یورپی یونین میں ویکسین کی برابر تقسیم نہیں ہورہی، آسٹرین وزیراعظم نے یورپی یونین کو تنقید کا نشانہ بنا ڈالا

یورپی یونین میں ویکسین کی برابر تقسیم نہیں ہورہی، آسٹرین وزیراعظم نے یورپی ...
یورپی یونین میں ویکسین کی برابر تقسیم نہیں ہورہی، آسٹرین وزیراعظم نے یورپی یونین کو تنقید کا نشانہ بنا ڈالا

  

ویانا(المیر باجوہ)آسٹرین وزیراعظم سبسٹین کرز نے آسٹریا میں ویکسینیشن کی صورتحال پر تبصرہ کیا اور یورپی یونین پر کڑی تنقید کی۔ انہوں نے ملک میں ویکسینیشن کی موجودہ صورتحال سے عوام کو آگاہ کیااور بنیادی طور پر یورپی یونین کے اندر ویکسین کی تقسیم پر شدید تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ یورپی یونین میں ویکسین کی منصفانہ تقسیم نہیں ہے،بظاہر آبادی کی کلید کے مطابق واضح تقسیم موجود نہیں ہے۔آسٹریا کے وزیراعظم اور یورپی یونین کے دیگر ممالک دوسرے ممالک کے ساتھ فراہمی کے اعداد و شمار کا موازنہ کرنے کے بعد اس نتیجے پر پہنچے کہ آسٹریا کو کوئی نقصان نہیں ہے۔ مثال کے طور پر ملک مالٹا میں بلغاریہ کی طرح کورونا وائرس کے خلاف ویکسین کی تقریباً تین گنا خوراکیں جون کے آخر تک ملیں گی۔ وزیراعظم کرز کے مطابق آسٹریا وسط میں ہے اور اس کے نتیجے میں اسے کوئی نقصان نہیں ہوا ہے۔اب اس لئے "شفافیت کی فوری ضرورت" ہے۔آسٹرین وزیراعظم نے کہا کہ ویکسینیشن اس وبائی بیماری کو شکست دینے کا ہمارا مشترکہ موقع ہے ،مجھے امید ہے کہ یہاں ایک حل تلاش کیا جاسکتا ہے۔ ویکسین کی فراہمی کے بارے میں معلومات دوسرے ممالک کے ساتھ بھی شیئر کی گئیں۔ آسٹریا میں 12 لاکھ کے قریب ویکسین کین موصول ہوئے ہیں۔ آسٹریا کے وزیراعظم نے کہا کہ بنیادی سوال یہ ہونا چاہئے کہ آئندہ چند ماہ میں کیا ہوگا اگر فراہمی اسی طرح جاری رہی تو بڑے پیمانے پر عدم مساوات پیدا ہوجائے گی۔ آپ سب ایسٹرا زینیکا ویکسین پر اعتماد کریں۔ آسٹرا زینیکا ویکسینیشن کے بعد ہونے والی موت کے بارے میں کرز نے کہا کہ ماہرین کے مطابق اس کا ویکسینیشن سے کوئی تعلق نہیں ہے اور آسٹریا کے وزیراعظم نے ایک بار پھر واضح کیا کہ مجھے بھی اپنی باری پر آسٹرا زینیکا ٹیکہ لگایا جائے گا کیونکہ مجھے اس ویکسین پر اعتماد ہے۔

مزید :

بین الاقوامی -