاً مختلف ہیں۔۔۔ کیا المیہ ہے کہ ہمیں غیر یہ بتا رہے ہیں کہ ہم اپنے مثبت معاشرے کی منفی تصویر پیش نہ کریں۔

مجیب الرحمن شامی صاحب کی وساطت سے سعودی سفیر کا جو دردمندانہ مشورہ ہم تک پہنچا ہے، ہمیں اس پر ضرور غور کرنا چاہئے، انہوں نے پاکستانی میڈیا کو سچ کا ساتھ دینے اور سچ کا کھوج لگانے کی جو تلقین کی ہے وہ ایک مخلص دوست کا قابل قدر مشورہ ہے۔

الیکٹرانک میڈیا میں بیٹھا ہر شخص اپنے مطلب کی تیر اندازی کررہا ہے، ریٹنگ کے بخار میں مبتلا ہوکر سب کچھ بھلا دیا جاتا ہے، حالانکہ کچھ بھی ہو، میڈیا کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ معاشرے میں خوف اور عدم تحفظ کا احساس نہ پھیلنے دے۔ خبر ضرور دے، مگر اس سے یہ تاثر نہ ابھرے کہ جیسے معاشرہ قاتلوں، جنسی درندوں، دہشت گردوں اور مافیاز کے رحم و کرم پر ہے اور ریاستی ادارے بالکل ناکام ہوچکے ہیں۔

دنیا کو میڈیا کے ذریعے ایک پُرامن، خوشحال اور فلاحی پاکستان کا پیغام ملنا چاہئے نہ کہ وہ جس کی طرف سعودی سفیر نے اشارہ کیا ہے۔

مزید : رائے /کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...