’’ ایسے واقعات کی روک تھام ضروری ‘‘ پوری سیاسی قیادت کا شدید ردعمل

’’ ایسے واقعات کی روک تھام ضروری ‘‘ پوری سیاسی قیادت کا شدید ردعمل

لاہور (جنرل رپورٹر) پاکستان میں سیاست دانوں کی لفظی جنگ نے عوام کا مزاج بھی بگاڑ دیا، خواجہ آصف پر دوران جلسہ سیاہی پھینکنے کے ایک روز بعد ہی سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف پر جامعہ نعمیہ میں خطاب کے آغاز میں ہی ایک طالب علم نے جوتا پھنک دیا جو ان کے کندھے پر لگااور کان کو چھوتا ہوا نیچے گر گیا جوتا پھینکنے والے منور نامی طالب علم کوموقع پر پکڑ کر اننظامیہ نے درگت بنا ڈالی جبکہ عبدالغفور نامی شخص کا جوتا سٹیج تک نہ پہنچ سکا جس کے بعد پولیس نے جوتا پھنکنے والے منور ،عبدالغفور اور انکے ساتھی ساجد بشیر کو حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا۔واقعہ کی اطلاع پورے ملک میں جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی جس کی ملک کی تمام جماعتوں کے سربراہان نے شدید مذمت کی آصف علی زرداری ،عمران خان ،بلاول بھٹو ،شیخ رشید ،محمود خان اچکزئی ، سراج الحق، اسفند یار ولی قمرزمان کائرا، سمیت تمام رہنماؤں نے مذمت کی ان کا کہنا ہے کے سیاست میں آنے والایہ گندا رحجان ختم ہونا چاہیئے ۔تفصٰیلات کے مطابق سابق وزیراعظم نواز شریف جامعہ نعیمیہ میں جب خطاب کیلئے سٹیج پر آئے تو اسی مدرسے کے سابق طالبعلم نے ان کی طرف جوتا پھینکا جو انکے کندھے پر جا لگا، موقع پر موجود جامعہ نعیمیہ کے طالب علموں اور نون لیگی کارکنوں نے منور نامی طالب کو پکڑ کر سیکیورٹی اداروں کے حوالے کر دیا تقریب سے مزید دو مشکوک افراد ساجد اور عبدالغفور کو بھی حراست میں لیتے ہوئے تھانہ قلعہ گوجر سنگھ منتقل کردیا جب کہ مدرسے کے منتظمین سے ملزمان کی تفصیلات اکٹھی کی جارہی ہیں۔ پولیس ذرائع کے مطابق منور 4 سال قبل جامعہ نعیمیہ سے فارغ ہوا تھا جسے مدرسے سے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا ہے۔پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) چیئرمین عمران خان نے سابق وزیراعظم نواز شریف پر جوتا پھینکے کے واقع کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایسے واقعات ہمارے اخلاقیات کا حصہ نہیں ہیں۔انہوں نے کہا کہ انہیں اس بات کی خوشی ہے کہ ایسے عمل میں تحریک انصاف کا کوئی کارکن ملوث نہیں۔پی ٹی آئی چیئرمین کا کہنا تھا کہ سیاہی یا جوتا پھینکنا کوئی مہذب طریقہ نہیں۔پی ٹی ا?ئی کے رہنما فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ نوازشر یف پر جوتا پھینکنا غیر سیاسی رویہ ہے۔انہوں نے کہا کہ ان کے مسلم لیگ (ن) اور نواز شریف کے ساتھ سیاسی اختلافات ضرور ہیں تاہم اس طرح کی حرکتوں کی روک تھام ضروری ہے ۔عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد نے نواز شریف پر جوتا پھینکنے کے واقعے کو غیر سیاسی عمل قرار دیا۔کستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رہنما قمر زمان کائرہ نے نواز شریف پر جوتا پھینکنے کے معاملے پر ردِ عمل دیتے ہوئے کہا کہ اس واقعے کی جتنی بھی مذمت کی جائے اتنی کم ہے اور تمام جماعتوں کو اس کی مذمت کرنی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ ہمارا سیاسی بیانیہ کیا بن گیا ہے، اور ہمارا اظہارِ خیال کیا ہوگیا اس بارے میں بھی ہمیں سوچنے کی ضرورت ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اگر اس طرح کے واقعات ہوتے رہیں گے تو پھر عوامی نمائندے اپنی سیکیورٹی حصار کو بڑھا دیں گے، اس طرح وہ عوام سے گھلنے ملنے سے محروم ہوجائیں گے جس کے بعد پھر میڈیا اور عوام ہی یہ کہیں گے کہ لیڈر عوام سے دور ہوگئے ہیں۔دوسری جانب متحدہ قومی قوومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے رکن فیصل سبزواری نے اپنے ایک ٹوئٹ میں واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ہر سیاسی جماعت اور اس کے رہنما کے مخالفین ہوتے ہیں تاہم یہ افسوسناک حرکتیں تصادم اور پھر تشدد کو بھی فروغ دے سکتی ہیں۔جوتا تو کوئی بھی کسی پر بھی پھینک سکتا ہے،ہر سیاسی جماعت/رہنما کے مخالف ملک بھر میں پائے جاتے ہیں۔یہ افسوسناک حرکتیں تصادم اور پھر تشدد کو بھی فروغ دے سکتی ہیں۔ تمام اہم سیاسی رہنما (شیشے کے گھر کے مکین) آگے بڑھیں،اس شرمناک فعل کی زبانی مذمت کے بجائے روک تھام کی سنجیدہ کوشش کریں،نواز شریف پر ہونے والے جوتے کے حملے پر سینیٹر شیریں رحمٰن نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں افسوس کا اظہار کیا۔شرمیلا فاروقی نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ جو سیاسی حریف آج ہنس رہے ہیں، کل وہ بھی جوتا کلب کا حصہ بن سکتے ہیں۔معروف اینکر پرسن سید طلعت حسین نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر مذکورہ واقعے پر رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ خواجہ آصف پر سیاہی اور اب سابق وزیراعظم نواز شریف پر جوتا پھینکنا، حالات کو بد سے بدترین موٹر کی جانب لے جارہے ہیں۔پی پی پی کے سینیٹر رحمٰن ملک نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں وزیراعلیٰ پنجاب اور وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سے مطالبہ کیا کہ جوتا پھینکنے والے ملزم کو مثالی سزا دی جائے۔نواز شریف پر جوتا پھینکنے والے کے بارے میں پتا چلا ہے کہ وہ جامعہ نعیمیہ کا فارغ التحصیل ہے جو عوامی تشدد سے بیہوش ہوگیا ہے۔تفصیلات کے مطابق جامعہ نعیمیہ لاہور میں سابق وزیر اعظم نواز شریف پر ایک شخص نے جوتا پھینکا جس کے بعد اس نے سٹیج پر چڑھ کر نعرہ بھی بلند کیا۔ نعرہ بلند ہوتے ہی شرکا اور سکیورٹی نے اس شخص کو پکڑ کر تشدد کا نشانہ بنانا شروع کردیا جس کے باعث وہ بیہوش ہوگیا

نواز جوتا

لاہور(جنرل رپورٹر) سابق وزیراعظم میاں محمد نوازشریف نے جامعہ نعیمیہ میں مفتی اعظم پاکستان مفتی محمدحسین سیمینار وعرس مبارک ڈاکٹرسرفرازنعیمی شہیدکے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم سب مل کر پاکستان کو ایک اچھا ملک بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ چاہے وہ دینی طبقہ ہے یا سیاسی یا سماجی طبقہ ہے ہم سب کومل کرآگے بڑھنا ہے۔ ہم چھٹیوں کے دوران جامعہ نعیمیہ میں قرآن پاک پڑھنے جایا کرتے تھے۔یہاں کی یادیں زندگی بھر میرے ساتھ ہیں۔۔جامعہ نعیمیہ آمد پر سابق وزیراعظم میاں محمد نوازشریف کا ناظم اعلیٰ ڈاکٹر علامہ راغب حسین نعیمی، چیئرمین پنجاب قرآن بورڈ علامہ غلام محمد سیالوی اوردیگر شخصیات نے ان کا استقبال کیا۔ میاں نوازشریف نے مزید کہا کہ جامعہ نعیمیہ سے میرے بزرگوں کا بہت قریبی تعلق تھا، میرے والد، تایا اورمیرا اپنا بہت قریبی تعلق تھا، اور انہی کے سائے میں ہم جوان ہوئے ہماری پرورش ہوئی۔ جامعہ نعیمیہ چوک دالگراں میں ہم چھٹیوں میں قرآن پاک پڑھنے جایا کرتے تھے۔ وہیں سے ہم نے قرآن پاک کی تعلیم مفتی صاحب کے زیر سایہ حاصل کی۔ وہ ہم پر اتنی شفقت فرماتے تھے بہت پیارسے پیش آتے تھے۔ میں سمجھتا ہوں کہ انہوں نے چوک دالگراں والا ادارہ اپنی ذاتی کوشش سے بنایا اور اس جامعہ نعیمیہ کی عمارت میرے سامنے تعمیر ہوئی اور ایک ایک اینٹ میرے سامنے رکھی گئی۔ میں چھوٹا تھا دیکھتا تھا کس طرح حصوں میں یہ تعمیر ہوا، ذرائع نہ ہوئے تو تعمیر تاخیرکا شکار ہوگئی پھر دوسرا اور پھرتیسرا حصہ بنایاگیا۔ اْس زمانے میں یہ بہت خوبصورت ادارہ بنا تھا جہاں اس وقت ہم موجود ہیں۔ یہاں بے شمار بچے فیض حاصل کرتے ہیں قرآن کریم کی تعلیم حاصل ہوتی ہے۔ یہاں طلبہ کرام میں انکساری اور سادگی ہے مجھے تو یہی لگتا ہے کہ شہید مفتی صاحب یہیں کہیں پھر رہے ہیں، یہیں موجود ہیں۔ ان کی یادیں زندگی بھر میرے ساتھ رہیں گی۔ چوک دالگراں مدرسے والی یادیں ابھی بھی میرے ساتھ چل رہی ہیں۔ یہ بھی زندگی بھر ساتھ چلتی رہیں گی۔ میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس ادارے کو پھلنے پھولنے کا موقع عطاء فرمائے۔ اللہ تعالیٰ اس ادارے میں مزید برکت فرمائے اوریہاں تعلیم حاصل کرنیوالوں کو برکت عطاء فرمائے اور ہم سب مل کر پاکستان کو ایک اچھا ملک بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ چاہے وہ دینی طبقہ ہے یا سیاسی یا سماجی طبقہ ہے ہم سب کومل کرآگے بڑھنا ہے اورمجھے توقع ہے کہ ہمیں آپ کی طرف سے بھرپور تعاون ملے گا۔ میں ڈاکٹر راغب حسین نعیمی کا بہت مشکور ہوں جو ہمیں یہاں محبت سے بلاتے ہیں۔ اوراللہ تعالیٰ مفتی محمد حسین نعیمی کے جنت میں درجات بلند کرے۔ اللہ تعالیٰ سرفراز نعیمی صاحب کوبھی جنت میں بہترین مقام عطاء فرمائیں۔ ناظم اعلیٰ جامعہ نعیمیہ ڈاکٹر علامہ راغب حسین نعیمی نے اپنے خطاب میں کہا کہ جامعہ نعیمہ کے اس پنڈال میں مفتی اعظم پاکستان کی یاد میں بیسواں سیمینار اور شہید پاکستان کے عرس مبارک کی تقریب میں تشریف لائے ہوئے مہمانان گرامی، مشائخ کا شکریہ ادا کرتا ہوں خاص طور پر میاں محمد نواز شریف کا کہ ان کے والد محترم اور ان کے تایا جان کا تعاون اس ادارے کی تشکیل اور تکمیل میں شامل ہے۔آج ایک طرف ہم خراج تحسین پیش کرنے کیلئے جمع ہیں اور دوسری طرف ہم ان طلبا کو اسناد تھمانے کیلئے جمع ہیں جو اس ادارے میں پڑھ کر فارغ ہوئے۔اس ادارے نے آپکو فکر کی آزادی دی،اس ادارے نے آپ کو سمجھایا کہ آنیوالے دنوں میں اس ملک کی باگ ڈورآپ کے ہاتھ میں ہوگی،اگر آپ نے اس کیلئے اپنے آپ کو تیار کیا تو آپ کسی بھی میدان میں ناکامیاب نہیں ہوگے۔آج سیاست کے میدان میں ان لوگوں کی راہ میں کانٹے بچھائے جا رہے ہیں جو صاف اور سیدھے راستے پر چلنا چاہتے ہیں۔ہم اسمبلی میں ہونیوالے معاملات سے بھی آگاہ ہیں کہ جس طرح ایک نہایت نازک معاملے کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیااور اس کا تماشا بنایا۔ہم اس بات سے بھی بخوبی آگاہ ہیں جو اسلام کے نام پر دہشت گردی پھیلا رہے ہیں جس جنگ کو ختم کرنے کیلئے ہم نے ہزاروں لوگوں کی جان دی، ہمیں ان تمام معاملات کی آگاہی ہے،مگر ہم اس بات کو بھی واضح کرنا چاہتے ہیں کہ ختم نبوت کے معاملے کو چھیڑا ہی کیوں گیا،آئین میں موجود قانون کے باوجود اس کو کیوں چھیڑا گیا،ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ ایسا سسٹم بنایا جائے کہ295 سی قانون کو کوئی بھی اسمبلی تبدیل نہ کر سکے،ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ راجہ ظفر الحق کی رپورٹ کو منظر عام پر لایا جائے۔ہمارے یہ بھی مطالبہ ہے کہ ادارے اپنی حدود میں رہ کر کام کریں،ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ حکومت کو اپنی مدت پوری کرنی چاہئے کیونکہ جمہوریت چلتی رہے گی تو لوگوں کو کھوٹے کھرے کی پہچان ہوگی،ہم جمہوریت کیلئے ہر قربانی دینے کیلئے تیار ہیں۔یہ بات واضح رہے کہ رسول اکرام کی ناموس پر اگر کوئی بات ہوئی تو اس کیلئے قربانی دینے کیلئے تیار ہیں، جس طرح ہمارے اسلاف نے قربانیاں دیں ہم بھی اس طرح ہر قربانی دینے کیلئے تیار ہیں۔ سیمینار میں سینیٹر پرویز رشید،لارڈ میئرکرنل (ر) مبشر جاوید، صوبائی وزیر اوقاف پنجاب زعیم قادری، اعجاز احمد سیکرٹری اوقاف پنجاب ، ڈاکٹر طاہر رضا بخاری ، آزادکشمیر اسمبلی پیرعلی رضا بخاری ، ایم پی اے پیر محفوظ مشہدی ، رضاء الدین صدیقی ، مفتی اقبال چشتی،پیر فضیل احمد نقشبندی ،سہیل وڑائچ، پروفیسر محفوظ الرحمن نعیمی،نجم ولی، ممتاز طاہر، مفتی گلزار احمد نعیمی، ،رکن قومی اسمبلی روحیل اصغر، شیخ الحدیث مفتی عبدالعلیم سیالوی،محمدتاجور نعیمی،ڈاکٹرحسیب قادری،پروفسر لیاقت علی صدیقی،مفتی انتخاب نوری،مفتی قیصر شہزاد نعیمی،پروفیسر ارشد اقبال نعیمی،علامہ غلام نصیرالدین چشتی،علامہ قاسم علوی،پیر محمدارشد نعیمی،پروفیسر وارث علی شاہین،حاجی امداداللہ نعیمی،مفتی نعیم احمد صابری ،محمدضیاء الحق نقشبندی،مفتی ابوبکر اعوان،پروفیسر ظفر اقبال نعیمی،پیر فاروق احمد،مولانا ارشد جاویدرضا،پیر سید شہباز احمدسیفی،مفتی احمدسعید طفیل،پیر محمدارشد نعیمی،مفتی مسعودالرحمان نعیمی،مفتی بلال فاروق نعیمی،پیر عبدالرحمان جلالپوری،مولانا محمدسلیم نعیمی، نعیمین ایسوسی ایشن کے مرکزی ،صوبائی اورضلعی عہدیداران،مختلف سیاسی ومذہبی اورسماجی تنظیموں کے نمائندگان بھی موجود تھے۔ قبل ازیں شیخ الحدیث حافظ عبدالستار سعیدی جامعہ نظامیہ نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ میں یہ سعادت سمجھتا ہوں کہ جامعہ کے سالانہ پروگرام میں حاضری کا موقع ملتا ہے اور اس سے میرے دل کو سکون ملتا ہے۔مفتی اعظم نے بڑے اطمینان سے زندگی گزاری،ان کی زندگی سادگی سے بھر پور تھی۔منیر احمد یوسفی نے کہا کہ یہ مرکز اسلام عقائد اور اسلام کی پختگی کا ماحول فراہم کرتا ہے،طلباء کو تلقین کرتے ہوئے انہوں نے فرمایا کہ ہماری نئی نسل کو ہر میدان میں آگے بڑھنا ہوگا اور لوگوں کی تربیت کرنا ہوگی۔مفتی مختار احمد نے کہا کہ جب2008 میں حالات خراب ہوئے تو لوگ ڈرتے تھے کہ کوئٹہ نہیں جانا لیکن ڈاکٹر صاحب بلوچستان تشریف لائے،علما پر جب بھہ مشکل وقت آتا ڈاکٹر صاحب بغیر کسی خوف و ڈر کے علما کی مدد کیلئے پہنچ جاتے۔آپ نے ہمیشہ حکمت عملی سے کام کرتے ہوئے اسلام اور پاکستان کی حفاظت اور اس کی سربلندی کیلئے کام کیا۔مفتی گلزار احمد نعیمی نے کہا کہ جب بھی پاکستان میں علمی تاریخ کی بنیاد پر بات ہوتی ہے تو جامعہ نعیمیہ کو اس سطح پر اچھے الفاظ سے یاد کیا جاتا ہے۔جدید دور جس تعلیم کا تقاضا کر رہا ہے اس تعلیم کا آغاز جامعہ نعیمیہ نے بیسیوں سال پہلے شروع کر دیا تھا۔سینئر صحافی و چیف ایڈیٹر روزنامہ آفتاب ممتاز احمدطاہر نے کہاکہ ڈاکٹر سرفرازحسین نعیمی کے نام سے پنجاب یونیورسٹی میں ایک ڈیپارٹمنٹ قائم ہونا چاہئے ،پاکستان میں دین کی شمع روشن کر کے نوجوانوں میں دین کا نور نہ پھیلایا ہوتا تو پاکستان میں جس طرح لادینیت کے ادارے کام کر رہے ہیں اداروں کوجواب دے کر چپ کروانے والا کوئی نہ ہوتا،اللہ کا شکر ہے کہ ان کا مشن آج بھی جاری ہے اور ڈاکٹر راغب نعیمی اس کے مشن کو ادا کرتے ہوئے آگے بڑھا رہے ہیں، یہ درسگاہ جلد ہی یونیورسٹی بن جائے گی۔مفتی اقبال چشتی ناظم اعلیٰ جماعت اہل سنت پنجاب نے فرمایا کہ آج کا یہ سیمینار دو عظیم ہستیوں کی یاد میں انعقاد پذیر ہے،جامعہ نعیمیہ ایسی مادر عملی سے فارغ التحصیل طلباء سے ہم امید کرتے ہیں کہ وہ پاکستان میں دین کا کام کرنے کیلئے اس طریقے پر تیار ہوں کہ دنیا کو معلوم ہو یہ کس جامعہ سے پڑھے ہوئے ہیں۔علامہ غلام محمد سیالوی نے کہا کہ جامعہ نعیمیہ کا نام پوری دنیا میں ایک روشن مثال ہے، آج اہلسنت 30جماعتوں میں تقسیم ہو چکی ہے، ہمیں سوچنا ہوگا کہ ہم پیچھے کیوں ہیں، اتحاد اہلسنت کیلئے ترجیحی بنیادوں پر کام کرنا ہوگا۔علی رضا سیفی ممبر آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی نے کہا کہ ڈاکٹر راغب حسین نعیمی نے شہید پاکستان علامہ ڈاکٹر سرفراز نعیمی نے مشن کو آگے بڑھایا، میرے لئے انتہائی خوش نصیبی کی بات ہے کہ آج اس مرکز حکمت و عمل جامعہ نعیمیہ میں منعقدہ سیمینار میں حاضر ہوں اور میرے حق میں پیش کی گئی قرار داد کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں۔عارف اعوان ایڈووکیٹ نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ جب بھی غیر مسلم اور پاکستان دشمن قوتوں نے دین کے خلاف یا پاکستان کے خلاف بات کی تو ڈاکٹر سرفراز نعیمی شہید نے ہر میدان میں ان کا مقابلہ کیا اور اسلام کی سر بلندی کیلئے کام کیا۔شہباز احمد سیفی نے سیمینار میں ایک قرار داد پیش کی جس میں کہا گیا کہ ہم ممتاز عالم دین و ممبر آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی مولاناعلی رضا سیفی کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں کہ انہوں نے آزاد کشمیر اسمبلی میں قادیانیوں کیخلاف قرارداد منظور کروائی۔

سیمینار/خطاب

مزید : صفحہ اول

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...