ختم نبوت ﷺ مشترکہ عقیدہ ملک میں قرآن و سنت کے منافی کوئی قانون نہیں بنے گا

ختم نبوت ﷺ مشترکہ عقیدہ ملک میں قرآن و سنت کے منافی کوئی قانون نہیں بنے گا

 لاہور(پ ر )عالمی مجلس تحفظ ختم نبوتؐ کے زیراہتمام تاریخ سا ز ختم نبوتؐ کانفرنس عالمگیری بادشاہی مسجد لاہور میں منعقد ہوئی ۔کانفرنس کی تین نشستیں ہوئیں ۔مختلف نشستوں کی صدارت عالمی مجلس تحفظ ختم نبوتؐ کے مرکزی امیر مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر،نائب امراء مولانا عزیزاحمد،مولانا پیرحافظ ناصر الدین خاکوانی نے کی جبکہ مہمان خصوصی جمعیت علماء اسلام کے مرکزی امیر مولانا فضل الرحمن ،مفتی اعظم پاکستان مفتی محمدرفیع عثمانی تھے۔کانفرنس میں وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے سیکرٹری جنرل مولانا قاری محمدحنیف جالندھری،مرکزی جمعیۃ اہلحدیث کے علامہ پروفیسر ساجدمیر،جمعیۃ علماء پاکستان کے مولانا شاہ اویس نورانی،مولانا ڈاکٹر ابوا لخیر محمدزبیر ،وفاقی وزیر مذ ہبی امور سردار محمدیوسف،جمعیۃ علماء اسلام کے مرکزی قائم مقام سیکرٹری جنرل مولانا محمدامجد خان ،جامعہ اشرفیہ کے مہتم مولانا فضل الرحیم جے یوپی کے رہنماؤں مولانا علامہ شاہ اویس نورانی،ڈاکٹر ابوالخیرمحمدزبیر،مرکزی جمعیۃ اہلحدیث پاکستان کے سربراہ علامہ پروفیسر ساجد میر، مولانا سید ضیاء اللہ شاہ بخاری ،پاکستان شریعت کونسل کے مولانا زاہد الراشدی،مکہ مکرمہ سے آئے ہوئے مہمان مولانا ڈاکٹرسعیداحمد عنایت اللہ ، جماعت اسلامی پاکستان کے مرکزی رہنما فرید احمدپراچہ ،سجادہ نشین خانقاہ کوٹ مٹھن خواجہ معین الدین کوریجہ،آزادکشمیر کے ممبر اسمبلی راجہ محمدصدیق،شاہین ختم نبوت مولانا اللہ وسایا،عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت خیبرپختونخواہ کے امیر مولانا مفتی شہاب الدین پوپلزئی ،مولانا محمداسماعیل شجاع آبادی،مولانا ڈاکٹر میاں محمداجمل قادری،مولانا سید ضیا ء اللہ شاہ بخاری،مجلس کراچی کے امیر مولانا مفتی اعجازمصطفیٰ، جے یوآئی لاہور کے مولانا محب النبی ،مولانا مفتی خالد محمود،مولانا مفتی محمدبن جمیل،مولانا سید محمود میاں ،مولانا مفتی محمدحسن،صدر انجمن تاجران فیاض بٹ،مولانا سید عبدالخبیرآزاد،مولانا عزیزالرحمن ثانی،مولانا سعید یوسف ،سعید اسکندر،مولانا سید کفیل بخاری، علامہ زبیراحمدظہیر،مولان سیدجاوید حسین شاہ،مولانا مفتی سعید الحسن دہلوی ،سیدسلمان گیلانی،قاری جمیل الرحمن اختر،مولانا قاری علیم الدین شاکر، مولانا عبدالرؤف ملک ،مولانا سید رشید میاں ،پیررضوان نفیس،مولانا قاضی احسان احمد کراچی،مولانا ضیاء الدین آزاد،مولانا محمداکرم طوفانی،مولانا محمدحسین ناصرسکھر ، مولانا عبدالعزیزلاشاری، مولانا فقیراللہ اختر ، مولانا سید ضیا ء الحسن شاہ ،مولانا عبدالنعیم ،مولانا خالدعابد،ومولانا قاری ظہورالحق،مولانا خالدمحمود،مولانا عمرحیات سیال،مولانا محمدعارف شامی سمیت کثیر تعداد میں علماء اور لاکھوں کی تعداد میں عوالناس نے شرکت کی۔کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے قائد جمعیۃ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ جب عقیدہ ختم نبوت پر حملہ کیا گیا اور ہندوستان کے تمام مکاتب فکر کے علماء کرا م نے ایک جامع حکمت عملی کے ذریعے تمام سازشوں کا مقابلہ کیا اسوقت تمام طاغوتی قوتیں اسکی پشت پر تھیں لیکن پاکستانی قوم نے جس وحدت کا مظاہرہ کیا اسکا نتیجہ یہ نکلا کہ پاکستانی قوم جیت گئی اور عالمی قوتیں شکست کھاگئیں۔آپ کے اتحادو اتفاق نے آ پکی قربانی کی لاج رکھی ۔1953ء کی تحریک ختم نبوت میں لاہور کی سڑکیں دس ہزار ختم نبوت کے پروانوں کی لاشوں سے رنگین ہوئیں ۔ہم اس اجتماع کے ذریعے استعماری قوتوں کو پیغام دیناچاہتے ہیں کہ تم کبھی بھی پاکستان کی سرزمین سے قادیانیوں کی غیرمسلم حیثیت ختم نہیں کر سکتے۔ختم نبوتؐ ہمارا مشترکہ عقیدہ ہے ہم نے ہمیشہ یہ رونا رویا کہ حکمران اسلام نافذ نہیں کر رہے ،پارلیمنٹ اسلامی قانون سازی نہیں کررہی اسلام دفعات تبدیل ہوگئیں ،آئین معطل ہوگیا ،ختم نبوت کا قانون معطل ہوگیا اسکے ذمہ دار حکمران اور ممبران پارلیمنٹ ہیں اور کبھی بھی اس عقیدہ ختم نبوت کے محافظین کو اسمبلی میں پہنچانے نے کے لیے ہم نے کوئی کردار ادا نہیں کیا۔ہم چھوٹی سی تعداد میں اپنی حکمت عملی اپنا کر اس ایوان میں عقیدہ ختم نبوت اور ناموس رسالت کے تحفظ کے لیے اپنا کردار ادا کر رہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کا آئین کہتا ہے کہ اسلام پاکستان کا مملکتی مذہب ہوگا اور قرآن و سنت کے مطابق قانون سازی ہوگی اور قرآن و سنت کے منافی کوئی قانون نہیں بنے گا آئین سازی پارلیمنٹ کا کام ہے اور پارلیمنٹ میں آپ نے وہ دنیا بھیجی ہے جن کو سورۃ اخلاص نہیں آتی ،آپ ان سے توقع رکھیں گے کہ وہ قرآن و سنت کے مطابق قانون سازی کرینگے جب تک آپ ایسے لوگوں کو ووٹ دیتے رہیں گے تو کم ازکم مجھ سے یہ گلہ تو نہ کریں کہ اسلام کیوں نہیں آرہا۔اسکے لیے پنجاب کے تمام علماء کو حرکت میں آنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ میں کسی ایک مسلک کا نمائندہ نہیں ہوں بلکہ اسلام اور امت مسلمہ کا نمائندہ ہوں ۔مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ ہمیں پتہ ہے کہ ناموس رسالت کے قانون پر کون حملے کررہاہے ،سابقہ حکومت کے دور میں بھی ناموس رسالت کے قانون کی تبدیلی کا مسئلہ پیش آیاتھا تب ساری دینی قوتیں اکٹھی ہوئیں کراچی اور لاہور میں دو جلسے کیے تھے تیسرے جلسے کی نوبت نہیں آئی تھی مسئلہ حل ہوگیا تھا۔حالیہ دنوں میں جو ختم نبوت کا مسئلہ پیش آیا ہے اسکے خلاف سینٹ میں تحریک انصاف اور پاکستان پیپلزپارٹی ووٹ ڈالا ہے یہ سب کچھ حکومت اکیلے نہیں کر سکتی آج باقاعدہ لابیاں این جی اوز دیمک کی طرح اداروں میں گھسی ہوئی ہیں اور وہ قوانین ختم نبوت کی تبدیلی کے لیے خفیہ کام کرتی ہیں ان این جی اوز کا راستہ روکنے کے لیے اپنی مذہبی قوتوں کو سپورٹ اور مضبوط کرنا ہوگا ۔دینی جماعتوں کو مضبوط کرنے سے ختم نبوت کا عقیدہ اور ناموس رسالت اور اسلامی قوانین مضبوط ہونگے۔ کوئی مائی کا لال ان قوانین میں تبدیلی نہیں کرسکتا۔مولانا مفتی محمدرفیع عثمانی نے کہا کہ وہ قادیانی جنہوں نے ملازمتیں حاصل کرنے کے لیے اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کیا اوراسی دوران اپنی سابقہ (قادیانی)بیوی اور وراثتیں بھی چھوڑیں پھر ملازمت سے ریٹائر ہونے کے بعد قادیانی ہوگئے تو ان پر مرتدہونے کی سزا شرعی طورپر لازم آتی ہے لہذا حکومت وقت یہ سزا ان پر جاری کرے۔مرکزی جمعیۃ اہلحدیث سربراہ علامہ ساجد میراور مولانا سید ضیاء اللہ شاہ بخاری نے کہا کہ ختم نبوت دین اسلام کا اساسی و بنیادی عقیدہ ہے پورے دین اسلام کی عمارت عقیدہ ختم نبوت پر قائم ہے ،صدیق اکبرؓ نے اس عقیدہ کی حفاظت کے لیے بارہ سو صحابہ کرامؓ کی عظیم الشان قربانی دے کر تحریک ختم نبوت کی بنیا درکھی ۔سنت صدیقی پر عمل کرتے ہوئے عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لیے کسی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائیگا۔جمعیۃ علماء پاکستان کے مولانا شاہ اویس نورانی نے کہا کہ مولانا شاہ احمدنورانی اور مولانا مفتی محمود کے بیٹوں نے ختم نبوت کے عظیم مش کے ساتھ نہ کبھی غداری کی ہے اور نہ کوئی سودا بازی کی ہے 2018کے الیکشن میں اسلام اور شعائراسلام کا تمسخر اڑانے والوں اور تحفظ ناموس رسالت وختم نبوت کے قوانین سے غداری کرنے والوں کو کہیں پناہ نہیں ملے گی۔قاری حنیف جالندھری نے کہا کہ راجہ ظفرالحق کی سربراہی میں بننے والی کمیٹی کی رپورٹ منظرعام پر لانے کے بعد اسمیں نشاندہ مجرموں کو سزادی جائے ،بے گناہ علماء کے نام فورتھ شیدول سے ختم کیے جائیں ،مدارس کو تنگ کرنے کا سلسلہ بند کیا جائے ،نصاب تعلیم میں ختم نبوت کا مضمون تفصیل کے ساتھ شامل کیا جائے۔جے یو پی کے مولانا ڈاکٹر ابو الخیر محمدزبیر نے کہا کہ کہا کہ حکمران تحفظ ناموس رسالت اور ختم نبوت قوانین کو غیر موثر کرنے کیلئے نت نئے حربے اور بہانے تراش رہے ہیں ختم نبوت کے قانون میں بے جا ترامیم کی کوششیں کی جارہی ہیں اور یہ شوشہ بھی چھوڑا جارہا ہے کہ جس نے توہین رسالت کاکوئی جھوٹا مقدمہ درج کیااس کو بھی توہین رسالت کی سزادی جائے گی انہوں نے سوال کیا کہ کیا دیگر مقدمات میں بھی یہی قانون نافذ ہے کہ کوئی قتل کا جھوٹا مقدمہ درج کرائے تو اسے بھی قتل کی سزادی جائے جو ملک سے غداری کا جھوٹا مقدمہ درج کرائے تو اسے بھی غداری کی سزا دی جائے ؟ اگر ایسا نہیں تو پھرختم نبوت اور تحفظ ناموس رسالت ﷺ کے قوانین کے ساتھ کیوں اس قسم کی قانون سازی کرکے اس کو غیر موثر کرنے کی سازشیں کی جارہی ہیں ۔انجمن خدام الدین کے سربراہ مولانا ڈاکٹر میاں محمداجمل قادری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مصور پاکستان علامہ اقبال ؒ نے کہا تھا کہ قادیانی ملک وملت کے غدار ہیں غداران ملت کا تعاقب علامہ اقبال کی روح کے لیے تسکین کا باعث ہوگا۔جماعت اسلامی کے مرکزی رہنما فریداحمدپراچہ نے کہا کہ عقیدہ ختم نبوت کی حفاظت عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا طرہ امتیاز ہے ۔1953ء ، 1974ء ،1984ء کی تحریکہائے ختم نبوت مجلس کی میزبانی میں چلائی گئیں اور کامیابی سے ہمکنار ہوئیں۔شاہین ختم نبوت مولانا اللہ وسایا نے کہا کہ عقیدہ ختم نبوت تمام مسلمانوں کی مشترکہ متاع عزیز ہے اسے سیاسیات کی بھینٹ نہیں چڑھنے دیا جائیگا،انہوں نے کہا کہ ہمارے بزرگوں نے اسے سیاسیات اور فرقہ واریت سے بچائے رکھا، تاکہ تمام مسالک اور سیاسی جماعتیں اس پلیٹ فارم پر جمع ہو کر آقاء نامدار ﷺ کی ختم نبوت کا تحفظ کر سکیں۔

ختم نبوتؐ کانفرنس

مزید : علاقائی