ملک ایک تو گیس کی دو قیمتیں کیوں؟

ملک ایک تو گیس کی دو قیمتیں کیوں؟

توانائی کے بحران کی وجہ سے پنجاب میں ٹیکسٹائل ملوں کی حالت زار پر ایک رپورٹ

پنجاب کی ٹیکسٹائل انڈسٹری گزشتہ پانچ برسوں سے سسک سسک کر ایڑیاں رگڑ رہی ہے کیونکہ اسے حکومت کی اکنامک بیڈ گورنینس کا خمیازہ بھگتنا پڑرہا ہے۔ نومبر 2007سے ملک میں بجلی کے بحران کا آغاز ہوا تو پنجاب کی ٹیکسٹائل انڈسٹری کی پہلی موت واقع ہوئی۔ اس وقت بہت سے ایسی ٹیکسٹائل ملیں جن کا سارا دارومدار بجلی کی دستیابی پر تھا ، ہانپنا شروع ہو گئیں ، ان کے مزدورں کی نوکریاں خطرے کا شکار ہو گئیں کیونکہ بجلی کی عدم دستیابی کے سبب ملوں کو ایک یا دو شفٹیں بند کرکے کام کرنا پر رہا تھا۔ واضح رہے کہ ٹیکسٹائل انڈسٹری ہفتے سات دن اور 24 گھنٹے کام کرتی ہے ، یہاں پر چھٹی کا تصور محال ہے اور ایک دن بھی مل بند ہونے کا تصور نہیں کر سکتی ہے ، سال کے 365دن یہ ملیں بلا تعطل پیداواری عمل میں مصروف رہتی ہیں ، حتیٰ کہ عید شب برات کے موقع پر بھی ملوں میں بندش نہیں ہوتی اور مزدور متبادل دنوں میں چھٹی کرتے ہیں۔ ایک انڈسٹری جو ایک لمحے کے لئے بھی بند ہونے کا تصور نہیں کرسکتی ، بجلی کے پیدا ہونے والے بحران کے سبب اسے ایک یا دو شفٹیں یومیہ بند کرکے کام کرنا پڑا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ مزدورں کی مزدوریاں ختم ہوگئیں اور ان کے گھروں کے چولہے بند ہو گئے ، بڑی بوڑھیاں ہنڈیا توے سروں پر اٹھائے احتجاج کرنے نکل کھڑی ہوئیں اور پنجاب کی ٹیکسٹائل انڈسٹری تماشہ بن گئی۔

اس عالم میں پاکستان کی ٹیکسٹائل انڈسٹری کو گوہر اعجاز کی صورت میں بے مثال قیادت مل گئی جس نے ٹیکسٹائل انڈسٹری کی بحالی کے لئے دن رات ایک کردیا ، یار لوگوں کا کہنا ہے کہ اتنی محنت اگر وہ کسی حلقے سے الیکشن لڑنے میں کرتے تو آج وزارت عظمیٰ کے سنگھاسن پر براجمان ہوتے۔ خیر گوہر اعجاز نے 2008کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت سے کامیاب مذاکرات کرکے بجلی اور گیس کی ملی جلی سپلائی کو یقینی بنا کر آئے روز ملوں کی بندش کو بریک لگائی ۔ اس دوران انہیں ملوں کے سامنے احتجاج بھی کرنے پڑے، اپٹما ہاؤس پر امپورٹڈ بھارتی دھاگے کو آگ لگانی پڑی اور سوئی نادرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ کے دفتر کے سامنے دھرنا دینا پڑا ۔ اس وقت کے صدر آصف زرداری نے پنجاب میں جاری ٹیکسٹائل انڈسٹری کے بحران پر گہری توجہ دی اور اپنے بجلی اور سوئی گیس کے وزراء کو خاص طور پر ہدایات جاری کیں کہ پنجاب میں ٹیکسٹائل انڈسٹری کا پہیہ رواں دواں رہنا چاہئے۔ صدر زرداری کی دلچسپی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ انہوں نے ایوان صدر میں اپٹما کے سالانہ ڈنر کا اہتمام کیا اور اپنی تقریر میں اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ پنجاب میں ٹیکسٹائل انڈسٹری کو بند نہیں ہونے دیں گے ۔ اس وقت عام طور پر خیال کیا جاتا تھا کہ پاکستان کی ٹیکسٹائل انڈسٹری میں لگ بھگ ڈیڑ ھ کروڑ مزدور کام کرتے ہیں اور پاکستان کی کل ٹیکسٹائل انڈسٹری کی ستر فیصد ملیں پنجاب میں لگی ہوئی ہیں اس لئے یقینی طور پر 2013کے عام انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی کو پذیرائی ملے گی کیونکہ انہوں نے پنجاب میں ٹیکسٹائل ملوں کی بندش کے راستے میں رکاوٹ کھڑی کی تھی اور اس امر کو یقینی بنایا تھا کہ صوبے میں ٹیکسٹائل ملیں ہر حال میں چلتی رہیں۔ اس میں کوئی شک بھی نہیں ہے کہ ان کی جانب سے کئے جانے والے اقدامات کے نتیجے میں پنجاب میں ملوں کی بندش کا معاملہ رک گیا، بجلی اور گیس کی سپلائی سے ملیں دوبارہ پوری صلاحیت اور پیداواری اہلیت کے ساتھ چلنے لگیں اور مزدوں کی مزدوری کا اہتما م ہوا لیکن اس کے باوجود پنجاب میں بجلی کا بحران اس قدر شدت اختیار کر چکا تھا کہ ٹیکسٹائل انڈسٹری کے مزدوروں کی فوج ظفر موج سے زرداری صاحب کو ووٹ ملا ہو یا نہ ملا لیکن پنجاب کے عوام نے عمومی طور پر ان کی بجائے نون لیگ کو ترجیح دی ، حتیٰ کہ جنوبی پنجاب میں بھی پیپلز پارٹی کا صفایا ہوگیا ، حالانکہ تاریخی طور پر سمجھا جاتا ہے کہ جنوبی پنجاب ہر حال میں پیپلز پارٹی کا گڑھ رہا ہے اور وہاں کے لوگوں نے کبھی پیپلز پارٹی سے بے وفائی نہیں ہے لیکن اگر وہاں سے بھی پیپلز پارٹی کو ووٹ نہ ملا تو اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ پنجاب کے عوام بجلی کے بحران سے کس قدر پریشان تھے کہ انہوں نے اپنی سیاسی وفاداریاں تبدیل کرنے میں بھی تردد نہ کیا۔ خاص طور پر پیپلز پارٹی کی جانب سے پارلیمنٹ میں صوبائی خودمختاری کو یقینی بنانے کے لئے 18ویں ترمیم پاس کی گئی تو آئین کے آرٹیکل 158کی عملداری یقینی ہو گئی جس کے مطابق کسی بھی صوبے سے دریافت ہونے والے قدرتی ماخذ کے استعمال کا پہلا حق اس صوبے کے عوام کا ہوگا۔ آئین کے اس آرٹیکل کی وجہ سے سندھ ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان سے نکلنے والی قدرتی گیس پر استعمال کا پہلا حق ان صوبوں کا صائب ٹھہرا اور چونکہ پنجاب میں گیس دریافت نہیں ہوئی ہے اس لئے یہاں پر گیس کی قلت شدت اختیار کرگئی ۔ علاوہ ازیں یہاں پر گیس کی قیمتیں بھی گیس کی ٹرانسپورٹیشن کے اخراجات کی وجہ سے باقی صوبوں کے مقابلے میں دوگنا ہوگئیں ۔ اس کے باوجود سابق صدر آصف زرداری اپنے تئیں بھرپور کوشش کرتے رہے کہ پنجاب کے عوام کو بالعموم اور انڈسٹری کو بالخصوص گیس کی قلت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

یہ تھا وہ توانائی کے محاذ پر پس منظر جس میں 2013کے عام انتخابات کا انعقاد ہوا جس میں اگرچہ پنجاب سے پیپلز پارٹی کا صفایا ہوگیا لیکن توانائی کا بحران سر اٹھا کر نون لیگ کی قیادت کی راہ تکنے لگا جس نے ملک سے لوڈ شیڈنگ کے اندھیرے ختم کرنے کا نعرہ لگایا تھا۔ اس میں شک نہیں کہ گھریلو ، صنعتی اور کاروباری مراکز میں بجلی کے بحران کے خاتمے کے لئے پنجاب حکومت نے ہر ممکنہ ذرائع سے بجلی پیدا کرنے کی کوشش کی اور لگ بھگ چھے سے سات بجلی کے منصوبے کھڑے کئے ۔ اس کے ساتھ ساتھ ملک میں سستی بجلی پیدا کرنے کے لئے قطر سے ری گیسیفائیڈ لیکوئڈ نیچرل گیس کی درآمد کا معاہدہ بھی کیاجس سے پاور سیکٹر، سی این جی سیکٹر اور ٹیکسٹائل انڈسٹری میں جاری انرجی کی قلت کو ختم کرنے کا پروگرام بنایا گیا۔ ایل این جی کے آجانے سے پنجاب میں بھی ٹیکسٹائل انڈسٹری وقتی طور پر بحرانی کیفیت سے باہر نکل آئی ۔ حکومت نے سسٹم گیس کے ساتھ ساتھ ایل این جی بھی پنجاب میں قائم ٹیکسٹائل ملوں کو فراہم کرنا شروع کردی اور یوں ملوں کا پہیہ دن رات چلنے لگا۔ جبکہ سندھ اور خیبر پختونخوا میں قائم ملوں کو سسٹم گیس تسلسل کے ساتھ ملتی رہی اور وہاں ایل این جی گیس کی ایسی خاص ضرورت نہ تھی۔ اس کے ساتھ حکومت نے گیس کی دستیابی کو ملک بھر میں یقینی بنانے کے گیس انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس کے نام پر جو ٹیکس لگایا تھا اس پر بھی سندھ کی ملوں نے عدالت عالیہ سندھ سے حکم امتناعی لے لیا جس سے وہاں گیس کی قیمت میں کمی واقع ہو گئی جبکہ پنجاب میں ایسا کوئی ریلیف نہ ملا۔

چونکہ ایل این جی کی قیمتیں تیل کی عالمی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ سے جڑی ہوئی تھی اور جب پاکستان نے ایل این جی کی درآمد شروع کی تب تیل کی قیمتیں عالمی منڈی میں انتہائی کم درجے پر آئی ہوئی تھیں اس لئے پنجاب میں ایل این جی کی فراہمی جن قیمتوں پر کی جا رہی تھی اس پر بھی انڈسٹری کے لئے منافع کمانا آسان تھا اور اپٹما کی تمام تر توجہ ان مسائل کی جانب تھی جو ملک میں ٹیکسٹائل کے شعبے میں سرمایہ کاری کی راہ میں رکاوٹ بنے ہوئے تھے۔ تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ایک طرف اگر عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ شروع ہوا اور دوسری جانب حکومت نے بین الاقوامی اداروں کے پریشر پر پاکستانی روپے کی ڈالر کے مقابلے میں گراوٹ کو مصنوعی روک کو ہٹالیا ۔ ان دو اقدامات سے پنجاب اورسندھ میں ایل این جی کی قیمتوں میں آدھو آدھ کا فرق پڑگیا اور آج سندھ میں اگر فی مکعب فٹ ایل این جی کی قیمت 600روپے ہے تو پنجاب میں یہی قیمت 1300روپے ہو چکی ہے ۔ ستم بالائے ستم یہ ہوا کہ موسم سرما میں شدت میں اضافے کے ساتھ ہی پنجاب میں قائم ٹیکسٹائل ملوں سے سسٹم گیس سپلائی کے کوٹے میں 28فیصد کمی کردی گئی اور ملوں کو اپنی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لئے ایل این جی پر انحصار بڑھانا پڑا اور یوں 2018میں ایک مرتبہ پھر پنجاب کی ٹیکسٹائل انڈسٹری اسی مقام پر جا کھڑی ہوئی جہاں 2008میں کھڑی تھی ۔ دیکھتے دیکھتے ہی ایک ایک کرکے ملیں بند ہونا شروع ہو گئیں اور مزدور دوبارہ سے بے روزگاری کا منہ دیکھنے لگے کیونکہ مل مالکان کے لئے مہنگی ایل این جی خرید کر ملیں چلانا بے وارا ہو گیا ۔ اپٹما کی قیادت ایک مرتبہ پھر احتجاجی پریس کانفرنسوں ، مذمتی بیانوں اور یوم سیاہ کی دھمکیاں دیتی نظر آرہی ہے ۔ اس صورت حال سے نپٹنے کے لئے اپٹما نے حکومت کے ساتھ ساتھ اپوزیشن کی سیاسی جماعتوں کی جانب بھی رجوع کیا اور جہاں پیپلز پارٹی کے سلیم مانڈوی والا پاکستان پیپلز پارٹی کی نمائندگی کرتے ہوئے اپٹما تشریف لائے وہیں پر پاکستان تحریک انصاف سے پہلے اسد عمر اور بعد میں عمران خان بنفس نفیس اپٹما پنجاب کے دفتر میں تشریف لائے اور پنجاب کی انڈسٹری کو درپیش مسائل پر ان کے احتجاج میں اپنی آواز شامل کی۔

صورت حال کو دیکھتے ہوئے حکومت کی جانب سے مشیر خزانہ ڈاکٹر مفتاح اسماعیل ،سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق اور وزیر تجارت پرویز ملک بھی بطور خاص اپٹما تشریف لائے ۔ ان کے علاوہ وزیر اعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی نے بھی اسلام آباد میں اپٹما کے وقت ملاقات کی اور انہیں مسائل کے حل کی یقین دہانی کروائی۔

اپٹما کی جانب سے ایک جاندار لابنگ کے نتیجے میں پنجاب میں سسٹم گیس کی 16فیصد بحالی ٹیکسٹائل ملوں کو کردی گئی ہے جس سے انڈسٹری نے کچھ حد تک سکھ کا سانس لیا ہے لیکن اس کے باوجود سندھ اور سرحد کے مقابلے میں اس کی پیداواری لاگت میں انرجی پرائس میں خاطر خواہ کمی واقع نہیں ہو سکی ہے اور پنجاب کی ٹیکسٹائل ملیں چیخ چیخ کر وفاقی حکومت کو مداخلت کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ یہی نہیں بلکہ پنجاب بھر سے ٹیکسٹائل انڈسٹری کی تمام نمائندہ تنظیموں نے ایک بھرپور اجلاس کا انعقاد کیا اور متفقہ طور پر طے کیا کہ صوبے بھر میں ہڑتال پر جانے سے پہلے ان کا ایک وفد وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف سے ملاقات کرے گا اور ان کی مداخلت کا خواہاں ہوگا تاہم تادم تحریر اطلاعات یہی ہیں کہ ابھی تک یہ ملاقات طے نہیں پا سکی ہے جس کا سبب ابتدا میں تو وزیر اعلیٰ پنجاب کی اچانک بڑھ جانے والی سیاسی مصروفیات تھیں اور بعد میں ان کی طبیعت ناساز ہوگئی جس سے ان کی تمام تر سیاسی مصروفیات کو کینسل کردیا گیا۔

ٹیکسٹائل انڈسٹری کے حلقوں کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت کو ایسے اقدامات یقینی بنانے چاہئے جس سے پنجاب میں قائم ٹیکسٹائل انڈسٹری کے لئے انرجی ، خاص طور گیس کی قیمتیں دیگر صوبوں کے مقابلے میں یکساں ہو سکیں اور اسی لئے انہوں نے ملک ایک تو گیس کی دو قیمتوں کا نعرہ بھی بلند کیا ہے ۔ اس حوالے سے اخبارات میں بڑے بڑے اشتہارات بھی فرنٹ اور بیک پیجز کی زینت بنے ہیں ۔ ان حلقوں کا مطالبہ ہے کہ وفاقی حکومت جس طرح بھی ممکن ہو پنجاب میں سسٹم گیس، ایل این جی اور بجلی کی قیمتوں میں یکسانیت کو یقینی بنائے ، خواہ اس کے لئے اسے ملک کے کسی ایک حصے کو سبسڈی بھی دینا پڑے تو دے ۔ ٹیکسٹائل حلقوں کا کہنا ہے کہ پاکستان کپاس کی پیداوار میں دنیا کا چوتھا بڑا ملک ہے اور یہاں پر مزید ویلیو ایڈڈ ٹیکسٹائل انڈسٹری کے قیام کے بڑے امکانات موجود ہیں۔ کم ازکم 1000نئے گارمنٹس اور ہوزری کے یونٹس آسانی سے لگائے جا سکتے ہیں جن سے ملکی برآمدات میں اضافہ ہوگا، زرمبادلہ کی کمائی ہوگی اور ملک میں روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ دیکھئے اب مرکزی حکومت انتخابات سے پہلے کوئی بڑا قدم لے کر اس انڈسٹری کے ڈیڑھ کروڑ مزدوروں کو اسی طرح رام کرنے کی کوشش کرتی ہے یا نہیں جس طرح 2013کے انتخابات سے قبل پیپلز پارٹی نے کی تھی۔

سرخیاں

سندھ میں فی مکعب فٹ ایل این جی کی قیمت 600روپے اورپنجاب میں 1300روپے ہے

کم ازکم 1000نئے گارمنٹس اور ہوزری کے یونٹس آسانی سے لگائے جا سکتے ہیں

پاکستان کپاس کی پیداوار میں دنیا کا چوتھا بڑا ملک ہے

پنجاب میں سسٹم گیس کی 16فیصد بحالی ٹیکسٹائل ملوں کو کردی گئی ہے

تصاویر

اپٹما

گوہر اعجاز

سپیکر قومی اسمبلی

آصف زرداری

ٹیکسٹائل ملیں

ایس این جی پی ایل

مزید : ایڈیشن 2

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...