ممبران نے سینٹ الیکشنمیں ضمیر کا سودا کیا:خالد خان عمر زئی

ممبران نے سینٹ الیکشنمیں ضمیر کا سودا کیا:خالد خان عمر زئی

چارسدہ (بیورو رپورٹ)ڈسٹرکٹ ممبر ضلع کونسل چارسدہ خالد خان عمر زئی نے کہا ہے کہ خالیہ سینٹ الیکشن میں پی ٹی آئی سمیت دیگر پارٹیوں کے ممبران نے ضمیر کا سودا کیا جوکہ افسوسناک امر ہے ۔ جمہوری طرز سیاست اے این پی کا وطیرہ ہے جس کے ممبران بکتے نہیں اور جھکتے نہیں ۔ ہارس ٹریڈنگ کے ذریعے جاگیر داروں اور سر مایہ داروں کو کامیاب کر ایا گیا ۔ ملک کی موجودہ صورتحال کے ذمہ دار سیاسی پارٹیاں ہیں ۔ عمران خان کا ووٹ کاسٹ نہ کر نا سمجھ سے بالا تر ہے ۔ صوبائی احتساب کمیشن تمام سیاسی پارٹیوں کا بلا امتیاز احتساب کریں۔ وہ چارسدہ جرنلسٹس کے پرو گرام "ملاقات "میں اظہار خیال کر رہے تھے ۔ خالد خان عمر زئی نے کہا کہ تحریک انصاف کے چےئرمین عمران خان نے سینٹ انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ کو تسلیم کیا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ خیبر پختونخوا کے محرمیوں کا آزالہ کرنے کیلئے ڈپٹی چےئرمین خیبر پختونخوا سے لیا جائے ۔ صوبائی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے ۔ اداروں میں اصلاحات جھوٹ کا پلندہ ہے ۔ موجودہ حکومت میں رشوت اور سفارش کا بازار گرم ہے ۔ این ٹی ایس گھپلے حکومت کی شفافیت کی نفی کر تا ہے ۔ حکومت کے متعارف کر دہ بلدیاتی نظام کے ثمرات عوام تک نہیں پہنچ رہے ۔ اپو زیشن جماعتیں ضلعی حکومت کی کار کر دگی سے مطمئن نہیں ۔انہوں نے کہا کہ ضلعی حکومت کے پاس اکثریت نہیں ۔ بجٹ تاخیر کا شکار ہے اور ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل میں رکاوٹ کا سبب ہے ۔ صوبائی حکومت کے غلط پالسیوں کی وجہ سے صوبہ اربوں کا مقروض ہو چکا ہے ۔ اے این پی کے گزشتہ دور حکومت میں جو ترقیاتی کام کئے گئے ہیں ۔ شاید ستر سالوں میں کسی حکومت نے نہیں کئے ہوں ۔انہون نے کہا کہ بلدیاتی نظام میں اپو زیشن اور حکومتی ارکان میں برابری کی بنیاد پر فنڈز تقسیم کیا جانا چاہیے ۔ انہوں نے کہاکہ ضلع چارسدہ میں تحریک انصاف کی ضلعی حکومت قائم میں مگر اس کے باوجود صوبائی حکومت چارسدہ کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کر رہی ہے ۔ عوام کی نظریں اے این پی لگی ہوئی ہے ۔ 2018کے انتخابات میں اے این پی کلین سویپ کریگی اور صوبے میں حکومت قائم کرکے عوام کے محرومیوں کا آزالہ کیا کریگی ۔۔ خالیہ سینٹ الیکشن میں پی ٹی آئی سمیت دیگر پارٹیوں کے ممبران نے ضمیر کا سودا کیا جوکہ افسوسناک امر ہے ۔ جمہوری طرز سیاست اے این پی کا وطیرہ ہے جس کے ممبران بکتے نہیں ۔ ضمیر کا سودا کرنے والے ممبران عوام کے خیر خواہ نہیں ہو سکتے ۔ ہارس ٹریڈنگ کے ذریعے جاگیر داروں اور سر مایہ داروں کو کامیاب کر ایا گیا جس سے نظریاتی سیاست کا قتل ہو گیا۔ ملک کی موجودہ صورتحال کے ذمہ دار سیاسی پارٹیاں ہیں ۔ سینٹ انتخابات میں عمران خان کا ووٹ کاسٹ نہ کرنا سمجھ سے باہر ہے ۔ صوبائی احتساب کمیشن تمام سیاسی پارٹیوں کا بلا امتیاز احتساب کریں تو دو دھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائیگا

مزید : پشاورصفحہ آخر