برآمدات میں کمی کی وجہ زیادہ پیداوار لاگت ہے

برآمدات میں کمی کی وجہ زیادہ پیداوار لاگت ہے

خواجہ خاور رشید کا تعلق لاہور کے ایک معروف کاروباری گھرانے سے ہے جو لاہور اسکیم پرائیویٹ لمیٹڈ کے چیف ایگزیکٹو ہیں ان کے دادا کے بعد کیمیکل انڈسٹری میں ان کے والد محتر م نے خوب محنت اور لگن کے ساتھ کاروبار کو تقویت دی اور گزشتہ 32سال سے اپنے کاروبار کو نہ صرف لو کل سطح پر بلکہ بین الاقوامی مارکیٹوں میں بھی اپنے کاروبار کو ترقی کی منزل پر گامزن کر نے میں کامیاب ہو چکے ہیں ۔خواجہ خاور رشید کی صلاحیتوں اورتاجر برادری کی بہترین خدمات کومد نظر رکھتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ ن کی قیادت نے انہیں مسلم لیگ ن ٹر یڈرز ونگ پنجاب کا سینئر نائب صدر مقرر کیا جبکہ ان کی صنعتی و کاروباری صلاحیتوں پر اعتماد کرتے ہوئے انہیں سال 2017-18 کے لیے لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کا سینئر نائب صدر منتخب کیا گیا ہے۔ آپ فیڈریشن آف پاکستان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی ریجنل سٹینڈنگ کمیٹی برائے لاء اینڈ آرڈر کے چیئر مین ،سٹینزن پولیس بزنس لائیزن کمیٹی کے چیف ،پنجاب کیمیکل اینڈ ڈائیز مرچنٹ ایسو سی ایشن کے صدر،پاکستان ہانگ کانگ چیمبر آف کامرس کے ڈائریکٹر،صدر لاہور ایم جے ایم لائینز کلب ،سارک چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری ،پاک تر ک بزنس ایسو سی ایشن ،کنفیڈریشن آف ایشیاء اور پاکستان کیمیکلز اینڈ ڈائیز مر چنٹس ایسو سی ایشن کے لائف ممبر ہیں۔

روزنامہ پاکستان نے خواجہ خاور رشید سے لاہور چیمبر آف کامرس میں خصو صی انٹرویو کیا جو قارئین کی نظر ہے ۔جن کا کہنا ہے کہ پاک چائینہ اکنامک کوریڈور کے پراجیکٹ کو عملی جامہ پہنانے کے بعد خطے میں خوشحالی اور ملکی معیشت ترقی کی پٹری پر رواں ہو جائے گی تاہم ملک میں جاری سیاسی چپقلش نے بزنس کمیونٹی کو پریشان حال کر رکھا ہے تو دوسری جانب ایف بی آر کی جانب سے تاجروں کو ہراساں کر تے ہوئے چھاپوں کا سلسلہ سمیت بے جا ٹیکسز نے پیداورای لاگت میں اضافہ کر دیا ہے جس سے مہنگائی کے گراف میں اضافہ جبکہ متو سط طبقہ کی قوت خرید جواب دے چکی ہے ۔ملکی معیشت کی ترقی کا راز تاجروں کی فلاح میں پو شید ہ ہے جس کے لیے اقدامات اٹھانے ہو نگے مارکیٹوں اور بازاروں میں تجاوزات کا خاتمہ یقینی بنانا ہو گا جبکہ مال روڈ پر آئے روز دھرنے ، جلوسوں اور مظاہروں نے کاروبار پر منفی اثرات مرتب کر رکھے ہیں۔علاوہ ازیں وفاقی حکومت کی جانب سے بنکوں سے رقوم نکلوانے پر 0.6فیصد ود ہو لڈنگ ٹیکس کاروباری برادری پر تلوار بن کر لٹک رہا جس کو فی الفو ر ختم کر کے بزنس کمیونٹی کو ریلیف دیا جائے ۔

خواجہ خاور رشید نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ برآمدات میں کمی کی بہت سی وجوہات ہیں جن میں سرفہرست زیادہ پیداواری لاگت ہے لیکن میرا ذاتی خیال ہے کہ اس سلسلے میں بیرون ملک پاکستانی کمرشل سیکشنز کی سرد مہری اور برآمدات کے سلسلے میں چند ممالک پر انحصار نے بھی بہت اہم کردار ادا کیا ہے لہذا اس جانب خاص توجہ دینے کی ضرورت ہے۔برآمدات کے فروغ کے لیے پاکستان کو علاقائی تجارت کے فروغ اور ویلیو ایڈیشن کی طرف خاص توجہ دینا ہوگی۔ملک میں پیدا ہونے والے قیمتی و نیم قیمتی پتھروں اور نمک سمیت دیگر بہت سی معدنیات کو خام حالت میں ہی برآمد کردیا جاتا ہے جس سے ملک کو وہ فائدہ نہیں ہوتا جو ہونا چاہیے۔ پاکستان کو وسطیٰ ایشیائی ریاستوں کے ساتھ ریلوے لنک قائم کرنے چاہیئیں جس سے ان ریاستوں کے ساتھ تجارت میں اضافہ ہوگا۔ ماضی میں توانائی کا بحران حل کرنے کے لیے سنجیدہ کوششوں کے فقدان کا خمیازہ ملک بھر کے صنعتی و تجارتی شعبے کو بھگتنا پڑا ہے، توانائی کے بحران کی وجہ سے صنعتی پیداوار کم ہوئی جس کے منفی اثرات برآمدات پر واضح دیکھے جاسکتے ہیں مگر خوش آئند بات یہ ہے کہ حکومت کو زمینی حقائق کا بھرپور احساس ہے اور اْس نے بھکی، تھرپاور پلانٹ، جھنگ پاور پلانٹ اور بلوکی قصور پاور پلانٹ سمیت توانائی کی پیداوار کے دیگر منصوبے شروع کررکھے ہیں جن کی تکمیل کے بعد وافر بجلی دستیاب ہوگی۔ اگر ہم نے سستی اور وافر بجلی کی پیداوار یقینی نہ بنائی تو سرمایہ دیگر ممالک منتقل کرنے کا رحجان بڑھے گا جو کسی طرح بھی ملک کے مفاد میں نہیں۔نجی شعبے کو چاہیے کہ توانائی کے شعبے میں زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاری کرے جبکہ حکومت کو چاہیے کہ ان سرمایہ کاروں کو سہولیات دے۔ توانائی کے متبادل ذرائع کو فروغ دینے کے لیے وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کی کاوشیں قابل تحسین ہیں، دیگر صوبوں بھی اْن کی تقلید کرتے ہوئے متبادل ذرائع سے توانائی کی پیداوارکے منصوبے شروع کرنے چاہئیں۔ کچھ عرصہ قبل وزیراعظم میاں نواز شریف نے صنعتی شعبے کے لیے لوڈشیڈنگ ختم کرنے کا اعلان کیا ہے جس سے یہ بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ انہیں صنعتی شعبے کو درپیش مسائل سے اچھی طرح آگاہی ہے اور وہ انہیں جلد سے جلد حل کرنا چاہتے ہیں۔ لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری بھی اپنے فرائض سے بڑی اچھی طرح آگاہ ہے اور صنعت و تجارت کے استحکام اور ملک کی بیرونی تجارت کو فروغ دینے کی بھرپور کوشش کررہا ہے۔ اس کے علاوہ لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے پاکستان میں کاروبار کے لیے آسانیوں اور مشکلات کے متعلق تفصیلی رپورٹ کی تیاری پر کام شروع کردیا ہے جس کا مقصد کاروباری شعبے کو درپیش مسائل کی نشاندہی اور ان کا حل تجویز کرنا ہے۔ لاہور چیمبر کے عہدیداران صنعتی و تجارتی ایسوسی ایشنوں کے کے نمائندوں سے ملاقاتیں کرکے صنعت و تجارت کو درپیش مسائل اور آئندہ مالی سال کے لیے بجٹ تجاویز کی معلومات اکٹھا کررہے ہیں جنہیں لاہور چیمبر کی رپورٹ کا حصہ بنایا جائے گا۔ان کا کہنا تھا کہ لاہور چیمبر آف کامرس کی موجو د قیادت نے اپنے ممبران کی سہولت اور ریلیف دینے کے لیے لاہور چیمبر میں نادراسنٹر ، ایکسائز ، ڈرائیونگ لائسنس ، ایف بی آر اور سمیڈا ڈیسک لگائے گئے ہیں جہاں پر لاہور چیمبر کے ممبران بغیر کسی پر یشانی اور وقت کے ضیاع کے بغیر مذکورہ ڈیسکز سے بھر پور استفادہ حاصل کر تے ہوئے لاہور چیمبر کی ان کاوشوں کو سراہ رہے ہیں ۔ خواجہ خاور رشید نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت تاجر و صنعتی برادری کو درپیش مسائل کے خاتمہ کے لیے اقدامات اٹھائے اور ہماری سفارشات پر جلد عملدرآمد کروائے کیو نکہ تاجر معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ محاصل کا 90فیصد سے زائد ان ہی سے حاصل ہوتا ہے لہذاتاجروں کو خصوصی اہمیت اور مراعات ملنی چاہئیں تاکہ یہ معاشی ترقی میں حکومت کا ہاتھ بٹا سکیں لیکن صورتحال مختلف ہے۔ تاجروں کو مارکیٹوں میں بلاجواز چھاپوں ، صوابدیدی اختیارات کے غلط استعمال ، دھرنوں و احتجاجی مظاہروں کے ذریعے کاروباروں کی تباہی اور ناجائز تجاوزات جیسے مسائل نے جکڑ رکھا ہے۔ ایف بی آر اہلکار سیلز ٹیکس ایکٹ 1990کے سیکشن 38اور 40بی کا غط استعمال کررہے ہیں۔ان چھاپوں کا مقصد کوئی اصلاح نہیں بلکہ محض تاجروں کو پریشان کرنا ہے لہذا یہ فی الفور بند کیے جائیں۔ بینکوں سے لین دین پر ودہولڈنگ ٹیکس کالاقانون ہے، فی الفور ختم کیا جائے۔ بینکوں سے لین دین پر ودہولڈنگ ٹیکس عائد کرنے جیسے غیر منطقی فیصلوں کے بہت تباہ کن اثرات مرتب ہورہے ہیں کیونکہ اس کی وجہ سے بددل ہوکر تاجر بینکوں سے اپنا تمام سرمایہ نکال رہے ہیں۔ مال روڈ اور شہر کے دیگر مصروف مقامات پر دھرنوں اور احتجاج و جلسے جلوسوں نے کاروباری سرگرمیوں کو بہت بْری طرح متاثر کیا ہے۔ چند افراد کا ٹولہ آتا ہے اور احتجاج کے نام پر مال روڈ بند کردیتا ہے حالانکہ ہائیکورٹ نے یہاں مظاہروں و جلوسوں پر سخت پابندی عائد کررکھی ہے۔ تاجروں نے کاروبار مال روڈ اور ملحقہ مارکیٹوں سے اٹھاکر دیگرجگہوں پر منتقل کرنے شروع کردئیے ہیں۔ یہ تماشا اب تاجروں کے لیے قابل برداشت نہیں رہا لہذا پنجاب حکومت پولیس اور قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں کے ذریعے اس پابندی پر انتہائی سختی سے عمل درآمد کرائے۔ ناجائز تجاوزات ٹریفک کے سنگین مسائل کا سبب ہیں لہذا ان کا سدباب کیا جائے ، اس سلسلے میں تاجر وں کو خود بھی کردار ادا کرنا اور ناجائز تجاوزات سے گریز کرنا چاہیے۔ صنعت و تجارت سے متعلقہ قوانین سازی کے عمل میں تاجر برادری کو شامل مشاورت رکھا جائے۔

لاہور چیمبر آف کامرس کے سینئر نائب صدر خواجہ خاور رشید کا کہنا تھا کہ اگر پاکستان کی معیشت کو ایک عمارت سے تشبیہ دیں تو پھر بیرون ملک مقیم پاکستان وہ اہم ستون ہیں جو اس عمارت کا بنیادی سہارا ہیں ۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستان کی مجموعی آبادی کا تقریبا تین فیصد حصہ دوسرے ممالک میں مقیم ہے۔یہ لوگ پاکستان کا سب سے بڑا خزانہ ہیں جو دیار غیر میں دن رات سخت محنت اور جدوجہد کرکے قیمتی زرمبادلہ ملک پاکستان کو بھیجتے اور اپنے ملک کی ترقی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔ یہ لوگ مقیم تو غیرممالک میں ہیں لیکن یہ دیکھ کر بہت خوشی ہوتی ہے کہ ان لوگوں کو دن رات اپنے ملک کی فکر ہی کھائے جارہی ہے۔ نامساعد حالات میں کام کرنے کے باوجود یہ یہی سوچتے رہتے ہیں کہ اپنے پیارے وطن کے دیہاتوں کو خوشحالی سے ہمکنار کریں، کوئی سکول کھولیں، ہسپتال تعمیر کریں یا پھر کوئی فلاحی مرکز بنائیں۔ جب کبھی پاکستانی قوم پر سیلاب یا زلزلے کی صورت میں کوئی آفت آن پڑتی ہے تو اوورسیز پاکستانی اپنے مصیبت زدہ بہن بھائیوں کے لیے جھولی پھیلا کر چندہ بھی مانگتے ہیں۔ دنیا کے تقریباً ہر ملک میں پاکستانیوں نے اپنے کمالات کے جھنڈے گاڑ رکھے ہیں۔ یہ محب وطن بھی ہیں اور باصلاحیت بھی جس کی بدولت یہ دنیا بھر میں پاکستان کا نام روشن کررہے ہیں ۔ پردیس میں مقیم بہت سے پاکستانی انتہائی اہم عہدوں پر کام کررہے ہیں جو ان کی صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ امریکہ کے خلائی پروگرام ناسا میں درجنوں پاکستانی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منواچکے ہیں، برطانوی پارلیمنٹ اور سٹی کونسل میں بھی پاکستانی موجود ہیں۔1998ء میں جب پاکستان نے ایٹمی دھماکے کیے اور ملک پر بہت سی عالمی پابندیاں عائد کردی گئیں تو یہ اوور سیز پاکستانی ہی تھے جنہوں نے ملک کے لیے اپنے تمام وسائل پیش کردئیے ۔اس وقت عالمی اقتصادی بحران نے بالخصوص امریکہ اور یورپ کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ امریکہ، یورپ، ایشیاء یہاں تک کہ آسٹریلیا جیسے ملک میں بھی پاکستانیوں کو حصول روزگار میں مشکلات کا سامنا ہے ۔اوورسیز پاکستانیوں کی خدمات کا بھرپور اعتراف کرتے ہوئے حکومت کو چاہیے کہ اپنے اس قیمتی سرمائے کے تحفظ اوران کی مشکلات دور کرنے کے لیے خصوصی اقدامات کرے۔ حکومت کو چاہیے کہ بیرون ملک پاکستانی سفارتخانوں کے ذریعے ان کے قومی تشخص کو اْجاگر کرے اور دنیا بھر میں ان کا عزت و احترام یقینی بنائے۔ عالمی اقتصادی بحران سے متاثر ہونے والے اوورسیز

پاکستانیوں کو پیشکش کی جائے کہ اگر وہ چاہیں تو مختصر مدت کے لیے وطن آکر یا پھر باہر بیٹھے بٹھے ہی ملک کی خدمت کا فریضہ سرانجام دیتے رہیں جس کے لیے مسلم لیگ ن کی حکومت اُن سے بھرپور تعاون کرے گی ۔حکومت سرکاری سطح پر دنیا بھر میں وفود بھیجے جو جو باصلاحیت اور ذہین پاکستانیوں سے مل کر انہیں ملک کے لیے خدمات سرانجام دینے کی پیشکش کرے۔ پاکستان کو اس وقت باصلاحیت افراد کی شدید ضرورت ہے لیکن بیکار پالیسیوں کی بدولت انتہائی پڑھے لکھے افراد بھی گروسری شاپس یا پھر پٹرول پمپوں پر اٹھارہ اٹھارہ گھنٹے کام کرکے اپنی صلاحیتیں ضائع کررہے ہیں ۔بورڈ آف امیگریشن اینڈ ایمپلائمنٹ اور اوورسیز ایمپلائمنٹ کارپوریشن سمیت اوورسیز پاکستانیوں کے لیے کئی ادارے کام ہیں جنہیں پوری طرح فعال ہونا چاہیے۔ ان تمام اداروں کو کسی ایک ادارے میں ضم کرکے اس کی قیادت انتہائی دیانتدار، فرض شناس اور محب وطن اوورسیز پاکستانیوں کے بورڈ آف گورنرز کے سپرد کیا جائے تاکہ یہ ادارہ حقیقی معنوں میں اُن کی تعمیر و ترقی کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔

مزید : ایڈیشن 2