پاک ٹی ہاﺅس کی یادیں

پاک ٹی ہاﺅس کی یادیں
پاک ٹی ہاﺅس کی یادیں

  

سب سے پہلے پاک ٹی ہاﺅس کے بارے میں مَیں نے اپنے گورنمنٹ کالج لاہور کے زمانے میں سنا تھا کہ لاہور کے ادیبوں، شاعروں،دانشوروں، لکھاریوں، افسانہ،کہانی و ڈرامہ نویسوں کا مرکز اور بیٹھک ہے،جہاں اکثر و بیشتر مشہور ادیب و شاعر بیٹھتے ہیں اور باقاعدہ حلقہ ارباب ذوق کی ادبی نشستیں ہوتی ہیں۔بحث و مباحثہ، تنقید و تحسین ہوتی ہے۔اخبارات میں بھی اکثر پاک ٹی ہاﺅس کا چرچا رہتا تھا اور اکثر اعلانات اور ادبی بیٹھکوں کا ذکر خیر اور رپورٹیں ہوتی تھیں....چونکہ ہم گورنمنٹ کالج لاہور (جو اس وقت یونیورسٹی نہیں بنا تھا) کے کواڈرمینگل(موجودہ اقبال ہوسٹل) میں مقیم تھے، لہٰذا پاک ٹی ہاﺅس ہمارے قریب ہی نیلا گنبد اور شاہراہ قائداعظم(مال روڈ) کی ایک گلی میں واقع تھا۔مجھے یاد ہے کہ پاک ٹی ہاﺅس سب سے پہلے ہم اکیلے ہی گئے تھے۔اس طرح کئی بار آتے جاتے رہتے۔ ہمارے کالج کے شعبہ اردو کے اکثر اساتذہ، جن میں اصغر ندیم سید، عباس نجمی مرحوم، ڈاکٹر سعادت سعید،ڈاکٹر نیئر صمدانی، ڈاکٹر طارق زیدی وغیرہ کا وہاں آنا جانا رہتا تھا، لہٰذا ان سے بھی فارغ اوقات یا مجلسِ اقبال، مجلس صوفی تبسم اور پنجابی مجلس کے ادبی اجلاسوں میں اکثر و بیشتر ذکر سنتے رہتے تھے اور پروگراموں اور شیڈول کا پتہ بھی چلتا رہتا تھا۔

حلقہ ارباب ذوق رات کی چند ادبی محفلوں میں شرکت کا موقع بھی ملا۔کسی شاعر نے نظم یا غزل پڑھی۔مضمون یا مقالہ ،خاکہ پڑھا۔کچھ تعریف کے ڈونگرے برساتے اور کچھ تنقید کے نشتر چبھوتے۔کچھ ففٹی ففٹی اور بہت سارے ہم جیسے طالب علم یا نووار مہمان خاموشی سے یہ سب کچھ ایک اچھے سامع کی طرح سنتے اور دیکھتے رہتے۔پاک ٹی ہاﺅس کی ادبی نشستوں میں نہ آنے والے ادیبوں اور غیر ملکی دانشوروں پر بڑی لے دے ہوتی تھی۔اگر نظم،غزل،افسانہ، کہانی، خاکہ یا مضمون پڑھنے والا کوئی مشہور شخص ہوتا تو اکثر تعریف کے ڈونگرے ہی برستے۔اگر کوئی غیر معروف اپنی تخلیق پیش کرتا تو تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑتا۔یار دوست دوستی اور قربت کا حق ادا کرتے۔ صاحب صدر اپنے صدارتی کلمات سے نوازتے اور پھر چائے کا دور شروع ہوجاتا۔

پاک ٹی ہاﺅس میں ادیبوں کے باقاعدہ الیکشن بھی ہوتے ،جن کا شور اخبارات و کالج یونیورسٹیوں میں اکثر سنائی دیتا۔ سیکرٹری صدر و دیگر عہدیداروں کا چناﺅ ہوتا ۔یہ سالانہ بنیادوں پر ہوتا تھا۔چونکہ ہمارے کالج کے مختلف پروگراموں میں مشہور ادیبوں اور شخصیات کو بلوانے کا رواج تھا،یوں کالج کے زمانے ہی سے کالج میں ہی احمد ندیم قاسمی، احمد راہی، ڈاکٹر وحید قریشی، منیر نیازی وغیرہ کو دیکھنے اور سننے کا موقع پاک ٹی ہاﺅ س کے علاوہ بھی مل چکا تھا۔پاک ٹی ہاﺅس میں وصی شاہ، فرحت عباس شاہ، سعد اللہ شاہ، اختر شمار،ڈاکٹر سہیل احمد، خواجہ محمد ذکریا، اعتبار ساجد، حسین مجروح، انیس ناگی وغیرہ کو دیکھنے اور سننے کا موقع ملا۔ان دنوں پروین شاکر، احمد ندیم قاسمی، وصی شاہ اور فرحت عباس شاہ کی شاعری کا طوطی بولتا تھا۔ پاک ٹی ہاﺅس کی یادوں کے حوالے سے دویادیں مجھے کبھی نہیں بھول پائیں گی۔یہ دونوں یادیں دو دوپہر کے کھانے یا ظہرانے سے وابستہ ہیں۔گورنمنٹ کالج میں ہمارے ایک اردو شعبے کے استاد تھے۔ڈاکٹر نیئر صمدانی، اللہ غریق رحمت کرے۔بڑے نفیس اور محبت کرنے والے انسان تھے۔ہم کالج گزٹ اور کالج کے سالانہ میگزین سے بھی وابستہ تھے اور وہ اس کے انچارج بھی تھے۔اس لئے کالج کے فارغ اوقات میں ان کے پاس اکثر چلے جاتے تھے۔

باﺅ جی اردو شعبہ کا اٹینڈنٹ تھا، اس کی چائے بڑی مشہور تھی۔خاص طور پر سردیوں میں۔صمدانی صاحب چائے بھی پلاتے اور گپ شپ بھی کرتے۔ایسے ہی ایک روز صمدانی صاحب کے پاس کالج کی پڑھائی کے بعد بیٹھے ہوئے تھے کہ کہنے لگے۔اسلم، آﺅ آج آپ کو ذرا باہر کی سیر کراتا ہوں۔مَیں بھی فارغ تھا،حامی بھر لی۔وہ مجھے پاک ٹی ہاﺅس لے گئے اور دوپہر کے کھانے کا آرڈر دے دیا۔کھانا بڑا پُرتکلف تھا۔اپنے ایک شفیق استاد کے ساتھ یہ پاک ٹی ہاﺅس کا ظہرانہ مجھے کبھی نہیں بھولتا۔ نیرصمدانی نقاد کے ساتھ ساتھ ایک شاعر بھی تھے اور درویش صفت انسان تھے۔کبھی ہوس یا لالچ نہیں رکھتے تھے۔ان کے تنقید پر مبنی مضامین کا ایک مجموعہ بھی شائع ہوچکا تھا۔شعر چھوٹی بحر میں اردو اور پنجابی دونوں زبانوں میں کہتے تھے۔

دوسری یاد مشہور شاعر و ادیب ناصر بشیر کے ساتھ پاک ٹی ہاﺅس میں ظہرانے کی ہے۔اس بار وہ مہمان اور ہم میزبان تھے۔دیئے ہوئے وقت پر تشریف لائے۔کھانے کے دوران وہ پاک ٹی ہاﺅس کی تاریخ، بیٹھکوں، ادبی کہکشاﺅں، ادیبوں اور نئے پرانے پاک ٹی ہاﺅس کی یادوں کے بارے میں آگاہ کرتے جارہے تھے۔ناصر بشیر صاحب دل کے بڑے خوبصورت انسان ہیں۔کتابی چہرہ، سیلف میڈ انسان ہیں اور مختلف کالجوں میں شعبہ اردو سے منسلک رہے ہیں۔پاک ٹی ہاﺅس کو سجانے، تصاویر لگانے اور اس کی تزئین نو میں ان کا بڑا کردار ہے۔

ہم لوگ تو حالِ دل کہنے کے لئے نثر اور کالم و مضامین کا سہارا لیتے ہیں،جبکہ ناصر بشیر کا کمال یہ ہے کہ وہ ہر موضوع کو نظم، غزل اور اشعار کے پیرائے میں بڑی مہارت سے ڈھال لیتا ہے۔یہ اس پر اللہ کا بڑا کرم ہے۔ہر روز کوئی نئی نظم یا غزل پاکستان کے مجموعی حالات کے حوالے سے روزنامہ ”پاکستان“ کے اولین یا بیک صفحے پر شائع ہوتی ہے۔ روزنامہ ”پاکستان“ سے انہیں خاص محبت ہے ۔

بات ہورہی تھی پاک ٹی ہاﺅس کی یادوں کے بارے میں۔پاک ٹی ہاﺅس کا وجود لاہور کے ادیبوں کے لئے ایک گوشہ ءامن و عافیت کی حیثیت رکھتا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس طرح کے ادارے اور ادبی مرکز پاکستان کے دیگر تمام شہروں میں حکومتی سرپرستی میں قائم ہونے چاہئیں اور ہمارے ادیبوں، شاعروں، تخلیق کاروں، دانشوروں، افسانہ ، ڈرامہ اور کہانی نویسوں اور لکھاریوں کی حوصلہ افزائی اور سرکاری سرپرستی ہوتی رہنی چاہیے،تاکہ بہتر اور فائدہ مند ادب تخلیق کیا جا سکے۔    ٭

مزید :

کالم -