بلاول سمیت پارٹی کے تمام بڑے زرداری کو رضا ربانی پر قائل نہ کرسکے

بلاول سمیت پارٹی کے تمام بڑے زرداری کو رضا ربانی پر قائل نہ کرسکے

لاہور(رپورٹ ۔چودھری خادم حسین)پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سمیت پیپلز پارٹی کے سب بڑے مل کر بھی آصف علی زرداری کو قائل نہیں کرسکے اوروہ میاں رضا ربانی کو سینیٹ کے چیئرمین کے لئے امیدوار نامزد کرنے پر تیار نہیں ہوئے۔ بلاول ہاؤس اسلام آباد میں ہونے والے اجلاس میں لہجوں میں تلخی بھی آئی۔ اجلاس میں شریک بعض ذرائع کے مطابق شرکاء محفل آصف علی زرداری سے اس شدید مخالفت کی وجہ معلوم کرنے میں بھی ناکام رہے۔ بلاول بھٹو اور ان کے والد کے درمیان ون او ون ملاقات میں ایک حد تک بات بن گئی تھی کیونکہ بلاول نے بھی ضد کی۔ آصف علی زرداری کہنا تھا کہ وہ تو رضا ربانی کو سینیٹ کے لئے پارٹی ٹکٹ بھی نہیں دینا چاہتے تھے۔ صرف بلاول کی وجہ سے ٹکٹ دیا۔ آصف علی زرداری مسلسل یہی کہتے رہے ہیں ’’جو مجھے معلوم ہے وہ آپ لوگوں کو نہیں‘‘۔ سید خورشید شاہ نے اتفاق رائے کی خاطر اور چودھری اعتزاز احسن نے آئین و قانون کے حوالے سے دلائل دئیے۔ حتیٰ کہ ذرا سخت زبان بھی استعمال کی، لیکن آصف علی زرداری پر کوئی اثر نہیں ہوااور اجلاس ختم ہوگیا۔ دوسری طرف حسب توقع خود میاں رضا ربانی نے سرنڈر کر دیا اور آصف علی زرداری کو بڑا کہہ کر ہر فیصلہ منظور کرنے کا اعلان بھی کر دیا۔یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ عشائیہ میں شرکت کرنے والے سینیٹروں اور پارٹی راہنماؤں کی اکثریت بھی میاں رضا ربانی کو ہی چاہتی ہے بلاول بھی ناراض ہوگئے ہیں۔اس سلسلے میں کوئی شواہد تو نہیں، لیکن حالات اور ماضی قریب کی سیاسی سرگرمیوں سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ آصف علی زرداری یا تو زیادہ ہی خود پرست ہوگئے یا پھر خائف ہیں اور اعتماد کرنے پر تیار نہیں۔ اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ شاید وہ سابق وزیراعظم محمد نواز شریف سے ملاقات بھی نہیں کرنا چاہتے کہ کوئی ناراض نہ ہو۔ اسی لئے انہوں نے وزیراعلیٰ بلوچستان کو فیصلے سے پہلے سلیم مانڈوی والا کا نام دے دیا، جو مایوس ہوئے۔ آصف علی زرداری جس شدت سے محمد نواز شریف کی مخالفت کرتے چلے آئے ہیں، اس صورت میں ان کا سامنا کیسے کریں؟ اگرچہ یہ بھی پیشکش کی گئی کہ فیصلہ کرلیں تو مسلم لیگ (ن) سے پہلا رابطہ سید خورشید شاہ کریں گے اور ان کے ساتھ اعتزاز احسن بھی ہوں گے۔ تاہم زرداری آخر تک نہیں مانے اور میاں رضا ربانی کے حامی بھی نہیں تھکے۔ عشائیہ کے بعد بھی یہی موضوع زیر بحث رہا اور قرعہصادق سنجرانی کے نام نکل آیا۔ یہ صورت حال پارٹی کے لئے بہتر نہیں، لیکن زرداری کو بھی پروا نہیں۔بلاول سمیت تمام ارکان ناکام ہوگئے اور آصف علی زرداری نے سلیم مانڈوی والا کے حق میں فیصلہ دے دیا اور اس کا اعلان بھی اپنے صاحبزادے بلاول سے کر ادیا کہ بلوچستان والے سنجرانی چیئرمین اور سلیم مانڈوی والا ڈپٹی چیئرمین کے امیدوار ہونگے۔ یوں اب براہ راست آصف علی زرداری اور نواز شریف کے درمیان سخت مقابلہ ہوگا۔ مشاہد اللہ خان نے تو واضح کر دیا ہے، یہ سب نادیدہ قوتوں کا کرشمہ ہے۔

مزید : صفحہ اول