کرونا وائرس اور حکومتی اقدامات

کرونا وائرس اور حکومتی اقدامات

  

محکمہ اطلاعات نے پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے تعاون سے

ایک ویب سائٹ بھی ڈویلپ کی ہے جس پر آگاہی کے ساتھ حکومتی اقدامات

اور ہسپتالوں کے بارے میں اہم معلومات موجود ہیں

پاکستان میں مقیم چینی باشندوں اور ان کے کیمپوں

کے علاوہ ایران سے آنے والے اڑھائی ہزار سے زائد

زائرین کی سکریننگ مکمل کر لی گئی ہے

محکمہ صحت کا سرویلینس سنٹر 24گھنٹے مصروف عمل ہے

محکمہ اطلاعات نے ڈائریکٹوریٹ جنرل پبلک ریلیشنز میں مانیٹرنگ سیل قائم کیاہے جو صورتحال کو مانیٹر کر رہا ہے

حکومت کے خصوصی حفاظتی اقدامات کی بدولت حالات قابو میں ہیں، پنجاب میں کروناوائرس کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا

کرونا وائرس نے تقریباً پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے اور تاحال 91سے زائد ممالک میں کرونا وائرس کے مریض پائے گئے ہیں۔ کرونا وائرس ایک وبائی مرض ہے جو ناک اور منہ کے ذریعے انسان کے اندر داخل ہوتا ہے اور اس کے سسٹم کو متاثرکرتا ہے۔دو ماہ قبل کرونا وائرس کا حملہ چین کے شہر دوہان میں ہوا اور اس نے مزید دو شہروں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ یہ ایک ایسی ناگہانی آفت تھی جس نے سب کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا۔چین میں سب سے زیادہ افراد متاثر ہوئے اور ہلاکتیں بھی سب سے زیادہ ہوئیں۔ دنیابھر میں کرونا وائرس کے کنفرم مریضوں کی تعداد تقریباً ایک لاکھ13ہزارہوچکی ہے جبکہ چائینہ میں مریضوں کی تعداد 80ہزار سے زائد ہے۔ اس موذی مرض سے دنیابھر میں 3996سے زائد اموات ہوچکی ہیں۔اب تک 62517افراد صحت یاب ہوچکے ہیں۔ساؤتھ کوریا، ایران، اٹلی، جرمنی، فرانس، جاپان، سپین،امریکہ، سنگاپور، سوئٹزرلینڈ،برطانیہ، آسٹریلیا، سویڈن، ناروے، کویت، تھائی لینڈ، کینیڈا سمیت 91 ممالک متاثر ہوئے ہیں۔ پاکستان میں کرونا وائرس کے کنفرم مریضوں کی تعداد 7ہے اور ایک مریض صحت یاب ہوچکا ہے۔کرونا وائس کے حملہ سے پوری دنیا کے ممالک کی اکانومی بُری طرح متاثر ہوئی ہے۔ اس وقت تقریباً اہم ممالک کے ائرپورٹس، بندرگاہیں بند ہیں جس کی وجہ سے اشیاء کی نقل و حمل رک گئی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق عالمی منڈی میں تیل کی قیمت میں 8فیصد تک کمی واقع ہوئی ہے جبکہ سیاحت و ائرلائنز انڈسٹریز میں 50ارب ڈالر سے زائد نقصان کا خدشہ ہے۔

حکومت کے خصوصی حفاظتی اقدامات کی بدولت حالات قابو میں ہیں۔ پنجاب میں کروناوائرس کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا۔ اس کا کریڈٹ بڑی حد تک وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار اور ان کی ٹیم کوجاتا ہے جن کے بروقت حفاظتی اقدامات نے عوامی صحت کو یقینی بنائے رکھاہے۔جب اس موذی مرض کی خبریں دنیا میں پھیلی تو وفاقی سطح پر ہائی الرٹ جاری کیاگیا اور خاص طورپر پاکستان کے بڑے صوبے بلکہ نصف پاکستان یعنی صوبہ پنجاب کی قیادت نے ہنگامی بنیادوں پر فیصلے کئے۔ وزیراعلیٰ عثمان بزدار کی ہدایت پر صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر سیکرٹریٹ میں کنٹرول روم قائم کیا جو 24گھنٹے کام کر رہا ہے اور صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے۔وزیراعلیٰ پنجاب نے کابینہ کی خصوصی کمیٹی قائم کی جس کیلئے روزانہ کی بنیاد پر اجلاس ہوتے ہیں اور مختلف محکموں کی طرف سے کئے گئے انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیاجاتاہے۔ کرونا وائرس کے حوالے سے احتیاطی تدابیر کیلئے جامع ایس او پیز پر عملدرآمد کیاجا رہا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے اخبارات اور میڈیا کے سینئر کالم نگاروں اور اینکرز کو بریفنگ دیتے ہوئے کہاکہ عوام میں کرونا وائرس سے متعلق شعور اجاگر کرنے کیلئے میڈیا کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ وزیراعلیٰ نے بتایا کہ ضروری سازو سامان کی خریداری کیلئے 236ملین روپے کے فنڈز جاری کر دیئے ہیں۔پنجاب کے تمام ٹیچنگ ہسپتالوں میں ہائی ڈیپنڈنسی یونٹس اور 5بیڈز پر مشتمل آئیسولیشن وارڈ کا قیام عمل میں لایاگیا ہے۔ ایک ورکنگ گروپ بھی تشکیل دیاگیاہے جو صورتحال کا جائزہ لے کر اقدامات کرے گا۔ تمام انٹرنیشنل ائرپورٹس پر عملہ تعینات کیا گیا ہے۔لاہور، فیصل آباد، ملتان، سیالکوٹ اور رحیم یارخان کے ائرپورٹس پر 29ڈاکٹرز اور 73سٹاف کی ڈیوٹیاں لگائی گئی ہیں۔ ائرپورٹس اور داخلی و خارجی راستوں پر غیرملکیوں کی سکریننگ کی جا رہی ہے۔ پاکستان میں مقیم چینی باشندوں اور ان کے کیمپوں کے علاوہ ایران سے آنے والے اڑھائی ہزار سے زائد زائرین کی سکریننگ مکمل کر لی گئی ہے۔ ائرپورٹس پر ہنگامی اقدامات کیلئے پیشگی مشقیں کی گئی ہیں۔ تمام وفاقی اور صوبائی سٹیک ہولڈرز سے رابطے مکمل کر لئے گئے ہیں اور آپس میں معلومات کی شیئرنگ کی جا رہی ہے۔ کرونا وائرس کے مریضوں اور ٹیسٹوں وغیرہ کی منتقل کیلئے ایس او پیز تیار کر لئے گئے ہیں اور H1اور N1 ویکسین اور دیگر ادویات کی نقل و حمل کی سپلائی کا پلان تیار کر لیا گیا ہے۔ صوبے کے تمام بڑے ہسپتالوں میں ڈاکٹروں و دیگر پیرامیڈیکل سٹاف کی تربیت مکمل کر لی گئی ہے۔

صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے بتایاکہ پنجاب میں 3 سنٹرز کے ذریعے کرونا وائرس کے مریضوں کی تشخیص کی جاسکتی ہے۔ لیول تھری لیب،شوکت خانم اور چغتائی لیب کے ذریعے مفت ٹیسٹوں کی سہولت موجود ہ ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کی ہدایت پر بنائے جانے والی ٹیکنیکل ٹیم کرونا وائرس سے بچاؤ کے حوالہ سے اہم اجلاس کررہی ہے۔ وزیرصحت پنجاب نے کہا کہ کرونا وائر س کے حوالہ سے ہر 4 گھنٹے بعد تازہ رپورٹ آتی ہے۔ محکمہ صحت کا سرویلینس سنٹر 24گھنٹے مانیٹر نگ کررہا ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہر انسان کو ماسک کی ضرورت نہیں ہے۔ کھانسی اور زکام ہونے کی صورت میں دوسروں کو انفیکشن سے بچانے کیلئے مریضوں کا علاج کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت پورے پنجاب میں کرونا وائرس کے مریضوں کے علاج کے لئے 3 سرکاری ہسپتالوں انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی، مظفر گڑھ میں طیب اردگان ہسپتال اور لاہور میں پی کے ایل آئی کو مختص کیا گیا ہے۔ 36 اضلاع میں انتہائی نگہداشت یونٹس قائم کر دیئے گئے ہیں۔ آئیسولیشن رومز ہر ہسپتال میں موجود ہیں۔ 10 ہزار سے زائد ڈاکٹر ز کی تکنیکی تربیت کی جاچکی ہے۔ اس مرض کے پھلاؤ کا خدشہ بہت زیادہ ہوتا ہے لیکن اس مرض سے اموات کی شرح 3 فیصد سے زیادہ نہیں ہے۔کرونا وائرس کے مریض زیادہ جلدی ریکور کر لیتے ہیں۔ اس کے علاوہ ہاتھوں کو زیادہ سے زیادہ دھوئیں اور چہرے کو ہاتھ لگانے سے اجتناب کریں۔ ہر انسان ایک دن میں اپنے چہرے کو بغیر کسی وجہ کے 1000 سے 1500 بار ہاتھ لگاتا ہے جس کی وجہ سے جراثیم سے متاثر ہونے کے زیادہ خدشات ہوتے ہیں۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ پنجاب کے تمام سرکاری سکولوں میں آگاہی کتابچے تقسیم کردیئے گئے ہیں۔ علماء کو بھی مساجد میں لوگوں کو آگاہی دینے کی ایپل کی گئی ہے۔کچھ عرصے کے لئے ایک دوسرے سے ہاتھ بھی کم ملائیں تو بہتر ہوگا۔ صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمن راشد نے میڈیا کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ صوبائی کابینہ نے کینسر کے مریضوں کی ادویات کی خریداری کی باقاعدہ منظوری دے دی ہے اور پنجاب کے کسی بھی ہسپتال میں کتوں کے کاٹنے کی ویکسین میں کمی نہیں ہے۔ کسی بھی قسم کی شکایت کو 0800-99000 پر درج کرواسکتے ہیں۔اس موقع پر وزیرِ اطلاعات پنجاب فیاض الحسن چوہان نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح پاکستان نے افواجِ پاکستان، پولیس اور دیگر سکیورٹی اداروں کی مدد سے دہشتگردی کے ناسور کو شکستِ فاش دی، اسی طرح وزیرِ اعظم عمران خان اور وزیرِ اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کی قیادت میں کرونا کو بھی شکست دیں گے۔

صوبہ پنجاب سمیت وطن عزیر میں مجموعی طور پر بہتر صورتحال پر عالمی ادارہ صحت اور ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے بھی کروناوائرس کے حوالے سے کئے گئے انتظامات پر پاکستان اور صوبہ پنجاب کی حکومتوں کی کارکردگی کو سراہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ایسے وقت میں جب دنیابھر میں اس موذی وباء سے مختلف ملکوں میں تین ہزار سے زائد اموات ہوچکی ہیں۔ صوبہ پنجاب کا خاص طور پر وباء سے مکمل پاک ہونے کا کریڈٹ حکومت کوجاتاہے جس نے بہترین اقدامات کئے۔پاکستان میں ڈبلیو ایچ او کی نمائندہ ڈاکٹر پلیتھا گنا تھا کا کہناتھا کہ عالمی ادارہ صحت کے ریکارڈ کے مطابق پاکستانی حکومت بہترین کارکردگی پر ستائش کی مستحق ہے۔حقیقت یہ ہے کہ عالمی سطح کی اس تعریف کا بڑا کریڈٹ حکومت پنجاب کو بھی جاتاہے جس کی کارکردگی کے باعث پاکستان کو سراہاگیاہے۔

حکومت کے ساتھ ساتھ عوام کو بھی چاہیے کہ وہ اس وباء سے نمٹنے کیلئے حکومت کا ساتھ دے اور حکومت جو ہدایات جاری کرے ان پر عمل درآمدکیاجائے۔ عوام نے جس طرح حکومت پنجاب سے مل کر ڈینگی کو شکست دی اسی جذبے کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت ہے۔ ماہرین کے مطابق اس وباء سے بچنے کیلئے ضروری ہے کہ ہر فرد بار بار ہاتھ اور منہ کو اچھے طریقہ سے دھوئے۔ پرہجوم جگہ پر جانے سے گریز کرے۔اگر چھینک آئے تو منہ کے آگے رومال یا ٹشو پیپر وغیرہ رکھے اور اگر یہ دستیاب نہ ہو تو کھانستے یا چھینکتے وقت منہ کو کہنی سے ڈھانپ لے تاکہ دوسرے آپ کے منہ سے نکلنے والے جراثیم سے محفوظ رہیں۔ صحت مند افراد کیلئے ماسک پہننے کی ہرگز ضرورت نہیں،ماسک صرف وہی استعمال کرے جو بیمار ہو تاکہ اس کے جراثیم دوسرے افراد میں منتقل نہ ہوں۔ ماہرین کے مطابق ماحول کو صاف ستھرا رکھ کر بھی اس پر قابو پایاجاسکتا ہے۔ دین اسلام کی بنیاد ہی صفائی پر ہے کہاجاتا ہے کہ صفائی نصف ایمان ہے۔اس وباء سے چھٹکارا کیلئے بار بار ہاتھ اور منہ دھونے کی تاکید کی جا رہی ہے۔اگر غور کیاجائے تو آج سے چودہ سو سال قبل جب مسلمانوں پر نماز فرض ہوئی تو وضو کی تاکید کی گئی تاکہ پاک صاف ہوکر نماز ادا کی جائے۔ ہر مسلمان دن میں پانچ بار اپنے ہاتھ کہنیوں تک دھوتا ہے اسی طرح کلی اور ناک میں پانی ڈالتا ہے، منہ کو تین بار اور پاؤں کو دھوتا ہے جس سے وہ نہ صرف ہر قسم کے جراثیم سے پاک ہوجاتا ہے بلکہ اس کے گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں۔ ایک صحابیؓ نے نبی پاکؐ سے پوچھا کہ قیامت کے روز مسلمانوں اور دیگر قوموں میں کیا فرق ہوگا یعنی مسلمانوں کی پہچان کیسے ہوگی تو آقائے دو جہاں سرکار مدینہؐ نے فرمایاکہ ”وضو کرنے کی وجہ سے مسلمانوں کے ہاتھ اور چہرے چاند کی طرح چمک رہے ہوں گے۔“ یہ حضور اکرمﷺکا خاص کرم ہے کہ پاکستان کروناوائرس جیسی موذی وباء سے بچا ہوا ہے اور انشاء اللہ آئندہ بھی محفوظ رہے گا۔

محکمہ صحت کے ساتھ محکمہ اطلاعات کی ذمہ داری دگنی ہوجاتی ہے کہ وہ عوام میں اس موذی مرض سے متعلق شعور اجاگر کرنے کیلئے ہرممکن طور پر آگاہی مہم چلائے۔ صوبائی وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان کی سربراہی میں خصوصی آگاہی مہم کا آغاز کیاگیا ہے۔محکمہ اطلاعات نے ڈائریکٹوریٹ جنرل پبلک ریلیشنز میں مانیٹرنگ سیل قائم کیاہے جو صورتحال کو مانیٹر کر رہا ہے۔ اس وقت جاری مہم میں تین اہم نکات جن میں کرونا سے متعلق جھوٹی اور من گھڑت افواہوں کا سدباب، وائرس سے بچاؤ کی احتیاطی تدابیر بارے آگاہی اور بے جا خوف و ہراس سے بچاؤ کیلئے حکمت عملی شامل ہے۔ محکمہ پنجاب نے حکومتی اقدامات کے حوالے سے بینرز، سٹیمرز آویزاں کرنے کے علاوہ ایک دستاویزی فلم تیارکرکے صوبہ کے 36اضلاع میں بھجوائی ہے جس کو مقامی کیبل نیٹ ورک کے ذریعے چلایاجا رہا ہے۔اس کے علاوہ پرنٹ میڈیا کے ذریعے احتیاطی تدابیر پر مبنی تشہیری مہم شروع کی گئی ہے۔ ڈی جی پی آر کے ضلعی انفارمیشن آفیسرز کو اپنے اپنے اضلاع میں اخبارات اور دیگر تنظیموں کے اشتراک سے پبلک فورم کے انعقاد کیلئے احکامات جاری کئے گئے ہیں۔ عوام کو درست صورتحال سے آگاہ کرنے کیلئے کالم نگاروں اور ٹی وی اینکرز کو معلومات فراہم کی جا رہی ہیں۔ صوبائی وزراء صحت و اطلاعات ہفتہ میں دو بار مشترکہ پریس کانفرنس کریں گے۔ محکمہ اطلاعات و ثقافت صوبہ بھر کے آرٹس کونسلزکے زیراہتمام بچوں کی آگاہی کیلئے خصوصی پروگراموں کا انعقاد کر رہا ہے۔سوشل میڈیا پر بھرپور آگاہی مہم چلائی جا رہی ہے۔ محکمہ اطلاعات نے پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے تعاون سے ایک ویب سائٹ بھی ڈویلپ کی ہے جس پر آگاہی کے ساتھ حکومتی اقدامات اور ہسپتالوں کے بارے میں اہم معلومات موجود ہیں۔

وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے اوپن ڈیفیکشن فری پنجاب پراجیکٹ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اوپن ڈیفیکشن فری پنجاب پراجیکٹ کا تعلق عوام کی صحت سے ہے۔ صوبہ میں 13 فیصد سے زائد افراد ٹائلٹ کی سہولت سے محروم ہیں جبکہ 74 فیصد غریب خاندان ٹائلٹ کی عدم موجودگی کی وجہ سے مسائل کا شکار ہو رہے ہیں۔حکومت پنجاب نے یونیسف کے تعاون سے 10 پسماندہ اضلاع یہ پراجیکٹ لانچ کردیا ہے۔جھنگ، چنیوٹ، رحیم یار خان، بہاولپور، بہاولنگر، لودھراں، بھکر، خوشاب، ڈیرہ غازی خان اور راجن پور کے 1775 دیہات میں اوپن ڈیفیکشن فری پراجیکٹ کا آغاز کیاگیاہے اور ان اضلاع کا انتخاب سروے کی نتیجہ میں کیا گیاہے۔ پراجیکٹ کے تحت 3 سال میں 2 لاکھ ٹائلٹ بنائے جائیں گے اور 75 ہزار سے زائد خاندان مستفید ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ صفائی نصف ایمان ہے اورگرین اینڈ کلین پاکستان بھی ہمارا ایجنڈا ہے اوراس ضمن میں اوپن ڈیفیکشن فری پنجاب پراجیکٹ صحت کے حوالے سے انتہائی اہمیت کا حامل منصوبہ ہے۔انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت نے میونسپل سروسز پروگرام بھی شروع کیا ہے۔ 26ارب روپے کی لاگت سے اس پروگرام کے تحت نچلی سطح پر بنیادی سہولتیں مہیا کی جائیں گی۔منتخب نمائندوں کی مشاورت سے اس پروگرام پر عملدآمد کیا جارہا ہے۔ڈپٹی کمشنراس پروگرام کی مانیٹرنگ کر رہے ہیں۔

٭٭٭

مزید :

ایڈیشن 2 -