اپوزیشن اتحاد کے صادق سنجرانی چیئرمین سینٹ اور پیپلز پارٹی کے سلیم مانڈی والا ڈپٹی چیئرمین منتخب ، ن لیگ کو بڑے اپ سیٹ کا سامنا

اپوزیشن اتحاد کے صادق سنجرانی چیئرمین سینٹ اور پیپلز پارٹی کے سلیم مانڈی ...
اپوزیشن اتحاد کے صادق سنجرانی چیئرمین سینٹ اور پیپلز پارٹی کے سلیم مانڈی والا ڈپٹی چیئرمین منتخب ، ن لیگ کو بڑے اپ سیٹ کا سامنا

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) صاد ق سنجرانی چیئر مین سینیٹ منتخب ہو گئے ہیں ، اپوزیشن اتحاد کے امیدوار صادق سنجرانی نے 57 ووٹ حاصل کیے ہیں جبکہ ن لیگ کے امیدوار راجہ ظفرا لحق نے 46 ووٹ حاصل کیے ہیں جبکہ ن لیگ کے ہاتھ سے ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کی سیٹ بھی ہاتھ سے نکل گئی اور اس پر زرداری اپنے امیدوار سلیم مانڈی والا کو منتخب کروانے میں کامیاب ہو گئے ہیں ۔سلیم مانڈی والا کو 54 اور عثمان کاکڑ کو 44 ووٹ ملے۔

تفصیلات کے مطابقسینیٹ کے 52 نومنتخب ارکان نے رکنیت کا حلف اٹھالیا ہے جس کے بعد چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے انتخاب کے لیے اجلاس جاری ہے۔ چیرمین کے عہدے کے لیے مسلم لیگ (ن) کے راجہ ظفر الحق اور اپوزیشن اتحاد کے صادق سنجرانی میں سخت مقابلہ تھا۔ 104 رکنی ایوان بالا میں صادق سنجرانی نے 57 ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی۔

سینیٹ کے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے انتخاب کیلئے ایوان بالا کا اجلاس جاری ہے اور خفیہ طریقے سے انتخاب کیلئے پولنگ عمل انتہائی پرامن طریقے سے مکمل ہوا جس میں پہلا ووٹ حافظ عبدالکریم نے ڈالا۔چیئرمین کیلئے صادق سنجرانی اور راجہ ظفرالحق جبکہ ڈپٹی چیئرمین کیلئے عثمان کاکڑ اور سلیم مانڈی والا میں مقابلہ تھے ۔

 ملک کے ایوان بالا کے 52 نومنتخب ارکان نے رکنیت کا حلف اٹھایا اور پھر سینیٹ کے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے الیکشن کیلئے کچھ دیرپہلے دوبارہ اجلاس شروع ہوگیا۔ پیپلز پارٹی، تحریک انصاف اور بلوچستان کے آزاد سینیٹرز نے گزشتہ روز چیئرمین کے لیے صادق سنجرانی اور ڈپٹی چیئرمین کے لیے سلیم مانڈوی والا کا نام پیش کیا تھا۔ آج فاٹا اور ایم کیو ایم کے سینیٹرز نے بھی اپوزیشن امیدواروں کی حمایت کا اعلان کردیا ہے۔

ایم کیو ایم کے رہنما خالد مقبول نے صادق سنجرانی کی حمایت کا اعلان کیا ہے تاہم انہوں نے کہا ہے کہ ڈپٹی چیئرمین کے لیے سلیم مانڈوی والا کی حمایت نہیں کریں گے۔دوسری طرف جماعت اسلامی نے بھی مسلم لیگ ن کے امیدوارکو ووٹ دینے کا اعلان کردیا۔ مسلم لیگ (ن) اور اس کی اتحادی جماعتوں نے چیئرمین سینیٹ کے لیے راجہ ظفرالحق جب کہ ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے لیے عثمان کاکڑ کو امیدوار نامزد کردیا ہے۔ حکومت اور اپوزیشن کے چاروں امیدواروں نے اپنے اپنے کاغذات نامزدگی جمع کرائے ہیں ۔

سینیٹ کا ایوان 104 ارکان پر مشتمل ہے جس میں ن لیگ کے 33، پی پی پی 20، پی ٹی آئی 12، آزاد 17، ایم کیو ایم 5، نیشنل پارٹی 5، جے یو آئی 4، پشتون خوا میپ 3، جماعت اسلامی 2 اور بی این پی مینگل، فنکشنل لیگ اور اے این پی کا ایک ایک سینیٹر ہے۔ امیدواروں کو جیتنے کے لیے 53 ووٹ درکار ہیںجبکہ مسلم لیگ ن کے نومنتخب سینیٹر اسحاق ڈار بیرون ملک ہونے کی وجہ سے حلف بھی نہیں اٹھاسکے اور نہ ہی وہ ووٹ ڈالیں گے ۔

مزید : سیاست /Breaking News /اہم خبریں /قومی