ہسپتالوں میں فنڈز ختم اراکین اسمبلی کو مفت ادویات کی فراہمی روک دی گئی

ہسپتالوں میں فنڈز ختم اراکین اسمبلی کو مفت ادویات کی فراہمی روک دی گئی

 لاہور (جاوید اقبال) صوبائی دارالحکومت میں واقع ہسپتالوں میں فنڈز ختم ہونے سے اراکین اسمبلی اور ان کے اہل خانہ کو مفت ادویات کی فراہمی روک دی گئیں۔ اراکین اسمبلی اور ان کے اہل خانہ کو ماہانہ آؤٹ ڈور کی بنیاد پر کروڑوں روپے کی مفت ادویات فراہم کی جاتی ہیں جس کا سب سے زیادہ بوجھ سروسز ہسپتال اٹھا رہا ہے جہاں سے اراکین اسمبلی اور ان کے اہل خانہ ماہانہ بنیادوں پر 2 کروڑ سے زائد کی مفت ادویات فراہم کی جاتی ہیں اور کہا جاتا ہے کہ سروسز ہسپتال میں لوکل پرچیز سے ادویات کی خریداری کے لئے مختص بجٹ کا 70 سے 80 فیصد اراکین اسمبلی کو ادویات دینے پر خرچ ہو جاتا ہے۔ دوسری طرف دیگر ہسپتالوں میں بعض اراکین اسمبلی اور ان کے اہل خانہ کو مفت ادویات ماہانہ بنیادوں پر دی جاتی ہیں مگر اس کے مقابلے میں غریب مریضوں کو عرصہ دراز سے آؤٹ ڈور میں لوکل پرچیز سے مفت ادویات کے دروازے بند ہیں مگر اراکین اسمبلی کو مفت ادویات فراہم کی جا رہی تھیں۔ بتایا گیا ہے کہ لوکل پرچیز سے ادویات کے فنڈز کا 80 سے 90 فیصد حصہ ختم ہو گیا ہے جس کے بعد ہسپتالوں کی انتظامیہ نے محکمہ صحت اور پنجاب اسمبلی سے اراکین اسمبلی اور ان کے اہل خانہ کو لوکل پرچیز کے تحت مفت ادویات کی فراہمی جاری رکھنے کے لئے مراسلے جاری کئے ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ ہستالوں میں ادویات کی لوکل پرچیز میں خریداری کا طریقہ کار طے ہے جس کے تحت ادویات کی خریداری کے لئے جو کل بجٹ مختص کیا جاتا ہے اس کا 25 فیصد بجٹ لوکل پرچیز کی خریداری کے لئے مختص ہوتا ہے مگر اس میں سے 70 سے 80 فیصد بجٹ کا حصہ اراکین اسمبلی ان کے اہل خانہ اور ایوان وزیراعلیٰ کے ملازمین پر خرچ ہو جاتا ہے اور اب یہ بجٹ خرچ ہو چکا ہے۔ لہٰذا اگر اراکین اسمبلی کو لوکل پرچیز سے ادویات کا سلسلہ جاری و ساری رکھنا ہے تو مزید بجٹ دیا جائے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بجٹ نہ ملنے کے باعث تمام ہسپتالوں نے اراکین اسمبلی اور ان کے اہل خانہ کو لوکل پرچیز سے آؤٹ ڈورز کی بنیاد پر مفت ادویات کی فراہمی کا سلسلہ بند کر دیا ہے جس کے خلاف اراکین اسمبلی شکایات لے کر سپیکر کے پاس پہنچ گئے ہیں۔ اس حوالے سے ہسپتالوں کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ لوکل پرچیز کے فنڈز سے بڑا حصہ اراکین اسمبلی اور ان کے اہل خانہ کو مفت ادویات فراہم کرنے پر خرچ ہو چکا ہے باقی بجٹ نہیں بچا جس کے باعث مجبوراً ادویات کا سلسلہ روک دیا ہے آگے جو بجٹ باقی بچا ہے وہ بھی اراکین اسمبلی پر خرچ کر دیں گے تو ہسپتال چلانے مشکل ہو جائیں گے۔

مزید : میٹروپولیٹن 1