فلپ مورس نے مالی نتائج کا اعلان کر دیا

فلپ مورس نے مالی نتائج کا اعلان کر دیا

  

کراچی (پ ر) فلپ مورس (پاکستان) لمٹیڈ (PMPKL)نے 31دسمبر،2019ء کو ختم ہونے والے مالی سال کے نتائج کا اعلان کر دیا ہے۔ اِن نتائج کے مطابق کمپنی کو 2,444ملین روپے کا قبل از ٹیکس آپریٹنگ نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔قبل از ٹیکس آپریٹنگ نقصان کی بنیادی وجہ کوٹری میں فیکٹر ی کی بندش کے ذریعے اپنے آپریشنل فٹ پرنٹ کی تنظیم نو کرنا تھی جو پاکستان میں غیر متوقع مالی حالات کے باعث کاروبار کی طویل مدتی پائیداری یقینی بنانے کے لیے لازمی تھا۔اگرکوٹری میں فیکٹری اور جی ایل ٹی رضاکارانہ علیحدگی اسکیم کی بندش کے نتیجے میں ملازمین کی علیحدگی پر ہونے والے اخراجات اور ایک مرتبہ واقع ہونے والانقصان الگ کر دیا جائے تو ایسی صورت میں، کمپنی نے 31دسمبر، 2019ء کو ختم ہونے والے سال کے دوران مذکورہ بالاقبل از ٹیکس آپریٹنگ نقصان کی بجائے 357ملین روپے کا قبل از وقت منافع حاصل کیا، جیسا کہ اوپر بتایا گیا ہے۔اسی عرصے کے دوران، ٹیکس ادا کرنے والی تمباکو انڈسٹری کو ٹیکس ادا نہ کرنے والے غیرقانونی شعبے کی جانب سے چیلنجوں کا سامنا رہا کیونکہ حکومت کی جانب سے محدود عمل درآمد کے ساتھ ایکسائز ڈیوٹی میں بھاری اضافے کا سلسلہ جاری ہے۔حکومت نے ستمبر 2018میں value tier کے ایکسائز ٹیکس میں 46فیصد اضافے کا اعلان کیا اور بعدازاں، جون 2019میں بھی 32فیصد اضافہ ہوا جس کی بدولت ٹیکس ادا کرنے والی کمپلائنٹ انڈسٹری اورٹیکس ادا نہ کرنے والے غیرقانونی شعبے میں قیمتوں کے درمیان فرق میں اضافہ کے باعث قانونی قیمت سے بھی کم میں سگریٹ فروخت ہورہی ہے(ریٹیل آڈٹ کے مطابق،دسمبر 2019تک موجودہ غیرقانونی سگریٹ کی فروخت،تمباکو انڈسٹری کی کل مارکیٹ کا 34.7فیصد ہے)۔ ایکسائز ٹیکس کے اس حد سے زیادہ بڑھتے ہوئے رجحان کی وجہ سے ٹیکس ادا کرنے والی تمباکو انڈسٹری کے کاروباری حجم کو سنگین خطرات لاحق ہیں اور اس کا دُورعرض نقصان حکومتی آمدنی کی صورت میں ہوگا۔ لہٰذا، مساوی ٹیکس اسٹرکچر کے ساتھ قانون کی سختی سے عملداری ضروری ہے تاکہ غیرٹیکس ادا شدہ سگریٹوں کی دستیابی کو روکا جا سکے اور ٹیکس ادا کرنے والی انڈسٹری کے استحکام اورایکسائز ٹیکس میں متوازن اور قابل توقع اضافے کے ذریعے حکومتی آمدنی میں بھی اضافہ ہو سکے۔

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -