خیبر ایجنسی ،فاٹا میں انسداد پولیو مہم آج سے شروع ہو رہی ہے

خیبر ایجنسی ،فاٹا میں انسداد پولیو مہم آج سے شروع ہو رہی ہے

خیبرایجنسی (نامہ نگار) فاٹا میں انسداد پولیو مہم آج سے محکمہ صحت، پولیٹکل انتظامیہ، کمشنرز اور قانون نافز کرنیوالے ادارون کی نگرانی اور سرپرستی میں شروع کی جا رہی ہے۔ تین روزہ انسداد پولیو مہم 12 مارچ 2018 سے 14 مارچ 2018 تک جاری رہے گی، جس کے بعد رہ جانے والے بچوں کو پولیو قطرے پلوانے اور سرویلنس کا کام جاری رکھا جائے گا۔ کوآرڈینیٹر محمد زبیر خان نے ای او سی فاٹا ٹیم کو ہدایات جاری کیں کہ فاٹا میں ہر بچے کو پولیو قطرے پلوائے جائیں، خصوصا دوران سفربچوں کو جن کی فاٹا اور ایف آر آمد و رفت ملک کے اندر علاقوں کے علاوہ باڈر کے پار سے بھی ہوتی ہے۔ مہم کے دوران فاٹا آنے جانے والے بچوں کو پولیو قطرے پلوانے پر توجہ مرکوز رہے گی۔ جبکہ باجوڑ ایجنسی میں انسداد پولیو مہم 19 مارچ 2018 سے شروع کی جائے گی۔ 5 سال سے کم عمر کے 1004506 بچوں کو3709 ٹیموں کی مدد سے پولیو کے قطرے پلوائے جائیں گے، جس میں 3379 موبائل ٹیمیں، 238 فکسڈ ٹیمیں اور92 ٹرانزٹ ٹیمیں شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فاٹا ٹیم نے قابل ذکر کامیابیاں حاصل کیں ہیں جبکہ پولیو کے خاتمے کا اس سے بہتر موقع نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ فاٹا میں جولائی 2016 سے اب تک کوئی پولیو کیس سامنے نہیں آیا۔ اب ہمیں صرف پولیو وائرس کی ترسیل کو روکنے میں کامیابی کے لیے ہرایک بچے کو پولیو قطرے پلوانے کو یقینی بنانا ہو گا والدین اب جان چکے ہیں کہ پولیو قطروں سے محروم بچے ہم سب کے لیے خطرہ ہیں اور اپنے بچوں کو پولیو قطرے پلوا نے میں صحت محافظین کی مدد کی صورت میں انہیں اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔ دوران سفر والدین کو ٹرانزٹ پوائنٹس پر ہر صورت اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے پلوانے کی یقین دہائی کرنا ہو گی۔ تب ہی ہم اپنے بچوں کو پولیو سے محفوظ رکھ پائیں گے۔

گورنر خیبر پختونخواہ انجینئر اقبال ظفر جھنگڑا نے جمعہ 9 مارچ 2018 کو منعقد ہونے والے فاٹا (پولیو) ٹاسک فورس کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے پولیو خاتمہ کو موجودہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل قرار دیا۔ انہوں نے رہ جانے والے بچوں کو پولیو قطرے پلوانے، اداروں کے درمیان ہم آہنگی اور سرحد کے پار پولیو ٹیموں کیساتھ موثرمعاونت پر زور دیا. انہوں نے فاٹا صحت کارکنوں کی کارکردگی سراہتے ہوئے فاٹا میں پولیو کے خاتمے تک کوششیں برقرار رکھنے کی ہدایات جاری کیں۔

مزید : پشاورصفحہ آخر