بھارت موبائل فون کا تنازع ہندو انتہا پسندوں نے 18 سالہ مسلمان قتل کر دیا

بھارت موبائل فون کا تنازع ہندو انتہا پسندوں نے 18 سالہ مسلمان قتل کر دیا

                    مظفرنگر(آن لائن)بھارتی ریاست اترپردیش کے ضلع مظفرنگر میں ہندو انتہاءپسندوں نے موبائل فون کی قیمت کے تنازعہ پر ایک اٹھارہ سالہ مسلمان طالبعلم کو زبردست تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد گولی ماردی۔ بھارتی میڈیا کے مطابق مظفرنگر شہر کے رہائشی اویس ولد صمد قریبی موبائل فون شاپ پر موبائل فون لینے کیلئے گیا۔ یہ دکان ایک ہندو کی تھی۔ ہندو دکاندار اور مذکورہ طالبعلم کے درمیان موبائل کی قیمت پر تکرار ہوئی جس کے بعد وہاں پر موجود ہندو دکاندار اور اس کے دیگر انتہاءپسند ساتھیوں نے اس اٹھارہ سالہ طالبعلم کو پہلے شدید تشدد کا نشانہ بنایا اور سڑک پر گھسیٹتے رہے بعدازاں اسے گولی مار کر ابدی نیند سلادیا۔ واقعہ کیخلاف وہاں کی مسلمان کمیونٹی نے احتجاج بھی کیا تاہم بھارتی پولیس نے روایتی تعصب پسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مقتول کے والدین کو مجرم ٹھہراتے ہوئے خاموش رہنے کی دھمکی دی۔ ادھر مسلم کمیونٹی نے اعلی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس واقعہ کی تحقیقات کرواکر انہیں انصاف اور تحفظ فراہم کریں۔

مزید : عالمی منظر