چیئرمین سینیٹ کی ’’کرشماتی قوت ‘‘ پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف ایک صفسحے پر

چیئرمین سینیٹ کی ’’کرشماتی قوت ‘‘ پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف ایک صفسحے پر
چیئرمین سینیٹ کی ’’کرشماتی قوت ‘‘ پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف ایک صفسحے پر

  

تجزیہ: قدرت اللہ چودھری

مقامِ مسرت ہے کہ کسی بات پر تو آصف علی زرداری اور عمران خان متفق ہوئے اور یہ کریڈٹ جاتا ہے بلوچستان سے نومنتخب سینیٹر صادق سنجرانی کو، جنہیں چیئرمین منتخب کرانے کے معاملے پر پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف کے درمیان اتفاق رائے ہوا ہے، ویسے مسلم لیگ (ن) کے ہمدرد چاہیں تو اس کا کریڈٹ اپنی اس پارٹی کو بھی دے سکتے ہیں جس کے امیدوار کو ہر حالت میں ہرانے کے جوشِ جنوں کی وجہ سے دونوں پارٹیاں اتنی قریب آ گئی ہیں کہ صادق سنجرانی کو چیئرمین بنانے کا فیصلہ کیا ہے، ویسے تو ان کا تعلق پیپلزپارٹی سے ہے اور وہ یوسف رضا گیلانی کی وزارتِ عظمیٰ میں وزیراعظم سیکرٹریٹ میں اُنہیں مشورے دینے کی ذمہ داری نبھا رہے تھے لیکن سینیٹ کے انتخاب میں اُنہوں نے بطور آزاد امیدوار حصہ لیا تھا کیونکہ الیکٹورل کالج میں پیپلزپارٹی کا ایک بھی رکن نہیں تھا اس لئے صادق سنجرانی کو بطور آزاد امیدوار کھڑا کرنے میں ہی مصلحت سمجھی گئی، اب دونوں حریف پارٹیاں مل کر تیسری مشترکہ حریف جماعت کے امیدوار کا راستہ روکنے کی کوشش کریں گی جس کی کامیابی کے امکانات تو بہت زیادہ نہیں ہیں، البتہ یہ دعویٰ فواد چودھری نے ضرور کیا ہے کہ ان کے پاس 57 ووٹ ہیں۔ مشترکہ دشمن نے دونوں جماعتوں کو متحد کر دیا ہے ورنہ دونوں کے ایک دوسرے کے بارے میں جو خیالات ہیں اس سے پورا ملک باخبر ہے، عمران خان جلسوں میں زرداری کے بارے میں کوثر و تسنیم میں دُھلی ہوئی جو زبان بولتے ہیں اس کا اعادہ اگر اس سطور میں کر دیا جائے تو تازہ تازہ اتحاد کے نشے میں مسرور دونوں جماعتوں کے ہمدردوں کا مزہ کرکرا ہو جائے گا، اس لئے آج ان الفاظ کا تذکرہ مناسب نہیں۔ ڈپٹی چیئرمین کے لئے پیپلزپارٹی نے اپنا امیدوار سلیم مانڈوی والا کو بنایا ہے جو آصف علی زرداری کے قریبی ساتھی ہیں۔ تحریک انصاف کے تیرہ ووٹر صادق سنجرانی کے ساتھ ساتھ مانڈوی والا کو بھی ووٹ دیں گے، حالانکہ عمران خان نے اعلان کیا تھا کہ ان کے ووٹر چیئرمین کے لئے ووٹ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے امیدوار کو دیں گے جبکہ نائب چیئرمین فاٹا کے کسی امیدوار کو بنائے جانے کے حق میں ہیں لیکن پیپلزپارٹی نے نائب چیئرمین کے لئے اپنا جو امیدوار دیا ہے اس کا تعلق تو سندھ سے ہے، اس لئے وہ تحریک انصاف کے معیار پر ہرچند پورا نہیں اترتا، لیکن مصلحت کا تقاضا یہی ہے کہ مانڈوی والا کو بھی ووٹ دے ہی دیا جائے۔ اس لئے یہ عین ممکن ہے کہ تحریک انصاف کے بعض ووٹر (یعنی سینیٹر) چیئرمین کے لئے تو ووٹ ڈالیں لیکن ڈپٹی چیئرمین کو ووٹ نہ دیں۔ ویسے اگر سلیم مانڈوی والا پارٹی وابستگی سے ہٹ کر اپنی ذاتی صلاحیتیں استعمال کریں اور بلاول بھٹو زرداری کی لائن پر چلتے ہوئے تحریک انصاف کو قائل کر لیں تو ممکن ہے تحریک انصاف کے تمام ووٹ مانڈوی والا کو بھی مل جائیں

اب آپ یہ سوال کر سکتے ہیں کہ چیئرمین سینیٹ منتخب کون ہوگا؟ اور کیا مسلم لیگ (ن) کو جو سینیٹ کی سب سے بڑی جماعت ہے اپنا چیئرمین منتخب کرانے میں کامیابی ہو جائے گی؟۔ اس سوال کا جواب حاصل کرنے کے لئے سینیٹ میں پارٹی پوزیشن پر ایک نظر ڈالتے ہیں، اس وقت مسلم لیگ (ن) کے ارکان کی تعداد ویسے تو 34 ہے لیکن اسحاق ڈار آ نہیں رہے اس لئے مسلم لیگ (ن) کے -33 ارکان ووٹ ڈالیں گے۔ اس کے مقابلے میں پیپلزپارٹی کے ارکان کی تعداد 20 ہے۔ اب اتحادیوں کا جائزہ لیں تو مسلم لیگ (ن) کے ساتھ اس کے کم از کم تین اتحادی تو ایسے ہیں جن کے پاس چودہ ووٹ ہیں اور یہ سب مسلم لیگ (ن) کے امیدوار کو مل سکتے ہیں۔ یہ اتحادی پختونخوا ملی عوامی پارٹی (5ووٹ)، نیشنل پارٹی (5ووٹ) اور جے یو آئی (ف) 4 ووٹ ہیں۔ حالیہ الیکشن میں کے پی کے میں مسلم لیگ (ن)، جماعت اسلامی اور اے این پی نے مل کر الیکشن لڑا تھا، اس لئے مسلم لیگ کو جماعت اسلامی کے دو اور اے این پی کے ایک ووٹ کی امید بھی ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے اتوار کو ہونے والے اجلاس میں سینیٹ کے فاٹا سے تین ارکان شریک ہوئے تھے، ان سب کے بارے میں اگر یہ فرض کر لیا جائے کہ وہ مسلم لیگ (ن) کو ووٹ دیں گے تو یہ تعداد 53 بن جاتی ہے جو جیتنے کے لئے کافی ہے۔ اس کے علاوہ ایم کیو ایم کے دونوں دھڑوں (فاروق ستار اور خالد مقبول صدیقی) کے پاس بھی 5 ووٹ ہیں، یہ ووٹ مسلم لیگ (ن) کو ملیں گے یا پیپلزپارٹی کو، اس کے بارے میں کوئی حتمی رائے اس لئے قائم نہیں کی جا سکتی کہ ایم کیو ایم کی سیاست کا تلّون کسی بھی وقت کوئی بھی رخ اختیار کر سکتا ہے چاہے اس میں پارٹی کا نقصان ہی کیوں نہ ہو، آپ نے حال ہی میں دیکھا کہ ایم کیو ایم اگر متحد رہتی تو چار سینیٹر منتخب کرا سکتی تھی لیکن اس نے اتحاد پر کلہاڑہ چلا کر تین نشستیں ضائع کر لیں لیکن اناؤں کے بت نہ توڑے۔ اب یہ ووٹ کس طرف جاتے ہیں اس کے لئے الیکشن کے نتیجے تک کچھ نہیں کہا جا سکتا البتہ مائنس ایم کیو ایم بھی نمبر گیم کے لحاظ سے مسلم لیگ (ن) کا پلڑا فی الحال بھاری ہے، تاہم آخری وقت تک داؤ پیچ لڑائے جاتے رہیں گے، اس لئے اگر سب سے بڑی جماعت ہار بھی جائے تو زیادہ حیران کن بات نہیں ہوگی لیکن اعداد و شمار بہرحال مسلم لیگ (ن) کے حق میں ہیں۔

اتحاد

مزید : تجزیہ