شام میں کیمیائی حملوں سے معذوربچے پیداہونے لگے

شام میں کیمیائی حملوں سے معذوربچے پیداہونے لگے

دمشق(این این آئی)شام میں صدر بشارالاسد کی حامی فورسز کی جانب سے باغیوں کے خلاف مبینہ طور پر کیمیائی ہتھیاروں کے حملوں کے نہایت تباہ کن اثرات سامنے آئے ہیں اور ان حملوں سے متاثرہ مائیں مافوق الفطرت اور اپاہج بچے جنم دینے لگی ہیں،عرب ٹی وی کے مطابق ادلب کے باب الھویٰ اسپتال کے ڈاکٹروں نے بتایاکہ جود نامی ایک بچی جو اب چار ماہ کی ہو چکی ہے جسمانی طور پر مکمل طور پر معذور ہے اس کی معذوری کی بنیادی وجہ اس کی ماں کا کیمیائی حملے کے نتیجے میں متاثر ہونا بتایا جاتا ہے بچی کی والدہ گذشتہ برس مئی میں حمص میں صدر بشارالاسد کی فوج کی طرف سے کیے گئے ایک کیمیائی حملے سے زخمی ہوئی تھی، تب وہ دو ماہ کی حاملہ تھی کیمیائی گیس کے مضر اثرات نے اس کے رحم میں موجود بچی کو بھی اپاہج بنا دیا ہے،بچی کی نگہداشت پر مامور ڈاکٹر نے بتایا کہ شیر خوار کی معذوری کی بنیادی وجہ اس کی والدہ کا کیمیائی حملے سے متاثر ہونا ثابت ہو گیا ہے کیمیائی حملے سے متاثر ہونے کے باوجود خاتون کا حمل برقرار رہا لیکن پیدا ہونے والی بچی کی بائیں ٹانگ اور دائیں ہاتھ کی ایک انگلی کٹی ہوئی دکھائی دیتی ہیں اور بایاں پاو¿ں مکمل طور پر ٹیڑھا ہے جس کی انگلیوں کی پور غائب ہیں،برسلز میں قائم اس تحقیقاتی کمیشن کی جانب سے جاری ایک رپورٹ میں ادلب کی اپاہج شیر خوار بچی کو بھی کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے ثبوت کے طور پر پیش کیا گیا تھا، رپورٹ میں اس نوعیت کے کئی دوسرے کیسز کا بھی حوالہ شامل ہے جس میں دمشق کے قریب پیدا ہونے والی ایک بچی کا احوال بھی شامل ہے۔

 جس کی والدہ گذشتہ برس اگست میں کیمیائی ہتھیاروں سے کیے گئے ایک حملے میں زخمی ہوئی تھیں۔

مزید : عالمی منظر