ختم نبوت ؐ ترمیم کے باعث خواجہ آصف پر سیاہی پھینکی، فیاض الرسول

ختم نبوت ؐ ترمیم کے باعث خواجہ آصف پر سیاہی پھینکی، فیاض الرسول

سیالکوٹ (مانیٹرنگ ڈیسک) خواجہ آصف پر سیاہی پھینکنے والے شخص فیاض الرسول کا کہنا ہے کہ اس کا کسی تنظیم سے کوئی تعلق نہیں ہے ، اس نے ترقیاتی کاموں کے باعث ہمیشہ ہی ن لیگ کو ووٹ دیا لیکن ختم نبوت ؐ پر حملے کے باعث حکمران بچ نہیں پائیں گے، راجا ظفرالحق کی رپورٹ پبلک کرکے مجرموں کو سزا دی جائے ۔تحریک انصاف کے رہنما اور خواجہ آصف کے حریف عثمان ڈار نے ٹوئٹر پر خواجہ آصف پر سیاہی پھینکنے والے شخص کا ویڈیو بیان شیئر کیا ہے۔ ویڈیو بیان میں فیاض الرسول نے کہا کہ اس کا کسی تنظیم سے کوئی تعلق نہیں ہے وہ گھر سے سیدھا فیکٹری جاتا اور اپنے کام سے کام رکھتا ہے، اس نے شروع سے ہی ن لیگ کو ووٹ دیا کیونکہ انہوں نے بہت سے ترقیاتی کام کیے۔ملزم نے اپنے ویڈیو بیان میں پولیس اہلکاروں کو اچھا قرار دیا اور کہا کہ جب اس نے سیاہی پھینکی تو پولیس اہلکاروں نے اپنا فرض ادا کیا اور اسے پکڑ کر تھانے لے آئے۔ فیاض الرسول نے سوال اٹھایا کہ انہوں نے حضور ؐ کی ختم نبوت ؐ پر حملہ کیوں کیا؟، اگر یہ اپنا فرض ادا نہیں کرسکتے اور اس قابل نہیں تو اسمبلی میں کیوں جاتے ہیں، لاکھوں ووٹ لے کر آنے والوں کا فرض بنتا ہے کہ جو قانون بنتا ہے اسے کم از کم پڑھ کر سائن کریں، اگر انہوں نے قانون پڑھ کر منظوری دی تو یہ مجرم ہیں لیکن اگر انہوں نے قانون نہیں پڑھا تھا تو پھر اس سے بھی بڑے مجرم ہیں، اس طرح تو کوئی بھی کسی بھی کاغذ پر ان سے دستخط کراسکتا ہے ۔ خواجہ آصف پر سیاہی پھینکنے والے نوجوان نے مطالبہ کیا کہ ختم نبوت ؐ قانون میں تبدیلی کی تحقیقات پر مبنی راجہ ظفرالحق کی رپورٹ شائع کی جائے اور جو بھی مجرم ہے اسے سزا دی جائے ۔ ’’آج مجھے پھانسی لگادیں لیکن پھر بھی کچھ فرق نہیں پڑے گا کیونکہ یہ جہاں بھی جائیں گے محمد عربی ؐ کے شیروں نے انہیں نہیں چھوڑنا ، یہ توبہ کریں‘‘۔فیاض الرسول نے خواجہ آصف پر سیاہی پھینکنے کو اپنے لیے سعادت قرار دیا اور کہا کہ ظہر کی نماز پڑھ کر اس نے فیکٹری جانا تھا لیکن کوئی چیز اسے کھینچ کر ورکرز کنونشن میں لے آئی، ’ ’میری ماں بیمار ہے میں نے گھر جا کر اسے انسولین لگاتی ہوتی ہے لیکن آج مجھے کسی چیز نے گھر جانے ہی نہیں دیا اور کھینچ کر یہاں لے آئی، سارے مجمع میں مجھے سعادت نصیب ہوئی‘‘۔

مزید : صفحہ آخر

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...