نواز شریف کی بیماری، پی ٹی آئی دفاع پر مجبور، مسلم لیگ (ن) کا میڈیا سیل اچھا کھیلا

نواز شریف کی بیماری، پی ٹی آئی دفاع پر مجبور، مسلم لیگ (ن) کا میڈیا سیل اچھا ...
نواز شریف کی بیماری، پی ٹی آئی دفاع پر مجبور، مسلم لیگ (ن) کا میڈیا سیل اچھا کھیلا

  

جلد یا بدیرمیاں نواز شریف بیرون ملک چلے جائیں گے، وزیر اعظم عمران خان کی اس حوالے سے ٹویٹ ، وزیر اعلیٰ پنجاب کے مشیرشہبازگل کی سابق وزیر اعظم سے ملاقات، انہیں ایکسرسائز سائیکل کی پیش کش ، وزراء کے مصلحت آمیز بیانات بھی اس بات کی نشاندہی کررہے ہیں کہ کہیں نہ کہیں میاں صاحب کو بیرون ملک بھیجنے کا فیصلہ ہوچکا ہے جبکہ اس بات کو تسلیم کرنا پڑے گا کہ مسلم لیگ (ن) کے میڈیا سیل نے نوازشریف کی بیماری کو بہترین انداز میں ’’ایکسپلائیٹ‘‘ کیا۔ میاں نوازشریف نے بھی اپنی مستقل مزاجی سے پی ٹی آئی کو دفاعی پوزیشن اختیار کرنے پر مجبور کردیا۔ اب یہ بات مان لینی چاہیے کہ ملک میں طاقتور کیلئے قانون اور ،کمزور کیلئے کچھ اور ہے۔

کوئی عام آدمی یہ تصور کرسکتا ہے کہ وہ ایک لاؤ لشکر کیساتھ نعرہ بازی کرتا اور ڈھول بجاتا کسی مجرم کو ملنے جیل جاسکتا ہے۔ بلاول بھٹو کا نوازشریف کے پاس جانا اس بات کی علامت ہے کہ سیاست میں اخلاقیات نام کی کوئی چیزنہیں ہوتی۔ یہ صرف مفادات اور مفادات کے تحفظ کیلئے کی جانے والی ’’مووز‘‘کانام ہے ،بلاول بھٹو نے سابق وزیراعظم سے ملاقات کرکے حکومت کے اوپر ناقابل برداشت دباؤ ڈال دیا۔چیئرمین پیپلز پارٹی نے زبردست سیاسی چال چلی، تاہم نواز شریف سے بلاول کی ملاقات جس انداز میں ہوئی اس نے پاکستان کے ان کروڑوں غریبوں اورمجبوروں کے احساس کمتری میں مزید اضافہ کیا جو عید سمیت دوسرے تہواروں پر بھی اپنے پیاروں سے جیل میں نہیں مل پاتے۔ کیونکہ نہ ان کے پاس دولت ہے نہ طاقت اور نہ ہی اختیار۔پنجاب کے نئے وزیر اطلاعات صمصام بخاری سابق وزیر اطلاعات کے برعکس انتہائی کم گواور دھیمہ لہجہ رکھنے والے آدمی ہیں، ان کی آمد یقیناًوزارت اطلاعات کیلئے اچھا شگون ہے تاہم ان کے سامنے چیلنجز فیاض الحسن چوہان سے بھی زیادہ ہیں۔

خوش قسمتی سے وہ ایک مضبوط سیاسی پس منظر رکھتے ہیں جبکہ ان کی سیاسی تعلق داری چودھریوں سے زیادہ نہیں تو کم بھی نہیں۔صمصام بخاری پی ٹی آئی ورکرز کو ساتھ لے کر چلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ان کا یہ فیصلہ اس بات کا عکاس ہے کہ وہ روزانہ کم از کم ایک گھنٹہ پی ٹی آئی ورکرز کیساتھ بیٹھا کرینگے۔ میں اس بات کا شاہد ہوں کہ لاہور میں پی ٹی آئی کے نظریاتی کارکن آہستہ آہستہ بددل ہورہے ہیں اور اگر وہ انہیں منالیتے ہیں تو پارٹی میں اس خلا کو پر کر سکتے ہیں جو ایک حقیقی لیڈر کی کمی کی صورت میں موجود ہے۔صمصام بخاری باصلاحیت،درپیش چیلنجزحل کرلیں گے۔

تجزیہ ایثار

مزید : تجزیہ