فلم ”زندگی تماشہ“  اور خواہش نمود

فلم ”زندگی تماشہ“  اور خواہش نمود
فلم ”زندگی تماشہ“  اور خواہش نمود

  

شوبز سے تعلق رکھنے و الے بیشتر افراد کا مسئلہ شہرت، ناموری، دولت اور خواہش نمود ہی ہوتی ہے۔اب چونکہ سوشل میڈیا نے الیکٹرانک میڈیا کی جگہ لے لی ہے اس لئے ہر کہیں آپ کو اسی دائرے میں سفر کرتے ہوئے کردار نظر آئیں گے۔لمحہ لمحہ لائیو نظر آنے کی تمنا، اپنے فینز سے اپنے لئے لائیک اور کمنٹ حاصل کرنے کی دوڑ  اور ویوز نے ہر ایک کو شوبز کا  رسیا بنا دیا ہے۔خودنمائی کی اس بری لت کی لپیٹ میں دوسرے لوگوں کی طرح مذہبی شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگ بھی بہت تیزی سے آ گئے ہیں۔سرمد کھوسٹ بھی اسی معاشرے کا حصہ ہے جس میں لوگ پہچان بنانے کی ہوس میں مرے جا رہے ہیں۔جب آپ اپنے شعبے میں اپنے کام سے مقام نہ بنا سکیں تو پھر اس کے حصول کے لئے کوئی بھی قدم اٹھانے سے گریز نہیں کرتے۔ ایسے مایوس لوگوں کے پاس کھیلنے کے لئے آخری پتہ مذہب  اور مذہبی اقدار کو  ہدف تنقید بنانا رہ جاتا ہے جو آسان  بھی ہے اور تیز اثر بھی۔ہر چند اس میں خطرات بھی ہوتے ہیں، لیکن مذہب مخالف قوتیں اس کو اٹھا کر وہاں لے جاتی ہیں کہ آپ کو معاشرتی، تہذیبی اور اخلاقی قدریں کیڑے مکوڑے نظر آنے لگتی ہیں۔دنیا بھر میں فلم بنانے کے پیسہ کمانے کے علاوہ  تین بنیادی مقاصد ہوتے ہیں

جس میں سب سے پہلا انفارمیشن، دوسرا انٹرٹینمنٹ اور تیسرا مثبت قدروں کا فروغ جبکہ ہمارے ہاں یہ تینوں مقاصد سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ میں نے دوسال قبل بھی اس حوالے سے کالم لکھا تھا جب مذہبی جماعتوں کے احتجاج کی وجہ سے  اس فلم کی نمائش روک دی گئی تھی اور معاملہ اسلامی نظریاتی کونسل کو بھجوایا گیا تھا، جس نے اسے اپنے دائرہ کار سے باہر ہونے کی بنا پر واپس بھیج دیا تھا، حالانکہ اس کا تعلق خالصتاً مذہبی اقدار اور معاشرے میں اس کی وجہ سے انارکی پھیلنے کے یقینی خدشات سے تھا۔بدقسمتی سے اس ادارے میں بھی تقرریاں سیاسی بنیادوں پر نوازنے کے لئے ہوتی ہیں، جس وجہ سے کوئی بالغ نظر اور دینی مسائل پر مضبوط موقف کبھی سامنے نہیں آ پاتا۔ یہاں سے کبھی بھی سنجیدہ مذہبی مسائل پر آگے بڑھ کر کردار ادا کرنے کی کوشش نہیں کی گئی  اور ہمیشہ دوسری شادی کے لئے پہلی بیوی سے اجازت لینا ضروری یا غیر ضروری جیسے  لایعنی مسائل پر ہی زیادہ غور و خوض جاری رہتا ہے۔اس موضوع پر لکھے گئے پچھلے کالم میں یہ عرض کیا گیا تھا کہ:۔

”فلم کی پوری کہانی سنے یا دیکھے بغیر اس پہ کوئی حتمی رائے قائم کرنا یقینا قبل از وقت ہے،لیکن اس کے حق میں اٹھنے والی پے در پے آوازوں نے شکوک و شبہات کو جنم دیا ہے۔مغربی اخبارات میں اس کی پذیرائی سے یہ تاثر یقینی طور پر  پیدا ہو تا ہے کہ واقعی معاملہ اتنا سادہ نہیں ہے جتنا اسے سمجھاجا رہا ہے۔ سب سے پہلے فلم کے موضوع کی بات کریں تو فلم بنانے والے کی اولین ترجیح Target Audience ہوتی ہے کہ یہ فلم کس طبقے میں پسند کی جائے گی۔ہر فلم معاشی منفعت اورمالی مفاد کے لئے بنائی جاتی ہے۔ حیران کن بات ہے کہ فلم بنانے والوں کو اس بات کا ادراک ہی نہیں کہ جن کرداروں کو اس فلم میں اجاگر کیا جا رہاہے اس شعبے سے منسلک لوگ تو فلم بینی کے لئے سینما کا رخ ہی نہیں کر سکتے۔لوگوں کی محبت عقیدت کے درجے میں ان سے جڑی ہوتی ہے، جو خود کسی ایسی جگہ پر موجود ہوتے ہوئے بھی انہیں وہاں دیکھنا مناسب نہیں سمجھتے۔اب اس سے آگے فلم کے ٹریلر کی کی بات کریں، جس میں  دو منٹ کچھ سیکنڈ کے کلپ سے جو منظر ابھر رہا ہے اس کے پہلے ہی سین میں مذہبی شناخت رکھنے والا ایک سفید ریش بزرگ ویڈیو پیغام کی صورت اپنا معافی نامہ ریکارڈ کروا رہا ہے، جس کی کوئی غیر اخلاقی ویڈیو منظر عام پر آ نے سے صورت حال بگڑ گئی ہے۔

سب سے پہلے تو اس کردار کے لئے کسی بزرگ کے انتخاب سے ہی ذہنی گھناؤنا پن جھلک رہا ہے۔ پھر ایک سین میں طرح طرح کے لوگوں کو اس کے کلپ سوشل میڈیا پر ایک دوسرے کو  دکھاتے اور مذاق اڑاتے دکھایا گیا ہے۔اس سے آگے ایک اور عمامہ پوش  باریش شخص کو اس سے نفرت آمیز لہجے میں بات کرتے اور اس کو توہین مذہب کا  جھوٹا الزام لگا کر لوگوں سے پٹوانے اور پھر جوتا اس کے منہ پہ مارتے دکھایا گیا ہے۔مذہبی شناخت، سفید ریش، داڑھی پر لگنے والا جوتا،بزرگ کا کسی نوجوان لڑکی کے عشق میں مبتلا ہونا،اور یہ جملہ کہ پانچ وقت کی نماز پڑھتا ہوں تو اس کا یہ مطلب تھوڑی ہے کہ میرا دِل ہی نہیں ہے (یعنی میں کوئی برائی نہیں کر سکتا) سب ایک خاص ذہنیت کی طرف اشارہ کرتا دکھائی دے رہے ہیں۔فلم کے پوسٹر میں اسی بزرگ کو ہیروئن کی چادر سے سر نکالتے ہوئے دکھانا بھی اسی سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔ سب سے بڑھ کر حضرت پیر مہر علی شاہؒ کی نعت کا مصرع ”گستاخ اکھیاں کتھے جا لڑیاں“ کو اس بزرگ نعت خوان کے معاشقے کے تناظر میں چلایا جا ناآخر کس کس بات سے صرف نظر کیا جائے۔ سنسر بورڈ اس معاملے میں حرف آخر نہیں، کیونکہ اس کی ناک تلے جیسی جیسی فلمیں پاس ہوتی ہیں اس سے کون آگاہ نہیں۔دینی حلقوں میں اس پر پہلے بھی صدائے احتجاج بلند ہوئی اور اب بھی خاموش نہیں رہا جائے گا اور شائد ان کا مقصد بھی یہی ہے،لیکن حکومتی ذمہ داران کہاں ہیں جنہیں  اس معاملے کی حساسیت کا فوری نوٹس لیتے ہوئے اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔ بہتر ہے کہ اس شعبے کے نمائندہ افراد، معتبر علماء  اور فلم بنانے والوں کے درمیان ایک مکالمہ اور بات چیت کی فضا پیدا کی جائے جس میں میڈیا کو بھی اپنا موثر رول ادا کرنے کی ضرورت ہے“۔

ہمیں یہ تسلیم کرنے میں کوئی عار نہیں ہونا چاہئے کہ ہم زندگی کے بیشتر شعبہ جات کی طرح  فلمی موضوعات کے حوالے سے بھی ذہنی بلوغت کی سطح کو نہیں پہنچ پائے۔بین الاقوامی سطح پر بننے والی فلموں کے موضوعات دیکھئے تو حیرت ہوتی ہے کہ ان کے ہاں قوموں کے ذہنوں کو کنٹرول کرنے کے سائنسی طریقہئ ہائے کار، جدید ٹیکنالوجی کے حیرت انگیز کمالات، دوسرے سیاروں تک انسانوں کی رسائی اور وہاں زندگی کرنے کے آثار تلاش کرنے کی جستجو، اقوام عالم پر حکومت کرنے  کے مظاہر، دوسروں کی تہذیبی و معاشری اقدار کو بدلنے کی تگ و دو،جرائم پیشہ افراد کے نیٹ ورک کو توڑنے کے خفیہ اطوار، انسانوں کے ذہنوں او ردلوں میں چھپے ہوئے خیالات کو جاننے کا ہنر، سمندروں کی تہوں اور خلاؤں کی بلندیوں میں چھپے رازوں تک کا سفر، دوسری مخلوقات میں رکھے گئے قدرت کے کرشمیاجاگر کرنے اور نہ جانے  ایسے کتنے ہی اور موضوعات عہد حاضر میں جدید فلمی رجحانات کا حصہ  بن کر نوجوانوں کی ذہنی اور فکری بلندی کا سامان کر رہے ہیں اور اس کے مقابلے میں ہم آج بھی مولا جٹ جیسی سوچ سے باہرنہیں آ سکے۔اب بھی ہم گجر بدمعاش، جٹ دا ویر، ملک دا کھڑاک  اور  بٹ دی پیشی جیسے عنوانات سے معاشرے میں انارکی اور بے راہ روی کی روش کو عام کرنے پر تلے ہیں۔

فلم بنانے والوں میں غیر تعلیم یافتہ لوگ  لڑائی جھگڑے کے موضوعات اور برادری ازم کو ٹارگٹ کر کے فلمیں بنا رہے ہیں، جو تھوڑے بہت پڑھے لکھے ہیں ان کا موضوع ہیرو کی زندگی کا مشن صرف ہیروئن کو حاصل کرنا دکھایا جاتا ہے، جس کے لئے وہ سردھڑ کی بازی لگا دیتا ہے اور جو ذرا اپنے آپ کو ماڈرن فلم میکر کے طور پر پیش کرنا چاہتے ہیں وہ اس معاشرے کی منفی قدروں  اورمذہبی طبقات کی خامیوں کو اچھال کر بین الاقوامی فلمی میلوں کی توجہ حاصل کرنے کی دوڑ میں شامل ہو نے کی تگ و دو میں لگ جاتے ہیں۔محنت سے اپنے میڈیا پر تو کامیابی نہ مل سکی، لیکن ایک قابل احترام مذہبی شناخت کو نشان تضحیک بنانے پر ریلیز ہوئے بغیر  93ویں اکیڈمی ایوارڈ کی لسٹ میں شامل ہونا  دنیوی کامیابی تو بہر حال ہے۔ جب مقصد شہرت،ناموری اوردولت  ہی رہ جائے تو وہ محنت سے نہ سہی طوائف بن کرہی سہی،لیکن سنا ہے کہ بازاری عورتوں کی آخری زندگی بہت کٹھن اور مشکل ہو جاتی ہے……

مزید :

رائے -کالم -