صوبائی دار ا لحکومت ، مردہ خانوں میں پرانی لاشوں سے تعفن پھیل گیا

صوبائی دار ا لحکومت ، مردہ خانوں میں پرانی لاشوں سے تعفن پھیل گیا

لاہور(خبرنگار) صوبائی دارالحکومت کے مردہ خانوں میں کئی کئی ماہ سے پڑی لاشوں نے تعفن پھیلا کر رکھ دیا ہے جس کے باعث ارد گرد کے مکین اور مردہ خانوں کے ملازمین بیماریوں میں مبتلا ہو کر رہ گئے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق شہر کے دو بڑے مردہ خانوں میو ہسپتال اور جناح ہسپتال میں گزشتہ اڑہائی ماہ سے زائد عرصہ سے 25 سے زائد ایسی لاشیں پڑی ہیں جن کو پولیس مردہ خانوں میں جمع کروانے کے بعد بھول گئی ہے۔ ان لاشوں کے باعث مردہ خانوں میں تعفن پھیل کر رہ گیا ہے جبکہ مردہ خانوں کے فریزر بھی خراب ہو کر رہ گئے ہیں جس سے روزانہ کے ہونے والے واقعات میں ہلاک یا جاں بحق ہونے والے افراد کی مزید لاشوں کو رکھنا مشکل ہو گیا ہے۔ سب سے بڑے میو ہسپتال کے مردہ خانہ میں 17 لاشیں فریزر میں پڑی ہیں جن میں زیادہ تر سٹی ڈویژن کی 11 لاشیں ہیں جبکہ دوسرے نمبر پر کینٹ اور سول لائن ڈویژن کی پولیس نے لاشیں جمع کروا رکھی ہیں جن میں تھانہ شاہدرہ، تھانہ باغبانپورہ ، تھانہ بھاٹی گیٹ، تھانہ شفیق آباد سمیت تھانہ لوئر مال پولیس نے نعشیں جمع کروانے کے بعد مردہ خانے کا رخ تک نہیں کیا ہے۔ اسی طرح کوٹ لکھپت پولیس نے محمد عابدنامی 35 قیدی کی لاش 21 جنوری 2018 سے جناح ہسپتال کے مردہ خانہ میں جمع کروا رکھی ہے جبکہ لیاقت آباد پولیس نے 60 سالہ نامعلوم شخص کی 15 فروری سے لاش جمع کروا رکھی ہے اسی طرح سندر پولیس نے 5 جنوری سے ایک 40 سالہ شخص کی لاش جمع کروا رکھی ہے جبکہ تھانہ چوہنگ کی پولیس بھی گندے نالے سے ملنے والی ایک نوجوان کی لاش مردہ خانہ میں جمع کروانے کے بعد بھول چکی ہے۔ مردہ خانوں میں کئی کئی ماہ سے پڑی لاشوں نے تعفن پھیلا کر رکھ دیا ہے اور ان لاشوں سے پھیلنے والی بدبو کے باعث بیماریاں پھوٹ رہی ہیں جس میں مردہ خانوں کے ملازمین بیماریوں کا شکار ہو کررہ گئے ہیں۔ ملازمین کا کہنا ہے کہ بار بار فون کر کے یاددہانی کروانے کے باوجود پولیس ٹس سے مس نہ ہے۔

مزید : علاقائی