بھارت کی پانی چوری

بھارت کی پانی چوری
بھارت کی پانی چوری

  

ضرب المثل ہے ’’چور مچائے شور‘‘۔۔۔ ’’نالے چور تے نالے چتر ‘‘۔۔۔’’الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے‘‘۔۔۔ مقبوضہ کشمیر پلوامہ میں بھارتی فوج پر کشمیری نوجوان کے حملے میں درجنوں بھارتی فوجیوں کے واصل جہنم ہونے کے بعد بھارت کی جانب سے اس حملے کا الزام براہِ راست پاکستان پر لگا دینے سے عالمی سطح پر جو صورتِ حال سامنے آئی، وہ مسلمہ حقیقت ہے کہ جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے سمجھوتہ ایکسپریس میں پاکستانی مسافروں کو رات کے اندھیرے میں زندہ جلا دیا گیا، تب بھی بھارت نے یہ الزام پاکستان پر لگایا،لیکن تحقیقات کے بعد یہ حقیقت سامنے آئی کہ اس مکروہ عمل میں بھارتی فوج کا حاضر سروس کرنل پروہت ملوث تھا اور آج بھی پاکستان اپنے شہریوں کو زندہ جلانے کے اندوہناک جرم میں بھارتیوں کے ملوث ہونے پر انصاف کا منتظر ہے، لیکن عالمی برادری خاموش ہے، بھارت نے ہمیشہ پروپیگنڈے کا سہارا لے کر دُنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکی ہے، جرائم خود ترتیب دیتا ہے اور ملوث پاکستان کو کرنے کی کوشش کرتا ہے،اسے کہتے ہیں ’’ چور مچائے شور‘‘۔۔۔ اسی طرح بھارت کی وفاقی کابینہ کے وزیر نتن گڈ کری نے بھڑک ماری ہے کہ ہم پاکستان کے تین دریاؤں کا پانی روک دیں گے، راوی،ستلج،بیاس کا پانی ڈیم بنا کر روکا جائے گا۔ اس کا مزید کہنا تھا کہ وہ سندھ طاس معاہدے کے تحت پاکستان کو ملنے والے دریاؤں کے پانی کو پاکستان میں بہنے نہیں دے گا اور پانی کو کشمیر اور بھارتی پنجاب کے لئے استعمال کیا جائے گا۔ اس اقدام کا سندھ طاس معاہدے سے کوئی تعلق نہیں، لیکن دوسری جانب نتن گڈ کری کے دفتر نے یہ بھی بتایا کہ اس فیصلے کا پلوامہ کے حملے سے کوئی تعلق نہیں ہے اور یہ بھی بتایا کہ سندھ طاس معاہدہ اپنی جگہ پر قائم رہے گا۔ نتن گڈ کری کے اعلان کے کچھ دیر بعد بھارتی حکومت کی جانب سے وضاحتی بیان جاری کیا گیا کہ بھارتی کابینہ نے 6 دسمبر 2018ء کو شاہ پور کنڈی ڈیم کی منظوری دی تھی، شاہ پور کنڈی ڈیم بننے سے دریائے راوی کا پاکستان کی طرف بہاؤ ررک جائے گا۔

ادھر پاکستان کے ڈپٹی انڈس واٹر کمشنر شیراز میمن نے کہا ہے کہ بھارت پاکستان کا پانی بند نہیں کر سکتا،بھارت کے پاس ہمارے دریاؤں میںآنے والا پانی روکنے اور رُخ موڑنے کی صلاحیت ہی نہیں، یہ سرا سر بھارتی گیدڑ بھبھکی ہے۔

شیراز میمن کا کہنا تھا عملی طور پر ایسا ممکن نہیں۔نریندر مودی نے وزیراعظم بنتے ہی اس حوالے سے بریفنگ لی تھی، جس پر انہیں معلوم ہوگیا تھا کہ ایسا ممکن نہیں،اس کے بعد مودی نے ایسا بیان نہیں دیا سیاسی لوگ سیاسی بات تو ضرور کرتے ہیں، عملی طور پر ایسا ممکن نہیں، جبکہ پاکستان انڈس واٹر کمشنر کا کہنا ہے کہ بھارت کی طرف سے پاکستانی دریاؤں کا پانی روکنے کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔

ایک طرف بھارتی وزیر کہہ رہے ہیں کہ سندھ طاس معاہدے سے کوئی لینا دینا نہیں، وہ قائم رہے گا اور 3 منصوبوں سے پانی واپس جمنا میں لا رہے ہیں تو اسے تو یہی کہیں گے کہ ’’ نالے چور تے نالے چتر‘‘۔۔۔ چین نے تبت میں اپنے ایک پن بجلی منصوبے کے لئے برہم پتر دریا کے ایک معاون دریا کا پانی روک دیا ہے، چین اس منصوبے سے بجلی پیدا کرے گا اور ساتھ ہی اسے سیلاب پر قابو پانے میں مدد ملے گی، لیکن انڈیا اور بنگلہ دیش اس سے فکر مند ہیں، کیو نکہ چین سے نکل کر برہم پتر دریا بھارت کی شمال مشرقی ریاستوں اروناچل پردیش اور آسام سے ہوتا ہوا بنگلہ دیش تک جاتا ہے۔

پاکستان کی قومی سیاسی قیادت اور کسان نمائندہ تنظیموں کی جانب سے بھارتی ہرزہ سرائی اور اس کی آبی جارحیت پر ٹھوس موقف سامنے آیا ہے۔امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ بھارت نے پاکستان کے پانی کو بند کیا تو ہم اس کو گردن سے پکڑ کر اس کی سانس بند کر دیں گے، پاکستان کا بچہ بچہ ایٹمی پاکستان ہے، ہم بھارت کی پاکستان کے خلاف کسی بھی جارحیت کا اایسا جواب دیں گے کہ اس کا دنیا سے وجود ختم ہو جائے گا۔

مزید :

رائے -کالم -