فاٹا کو خیبر پختونخوا ہ میں ضم کرنا ایک گہری سازش ہے :مولانا شجاع الملک

فاٹا کو خیبر پختونخوا ہ میں ضم کرنا ایک گہری سازش ہے :مولانا شجاع الملک

مہمند ایجنسی (نمائندہ پاکستان) مہمند ایجنسی، تحصیل صافی میں جمعیت علمائے اسلام کی طرف سے غلبہ اسلام کانفرس کا انعقاد۔ مولانا فضل الرحمن نے فاٹا کو قومی دھارے میں شامل کرنے کیلئے فاٹا کے عوام سے رائے لینے کا موقف اختیار کیا ہے۔ فاٹا کو خیبر پختونخواہ میں ضم کرنا ایک گہری سازش ہے۔ قبائلیوں کے حقوق کے حصول تک جدوجہد جاری رکھیں گے۔ خیبر پختونخواہ حکومت نے عوام کے اربوں روپے بی آر ٹی کے نام پر لے ڈوبے۔ مہمند ایجنسی میں نیٹ ورک کی بحالی، بے گناہ قیدیوں کی رہائی، پانچ سو خاصہ داروں کو دوبارہ بحال کرنا، کاشتکاروں کو یوریاں کھاد لے جانے کی اجازت، تحصیل صافی میں نادرا سنٹر کھولنے، لکڑوں ڈگری کاکالج کھولنے، صافی میں 100 بیڈ ہسپتال کی تعمیر، بجلی کی طویل لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ، علینگار کے لوگوں کے ووٹر لیسٹ درست کرنا ہمارے مطالبات ہیں۔ تفصیلات کے مطابق مہمند ایجنسی تحصیل صافی قنداروں میں دہشت گردی کی جنگ کے بعد پہلی بار جمعیت علمائے اسلام صافی کی طرف سے غلبہ اسلام کانفرنس منعقد ہوا۔ کانفرنس میں مقامی مشران ، عوام و سینکڑوں کی تعداد میں جمعیت علمائے اسلام کے کارکنوں نے شرکت کی۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مہمان خصوصی جنرل سیکرٹری خیبر پختونخواہ مولانا شجاع الملک، سابقہ سنیٹر عبدالرشید خان آف باجوڑ، مہمند ایجنسی کے امیر مولانا مفتی محمد عارف حقانی، مولانا سمیع اللہ ، مولانا عبدلحق آف سنگر، مولانا محمد رحمان، مولانا عبدالغفار ، جے یو آئی صافی کے جنرل سیکرٹری مولانا راحت اللہ، مولانا محمد زرین کے علاوہ دیگر مقررین نے خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کی جنگ سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا تحصیل صافی میں پہلی بار جمعیت علمائے اسلام کا بڑا اجتماع منعقد کرنے پر مقامی تنظیمی عہدیداروں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ مہمند ایجنسی کے عوام مذہبی لوگ ہیں ان کو چاہئے کہ وہ علمائے کے زیر سایہ متحد ہو کر مولانا فضل الرحمن کے شانہ بشانہ کھڑے ہو جائے۔ یہودیوں، امریکہ اور برطانیہ کو اس سرزمین کے عوام نے شکست دی ہے۔ قبائلی عوام کے جوان فورسز نے ہزاروں کی تعداد میں ملک کی بقاء اور تحفظ کی خاطر قربانیاں دی ہیں۔ علمائے کرام نے اس ملک کو آزاد کرنے میں بہت قربانیاں دی ہیں۔ ہم اللہ کے زمین پر اللہ کا قانون چاہتے ہیں۔ مقررین نے خیبر پختونخواہ حکومت پر شدید تنقید کی کہ پی ٹی آئی والوں نے خود اربوں روپے کا کرپشن کر کے لوگوں کو بی آر ٹی کے نام پر ذلیل کیا ہے۔ عمران خان چوروں کے خلاف نکلے ہیں مگر خود چوروں کا سردار ہے۔ جمعیت علمائے اسلام کے اکابرین فاٹا کے عوام کو ہر گز صوبے میں ضم ہونے کی حمایت میں نہیں ہے۔ کیونکہ ایک گہرے سازش کے تحت فاٹا کو صوبے میں ضم کیا جا رہا ہے۔ جبکہ یہاں کے عوام سے رائے نہیں لی جا رہی ہے۔ ہم کسی قیمت پر اس فیصلے کو ماننے کیلئے تیار نہیں ہیں۔ اور اگر قبائلی عوام کی مرضی کے خلاف کوئی بھی فیصلہ کیا گیا تو ہم بھر پور مزاحمت کرینگے۔ اور انشاء اللہ آئندہ الیکشن میں پورے فاٹا سے جے یو آئی کے اُمیدوار کامیاب ہونگے۔

مزید : پشاورصفحہ آخر