وہ کون تھا ؟ایک خنّاس کی پر اسرار کہانی ۔ ۔ ۔ پہلی قسط

وہ کون تھا ؟ایک خنّاس کی پر اسرار کہانی ۔ ۔ ۔ پہلی قسط
وہ کون تھا ؟ایک خنّاس کی پر اسرار کہانی ۔ ۔ ۔ پہلی قسط

  

گریجوایٹ پوسٹڈ کلاسز کے فائنل ائیر کے اسٹودنٹس کے ٹریپ کی بس بھرپور ہلے گلے کے ساتھ موٹر وے پر دوڑ رہی تھی۔چیک پوسٹ پر تھوڑی دیر رکنے کے بعد بس مری کے روٹ کی طرف روانہ ہوگئی۔اسٹوڈنٹس نے بھرپور انداز میں نعرے لگائے’’ہرے! مری کا سفر شروع ہو چکا ہے۔‘‘

میڈم اریبہ اور سر حسنان لڑکے لڑکیوں کی ان شرارت بھری حرکتوں پر مسکرائے جا رہی تھے۔

’’مجھے اس وقت بہت اچھا لگتا ہے جب گاڑی گول چکر کاٹتی ہوئی پہاڑ پر چڑھتی ہے اورہم زمین کو پیچھے چھوڑتے ہوئے بلندیوں کو چھونے لگتے ہیں۔‘‘

مس اریبہ نے سیٹ سے پشت ٹکاتے ہوئے لمبا سانس کھینچا۔

’’واقعی من تمام تفکرات سے آزاد ہو کے خوشیوں کی فضا میں جھومنے لگتا ہے۔ ‘‘ سر حسنان نے بھی اپنی رائے دی۔

پیچھے سے ایک اسٹوڈنٹ نے سر حسنان کی بات سن کر کہا۔’’تھوڑا سا انتظار کر لیں سر! ہم ہوا میں پرواز کرنے والے ہیں۔‘‘

سرحسنان نے مسکراتے ہوئے مس اریبہ کی طرف دیکھا ۔مس اریبہ بس کی آخری سیٹ پر بیٹھے چار اسٹوڈنٹ کی طرف دیکھ رہی تھی۔

سر حسنان نے محسوس کیا کہ مس اریبہ یک دم سنجیدہ ہوگئی ہیں۔

’’کیا بات ہے، آپ وہاں پیچھے کیا دیکھ رہی ہیں۔‘‘

’’جو میں محسوس کر رہی ہوں کیا وہ تم محسوس نہیں کر رہے۔ میں ان چار اسٹوڈنٹس کی بات کر رہی ہوں جو آخری سیٹ پربیٹھے ہیں۔‘‘

’’ہاں دیکھ رہا ہوں کہ دوسرے اسٹوڈنٹس کے شور شرابے میں وہ چاروں مسلسل خاموشی ہیں لیکن یہ کوئی نئی بات نہیں۔ امیر زادوں کی یہ بگڑی ہوئی اولاد ایسی ہی ہے۔ یہ چاروں بہت موڈی ہیں۔ ان کی اپنی ہی دنیا ہے۔ تم ان کے بارے میں کیوں سوچ رہی ہو کیا تم انہیں جانتی نہیں۔‘‘

’’انہیں جانتی ہوں اس لیے تو پریشان ہوں، پر رونق ماحول میں کسی ایک انسان کی خاموشی کسی طوفان کا پیش خیمہ ہوتی ہے۔ تمہارا واسطہ تو ان کے ساتھ رہتا ہے تم ان کے بارے میں کتنا جانتے ہو۔‘‘

’’چھوڑو! اس قدر پر مزہ سفر کو میں بور نہیں کرنا چاہتا۔‘‘

’’ابھی چڑھائیوں کا سفر شروع نہیں ہوا، ابھی بات کر لیتے ہیں۔‘‘

’’ٹھیک ہے اگر تمہیں بہت شوق ہے تو بتاتا ہوں۔حوریہ، وشاء، خیام اور فہرجادیہ، چاروں کلاس کے نالائق ترین اسٹوڈنٹ ہیں۔‘‘

’’یہ تو میں اچھی طرح جانتی ہوں مجھے تو اس بات پر حیرت ہوتی ہے کہ یہ چاروں یونیورسٹی تک کیسے پہنچ گئے ۔ان کی تعلیمی حالت دیکھ کر تو بالکل نہیں لگتا کہ یہ فائنل ایئر کے اسٹوڈنٹس ہیں۔ میں نے ان چاروں میں کچھ عجیب سی باتیں محسوس کی ہیں۔ اس لیے میں تم سے ان کے بارے میں پوچھ رہی ہوں۔‘‘

’’تم بتاؤ کہ تم نے کیا محسوس کیا ہے۔ پھر میں تمہیں مزیدکچھ بتاؤں گا۔‘‘

اریبہ نے اردگرد کے ماحول پر نظر ڈالی اور پھر آہستگی سے کہنے لگی۔ ’’یہ چاروں ہمیشہ ہی ساتھ رہتے ہیں۔ انہیں ایک دوسرے کی پل پل کی خبرہوتی ہے۔

گزشتہ کچھ دنوں سے یہ چاروں کلاسز جوائن نہیں کر رہے۔ یہ نہیں ہوتا کہ آج حوریہ کلاس میں نہیں ہے اور کل وشاء نہیں ہے۔ یہ چاروں ہی کلاس سے غائب ہوتے ہیں۔میں نے ایک اسٹوڈنٹ کو ان چاروں کا تعاقب کرنے کو کہا۔اس اسٹوڈنٹ نے بتایا کہ وہ چاروں بار بار یونیورسٹی کے میوزیم میں جاتے ہیں اور کبھی کبھی یونیورسٹی کے ایسے حصے میں جاتے ہیں جہاں انہیں تنہائی میسر آئے۔‘‘

حسنان کی تمام تر توجہ اریبہ کی طرف مرکوز ہوگئی۔

’’میوزیم میں وہ چاروں کیا کررہے تھے۔ تم نے اس اسٹوڈنٹ سے پوچھا۔‘‘

اریبہ نے تذبذب کی سی کیفیت میں اپنے سر کو جھٹکا۔

’’اس اسٹوڈنٹ کا کہنا تھا کہ ان چاروں نے میوزیم سے کچھ چرایا ہے۔ کچھ چھوٹے چھوٹے سٹفڈ ،مگر جب میں نے ان چاروں کی تلاشی لی تو مجھے ان سے کچھ نہیں ملا اور میوزیم کی اشیاء میں کچھ کمی نہیں لگی۔‘‘

حسنان نے اریبہ کی سیٹ پر ہاتھ رکھا’’مگر مجھے کچھ ملا تھا۔ میں نے بھی ان کی مشکوک حرکات کا نوٹس لیتے ہوئے حوریہ کو کسی کام سے بھیج کے اسکے بیگ کی تلاشی لی ۔مجھے اسکے بیگ سے بلیک میجک کی بک ملی۔ میں نے وہ بک اسکے بیگ میں واپس رکھ دی۔ اسی طرح سے میں نے خیام کے بیگ کی تلاشی لی ،اسکے بیگ سے مجھے ہیروئن بھرے سگریٹ ملے۔ میں نے پرنسپل صاحب کو وہ سگریٹ دکھائے توانہوں نے اس پر کچھ ایکشن نہ لیا۔ بس خیام کو بلا کر ڈانٹ دیا۔ یہ بھی ہوسکتا ہے یہ چاروں ہی ڈرگز لیتے ہوں۔‘‘

وہ دونوں جوں جوں ان چار اسٹوڈنٹس کی بات کرتے جا رہے تھے وہ تفریح بھرے ماحول سے کٹتے جا رہے تھے۔

ایک اسٹوڈنٹ بندر کی طرح چھلانگ لگا کر ان دونوں کے درمیان آگیا۔

’’سر! آپ کیوں اس قدر سنجیدہ بیٹھے ہیں۔ آپ نے جو کہا تھا کیا وہ بھول گئے ہیں۔ آپ نے کہا تھاکہ ٹرپ پر جائیں گے تو میں تمہارا استادنہیں تمہارا دوست بن کررہوں گا۔‘‘

حسنان نے مسکراتے ہوئے اریبہ کی طرف دیکھا۔ ’’اور مس اریبہ، یہ بھی تمہاری ٹیچر نہیں ہیں۔‘‘

اریبہ نے گھور کر حسنان کی طرف دیکھا۔’’جی نہیں۔۔۔میں نے ان سے کوئی ایسی بات نہیں کہی تھی۔‘‘

تین اسٹوڈنٹ مزید کھڑے ہوگئے۔’’ہم کچھ نہیں جانتے آپ دونوں ہمارے ساتھ انتاک شری کھیلیں۔ ایک اسٹوڈنٹ کا گانا جس حرف پہ ختم ہوگیا دوسرے کو اسی حرف سے گانا شروع کرنا ہوگا۔‘‘

اریبہ نے منہ بنایا۔’’حسنان!۔۔۔‘‘

’’کوئی بات نہیں اریبہ! ان کا ساتھ دیتے ہیں۔‘‘پھر حسنان خیام سے مخاطب ہوا۔ ’’تم چاروں بھی کھیلو۔‘‘

خیام کی جگہ جواب وشاء نے دیا۔ ’’ہمارا موڈ نہیں ہے۔‘‘

اریبہ نے سر کو خفیف ساجھکایا۔ ’’یہ لڑکی وشاء مجھے تو ایک آنکھ نہیں بھاتی۔ ناک میں نتھنی اور جینس کے ساتھ شارٹ شرٹ، مہذب گھروں کی لڑکیوں کے یہ طور طریقے نہیں ہوتے۔‘‘

’’باغی لوگ ہر اس روایت سے بغاوت کرتے ہیں جو ان پر زبردستی مسلط کی جائے۔ چاہے وہ ان کے فائدے کے لئے بھی ہو۔ تم انہیں چھوڑو انتاک شری کھیلتے ہیں۔‘‘ حسنان نے کہا۔

جب انتاک شری کا کھیل شروع ہوا توہنسی اورمذاقمیں کب بیس کلو میٹر کا سفر طے ہوگیا پتہ بھی نہ چلا۔(جاری ہے )

وہ کون تھا ؟ایک خنّاس کی پر اسرار کہانی ۔ ۔ ۔ دوسری قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /وہ کون تھا ؟