جوتا مارنیوالا طالبعلم نامعلوم مقام پر منتقل، حساس ادارے کی بھی تفتیش

جوتا مارنیوالا طالبعلم نامعلوم مقام پر منتقل، حساس ادارے کی بھی تفتیش

لاہور (خبرنگار)قلعہ گجر سنگھ کے علاقہ میں جامعہ نعیمیہ کے اندر منعقدہ تقریب کے دوران سابق وزیر اعظم نواز شریف پرمدرسے کے طالب علم نے جوتا پھینک دیا ، سکیورٹی اہلکاروں ، لیگی کارکنان نے متعلقہ طالب علم کوشدید تشدد کانشانہ بنایا ، پولیس نے متعلقہ طالب علم اور اسکے 2ساتھیوں کو حراست میں لیکر تھانہ گڑھی شاہو منتقل کیا ،گرفتار ملزمان کے خلاف تھانے میں ہجوم اکھٹا ہوگیا جس پر ملزمان کو نامعلوم مقام پر منتقل کرکے تفتیش شروع کر دی گئی ۔بتایا گیا ہے کہ گزشتہ روز قلعہ گجرسنگھ کے علاقہ میں واقع جامعہ نعیمیہ کے اندر منعقد کی جانے والی ایک تقریب میں سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف مہمان خصوصی تھے جو کہ جیسے ہی اسٹیج پر خطاب کیلئے پہنچے تو سامعین میں سے ایک طالبعلم نے سابق وزیراعظم پر جوتا دے مارا جوان کے کندھے پر لگا جبکہ جوتا مارنے والے نے جوتا مارتے ہی لبیک یا رسول اللہ کا نعرہ لگادیا جس میں دیگر 2نوجوانوں نے بھی یک زبان ہو کر اس کے ساتھ نعرے لگائے جس کے بعد موقع پر موجود سکیورٹی اہلکار اور لیگی کارکنان مشتعل ہوگئے اور متعلقہ شخص کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا جس سے وہ نیم بیہوش ہوگیا تاہم پولیس نے مداخلت کرتے ہوئے جوتا مارنے والے شخص عبدالغفور اور اسکے 2ساتھیوں محمد ساجد اور منیر کو حراست میں لے کر تھانہ قلعہ گجر سنگھ منتقل کیا لیکن لیگی کارکنان کی جانب سے تھانے پر دھاوہ بولنے کے بعد ان تمام کو نامعلوم مقام پر منتقل کر کے ان سے تفتیش کا آغاز کر دیا ہے ۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے ابتدائی تفتیش میں معلوم ہوا ہے کہ جوتا مارنے والا مدرسہ سے تعلیم حاصل کر نے کے بعد فارغ التحصیل ہے جبکہ دیگر دو نوجوان مدرسہ میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ گرفتار طالب علموں سے حساس ادارے بھی تفتیش کر رہے ہیں تاکہ ان کے متعلق اصل حقائق معلوم ہوسکیں کہ انھوں کی جانب سے اتنا بڑا قدم اٹھانے کے پیچھے اصل حقائق کیا ہیں اس حوالے سے ایس پی سول لائن رضا کاظمی کا کہنا ہے کہ حراست میں لیے جانے والے تینوں ملزمان سے تفتیش جاری ہے۔ُُ تاہم آخری اطلاعات تک واقعے کا مقدمہ درج نہیں کیا گیا تھا ۔

جوتا،تفتیش

مزید : صفحہ اول