مسلسل جھگڑوں کے باعث جلد موت کا خطرہ بڑھ جاتاہے ،محققین

مسلسل جھگڑوں کے باعث جلد موت کا خطرہ بڑھ جاتاہے ،محققین

کوپن ہیگن(آن لائن)ڈنمارک کے محققین نے کہا ہے کہ پا رٹنر، دوستوں یا رشتے داروں کے ساتھ اکثر ہونے والی بحث اور جھگڑوں سے وسط عمری میں موت کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق ایپڈیملجی (وبا سائنس) اور کمیونٹی ہیلتھ کے ایک میگزین میں محققین کا کہنا ہے کہ مسلسل ہونے والی بحث سے مردوں اور بے روزگار لوگوں کو زیادہ خطرہ ہوتا ہے۔تحقیق یہ بھی بتاتی ہے کہ قریبی تعلقات میں آنے والی پریشانیاں اور توقعات موت کی شرح میں اضافہ ہیں۔اس تحقیق میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ دباو¿ سے نمٹنے کی ہر شخص میں مختلف صلاحیت ہوتی ہے۔ ان سے متاثر ہونا انسان کی شخصیت پر منحصر ہے۔

کوپن ہیگن یونیورسٹی کے محققین کا اندازہ ہے کہ مسلسل بحث اور جھگڑے سے موت کی شرح میں دوگنا یا تین گنا اضافہ ہو سکتا ہے۔ ویسے وہ اس بات کی وضاحت کرنے کے قابل نہیں کہ ایسا کیوں ہوتا ہے۔اس سے پہلے کے گئی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ جو انسان اپنے پارٹنر اور بچوں، اور خاندان کے قریبی ارکان کے ساتھ اکثر بحث میں الجھتا ہے، اسے دل کا دورہ پڑنے اور دل کے امراض کی ضرورت سے زیادہ امکان ہوتا ہے۔ماضی میں کی گئی کئی تحقیق سے بھی یہی ظاہر ہوتا ہے کہ اگر آپ کے بہت سے دوست ہیں اور سب کے درمیان گرم جوشی والا تعلق ہے تو اس دائرے میں آنے والے لوگوں کی صحت پر بھی اس کا مثبت اثر پڑتا ہے۔دباو¿ میں جس طرح کا نفسیاتی رد عمل سامنے آتا ہے اس میں جیسے کہ بلڈ پریشر اور دل کی بیماری کا خطرہ شامل ہے ۔تازہ مطالعہ میں محققین کا کہنا ہے کہ دباو¿ میں جس طرح کا نفسیاتی رد عمل سامنے آتا ہے، جیسے کہ بلڈ پریشر اور دل کی بیماری کے خطرے، یہ سب موت کی شرح میں اضافے کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔تحقیق کے مطابق ’بحث اور جھگڑے سے پیدا ہونے والے دباو¿ کا اثر سب سے زیادہ مردوں پر پڑتا ہے۔ ان میںکولیسٹرول کی مقدار بڑھ جاتی ہے جس سے صحت پر منفی اثر پڑتا ہے۔مطالعہ میں 36 سے 52 سال کے قریب 9،875 مردوں اور خواتین کو شامل کیا گیا۔ ان کی معلومات سے اس بات کے امکانات کو تلاش کرنے کی کوشش کی گئی کہ کشیدہ معاشرتی تعلقات اور جلد موت کے درمیان کیا تعلق ہے۔مطالعے کے دوران پتہ چلا ہے کہ شریکِ حیات اور بچوں کی طرف سے کیے جانے والے مسلسل مطالبات اور روز روز کے جھگڑوں سے موت کے خطرے میں 50 سے 100 فیصد اضافہ ہو جاتا ہے۔کوپن ہیگن یونیورسٹی کی ڈاکٹر رییلد کا کہنا ہے کہ ’ویسے تو تشویش اور جھگڑے روز مرہ کی زندگی کا حصہ ہیں۔ لیکن جن لوگوں کی اپنے نزدیکی رشتہ داروں یا پارٹنر سے اکثر کھٹ پٹ ہوتی رہتی ہے، انہیں زیادہ خطرہ ہوتا ہے اور ایسے لوگوں کی مدد کی جانی چاہیے۔

 

مزید : عالمی منظر