(ن) لیگ میں بزدار ”بگولہ“ پھیلنے لگا، مضبوط پلرز میں بھی دراڑیں

(ن) لیگ میں بزدار ”بگولہ“ پھیلنے لگا، مضبوط پلرز میں بھی دراڑیں

  

تجزیہ،ایثار رانا

جب بھیڑوں کا راکھا ملک چھوڑ کے چلا جائے گا تو پھر بھیڑوں کی بھی مرضی جہاں مرضی جائیں۔پاکستانی سیاست کی گلیاں پریکٹی کلی سنجیاں ہوگئی ہیں اور اس میں مرزا یار اپنے بزدار کے ساتھ کھل ڈل کے پھر رہا ہے۔لیکن یہ بات بذات خود خطرناک ہے۔ایک مضبوط جمہوریت کے لیے ایک تگڑی اپوزیشن کا ہونا بہت ضروری ہے۔اسوقت صورتحال یہ ہے کہ پیپلز پارٹی پاکستان بھر میں اپنے وجود کے بقا کی جدوجہد کررہی ہے پنجاب اور کے پی کے میں محترمہ کی شہادت کے بعد پی پی پی کی سیاسی موت واقع ہوگئی۔نواز شریف نے اس بدلتی صورت حال کے خلاف کچھ ہاتھ پاؤں مارے پھر وہ بھی ہار گئے۔شہباز شریف کبھی گیلے پہ پاؤں نہیں رکھتے۔حبیب جالب کی نظمیں پڑھنا اور انقلابی ہونا دو الگ باتیں ہیں۔اب آئیں وزیراعلیٰ بزدار کی طرف تو میں کئی بار عرض کرچکا کہ انہیں انڈر اسٹیمیٹ نہ کریں۔انہوں نے انتہائی انکساری سے اپنے تمام خطروں کو سائیڈ لائن کردیا۔کچھ کو تو اپنی چھوٹی موٹی وزارتیں کھو بیٹھے کچھ نیب زدہ ہوئے اور بزدار خود کو ایک زیرک سیاستدان کہلوائے بغیر مضبوط ہوتے گئے۔ن لیگی باغی ارکان سے ملاقات بارش کا پہلا قطرہ ہے،ایک بڑا طوفان تیار ہے اور بزدار اس طوفان کی کھچڑی پکا چکے۔اس طوفان کی گھن گرج مسلم لیگ ن کے اجلاس میں محسوس کی جاسکتی ہے۔مسلم لیگ میں بیانئے کی جنگ عروج پہ ہے۔دونوں بھائیوں میں قطعاً کہیں کوئی اختلاف نہیں لیکن سیاسی فاصلہ ضرور ہے۔خواجہ آصف کی معنی خیز باتیں شاہد خاقان کی ہاتھ جوڑ کے خاموشی کی استدعا سمجھنے والوں کے لیے کافی ہیں۔آنے والے دنوں میں آپ وزیراعلیٰ بزدار کو مزید مصروف جوڑ توڑ کرتے دیکھیں گے۔وہ کامیابی سے اپنے پتے کھیل رہے ہیں۔کامیابی لیکن خاموشی سے۔

تجزیہ

مزید :

تجزیہ -