سعودی عرب میں مقیم غیر ملکیوں کو یکے بعد دیگرے زوردار جھٹکوں کے بعد بالآخر خوشخبری مل گئی

سعودی عرب میں مقیم غیر ملکیوں کو یکے بعد دیگرے زوردار جھٹکوں کے بعد بالآخر ...
سعودی عرب میں مقیم غیر ملکیوں کو یکے بعد دیگرے زوردار جھٹکوں کے بعد بالآخر خوشخبری مل گئی

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

ریاض(مانیٹرنگ ڈیسک) سعودی عرب میں ایک کے بعد ایک شعبے سے غیر ملکیوں کو نکالنے کا سلسلہ جاری ہے لیکن سرکاری شعبے سے وابستہ غیر ملکیوں کے لئے خوشخبری ہے کہ ان کی نوکریاں فی الحال محفوظ نظر آ رہی ہیں۔ روزنامہ الوطن کے مطابق سول سروس کے وزیر سلیمان الحمدان کا کہنا ہے کہ سرکاری شعبے میں موجود غیر ملکیوں کو نکال کر ان کی جگہ سعودی شہریوں کو بھرتی کرنے کی شرح میں فوری اضافے کا کوئی پلان نہیں ہے۔ اس موقع پر انہوں نے اس بات کا تذکرہ ضرور کیا کہ گزشتہ سال ستمبر میں سرکاری شعبے کی سعودیت کا اعلان کیا گیا تھا۔ حکومت کا ارادہ تھا کہ سرکاری شعبے کی 28ہزار ملازمتیں 2020ءتک غیر ملکیوں سے لے کر سعودی شہریوں کے حوالے کی جائیں گی۔

وزارت کے مطابق سرکاری شعبے میں غیر ملکی زیادہ تر صحت اور اعلیٰ تعلیم کے شعبوں میں ہیں۔ ترقی اور پھیلاﺅ کی موجودہ شرح کے مطابق ان دونوں شعبوں میں سعودی شہریوں کی مطلوبہ تعداد فراہم نہیں ہوسکے گی اور خصوصاً صحت کے شعبہ میں خدمات سرانجام دینے کے لئے سعودی شہریوں کی مطلوبہ تعداد کی تیاری میں وقت لگے گا۔ اس وقت سرکاری شعبے کی کل 12لاکھ 37 ہزار 81 ملازمتوں میں سے 11لاکھ 73 ہزار 435 سعودی شہریوں کے پاس ہیں۔ سرکاری شعبے میں غیر ملکیوں کی تعداد 63ہزار 646 ہے جن میں سے 32 ہزار 336مرد اور 31ہزار 310 خواتین ہیں۔

مزید : عرب دنیا