باتیں کچھ دل کی کچھ دُنیا کی

باتیں کچھ دل کی کچھ دُنیا کی
 باتیں کچھ دل کی کچھ دُنیا کی

  


گزشتہ دنوں شہر میں کتابوں کے حوالوں سے بہت سی تقریبات ہوئی ہیں ۔ ادارہ بیاض کی طرف سے فرحت پروین کے نئے مجموعے ’’بزم شیشہ گراں ‘‘کی تقریب، جس میں ڈاکٹر شہریار نے مہمان خصوصی کی حیثیت سے شرکت کی تھی۔عمران خان کی طرح ڈاکٹر شہریار کینسر سپیشلسٹ ایک ایسا ہسپتال بنانے پر تلے ہوئے ہیں جہاں ہرغریب اور اِس بیماری کے شکار افراد کا علاج ہوسکے۔ان کے ساتھ بہت سے ڈاکٹروں کی ٹیم ہے۔جوان اور باہمت لوگ جن کے جذبے قابل ستائش ہیں۔فرحت پروین اس بہت بڑے کام میں نہ صرف اُن کی مدّاح ہے، بلکہ انکے پینل کی ایک فعال رکن بھی ہے۔جانی اور مالی ہر طرح کے تعاون پر مائل ہے اور دوسرے لوگوں کو مائل کرنے پر سرگرم ہے۔

فرحت پروین لکھاریوں اور ادیبوں کے ساتھ متعدد تقریبات منعقد کر چکی ہے۔ جہاں ڈاکٹر شہر یار ،ڈاکٹر شاہینہ آصف اور دیگر ڈاکٹروں نے تفصیلی اپنے عزائم کا اظہار کرتے ہوئے ادیبوں اور دانشوروں کا تعاون مانگا ہے۔ اُن سے التجا کی ہے کہ وہ اِس عظیم کام میں اُن کا ہاتھ بٹائیں۔ فرحت پروین کے افسانوں کے حوالوں سے جب ڈاکٹر شہر یار نے گفتگو کی تو سامعین حیران رہ گئے کہ ایک کینسر سپیشلسٹ ڈاکٹر اتنے اعلیٰ ادبی ذوق کا حامل ہے۔وہ تحریر کے اندر جھانک کر کیسے اتنا خوبصورت تجزیہ کررہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ فرحت کے ہاں موضوعات کا تنوع ہے ۔دراصل وہ مختلف سرزمینوں کی باسی ہے۔دنیا میں گھومتی پھرتی ہے ۔رنگا رنگ کرداروں سے ملتی ہے۔ انسا نی زندگی اور رویوں کے بے شمار عکس اُسے نظر آتے ہیں، جنہیں لفظوں کے پیراھن پہنا کروہ قارئین کو سونپتی ہے۔ ’’بزم شیشہ گراں‘‘ اس کا نیا افسانوی مجموعہ ہے اور سابقہ مجموعوں کی طرح کمال کا ہے۔ اس کے رنگ و آہنگ میں نئے اضافے ہیں۔ اسلوب میں جدتیں ہیں۔ کہانیاں پیج ٹرنر ہیں۔ایک لکھنے والے کی بڑی خوبی اور کامیابی یہ بھی ہے کہ وہ قاری کو گرفت میں لے لے۔ فرحت کے ہاں یہ خوبی بدرجہ اتم موجود ہے۔ وہ چابک دستی سے قاری کو مجبور کرتی ہے کہ وہ ورق پلٹے ۔اُس کی ایک کہانی ایسی نہیں، جس نے کسی بڑے معاشرتی ایشو کو نہ کھولا ہو ۔ یہ کہانیاں انسانی رشتوں کی کہانیاں ہیں۔ عورت کے اندر کی کہانیاں ہیں۔

ہمارے اردگر اتنی مایوسیاں پھیلی ہوئی ہیں کہ جب اپنی قوم کا کوئی روشن رُخ سامنے آ تا ہے۔ توچند لمحوں کے لئے یقین ہی نہیں آتا کہ اللہ ہمارے ہاں بھی ایسے لوگ ہیں جو یہ سنہری روایات بو رہے ہیں۔جی چاہتا ہے کہ نیشنل ہائی وے پولیس کے سربراہ کو سلیوٹ ماروں۔ انہیں بھرپور خراج عقیدت پیش کروں۔ فیصل آباد کی تحصیل سمندری میں کسی عزیز کی عیادت کئے لئے جانا پڑا۔ راستہ اوکاڑہ کا لیا۔ پتوکی سے ذرا آگے ٹریفک وارڈن نے ڈرائیور کو رکنے کا سگنل دیا۔گاڑی آگے جا کر رک گئی اور ڈرائیور اُتر کر ان کی جانب گیا کہ روکنے کی وجہ معلوم کرے۔ دس ،پندرہ ،بیس منٹ گزر گئے۔ مَیں نے پریشانی سے سوچا کہ معلوم نہیں کیا بات ہے؟ابھی میں اُترنے کا ارادہ کر ہی رہی تھی کہ ٹریفک وارڈن نے گاڑی کے پاس آکر اترے شیشے سے مجھے دیکھتے ہوئے کہا،

آپ کو زحمت دے رہا ہوں۔ اپنے ڈرائیور کو سمجھائیے کہ وہ چالان پرچی کٹوائے ۔ہمیں دو سو روپیہ دے کر معاملہ رفع دفع کرنے کا کہہ رہا ہے۔ہم کسی قیمت پر ایسا نہیں کرتے۔میرے تو جیسے تن بدن میں آگ لگ گئی ۔ ڈارئیور پر شدید غصہ آیا۔ کمبخت کے جیسے ہڈیوں میں بے ایمانی رچی ہوئی ہے۔جانتا بھی ہے پھر بھی باز نہیں آتا۔ کھٹ سے دروازہ کھولا اور اُن کی طرف بھاگی، جہاں ڈرائیور انکے ساتھ معاملے کو غلط طور پر نپٹانے کی کوشش کر رہا تھا ۔

پہلے تو اُسکی تواضع کی ۔ وارڈن سے چالان کاٹنے کو کہا۔اور جب وہ میرے ہاتھ میں سات سو جرمانے کی رسید تھما رہا تھا ۔ مَیں نے کہا، میرا جی چاہتا ہے میں آپ کو سلیوٹ ماروں ۔ یہ جرمانہ ادا کرتے ہوئے مجھے بڑی خوشی ہو رہی ہے کہ میرے ملک میں ایسا ہونے لگا ہے۔ جس کی خواہش ہماری تمنا رہی ہے اور مجھے ذرا بتا دیجئے کہ اِس سے کہاں غلطی ہوئی؟ تاکہ یہ دوبارہ اس غلطی کو نہ دہرائے۔

’’شہری آبادی کے قریب رفتار کم رکھنی ضروری ہے بورڈوں پر نشاندہی کی گئی ہے۔ اس کے مطابق ڈرائیونگ اور سپیڈ ہونی چاہئے‘‘۔ اُس نے متشکر نظروں سے مجھے دیکھا۔

لوڈشیڈنگ سے تو نپٹتے نپٹتے ہپوہان ہوچکے ہیں۔ ایک گھنٹہ آنے اور ایک گھنٹہ جانے کا شغل۔ دن اسی آگئی اور چلی گئی کا ورد کرتے گزرتا ہے۔اب اتنی ہمت حکومت میں نہیں کہ بجلی چور بڑی مچھلیوں پر ہاتھ ڈالے ۔ پکڑے اور اُنہیں ذبح کرے۔ ایسے میں وزیروں کے سڑے بُسے بیانات اور جی کو جلاتے ہیں۔اُوپر سے پولیو کے قطروں کا ایشو ۔ خوب جگ ہنسائی ہو رہی ہے۔لگتا ہے کہ جانے کن غاروں کے زمانوں میں یہ ہمیں دھکیلنے کے لئے مرے جارہے ہیں۔

بھارت کے انتخابات بھی خاصی تشویش کا باعث بن رہے ہیں۔ بھارتی جنتا پارٹی (بی جے پی) کی کامیابی اور نریندر مودی کا بطور وزیراعظم بننے کی تگ و دو نے نہ صرف پاکستان بلکہ ہندوستان کے بھی سنجیدہ مزاج حلقوں کو پریشان کر رکھاہے۔ حتمی نتائج تو مئی کے وسط تک سامنے آئیں گے۔ پس دو چار روز کی ہی بات رہ گئی ہے، مگر جوکچھ تو سامنے آ گیا ہے۔ وہ خاصا پریشان کن ہے۔ یہ اور بات ہے کہ خود بی جے پی کے اندر ایک کشمکش اور تناؤ کی سی کیفیت بڑھ ہی ہے کہ جتنے متوازن سوچ والے لوگ ہیں انہیں انتہا پسندوں نے پارٹی سے ہی نکال باہر کر دیا ہے۔کسی بھی پارٹی یا تنظیم میں جب آئیڈیا لوجی اورکیڈر سسٹم کی جگہ شخصیتیں مرکز بن جائیں، تو پھر کام ٹھیک نہیں رہتا۔ بی جے پی بھی اسی راستے پر چل نکلی ہے۔ نریندر مودی خود پسند اور مخالف بات سُننے کا روادار نہیں۔ اعتدال پسند لوگ اب ناقابل برداشت ہو گئے ہیں۔

جسونت سنگھ تو آؤٹ ہو گئے ہیں۔ سچ لکھنے کے جرم میں ’جناح کی تعریف لکھنے پر۔ انہوں نے بھی پارٹی کے ایسے تنگ نظر رویوں پر اُس کے خوب خوب لتے لئے تو شرما شرمی دوبارہ داخل دفتر کئے گئے، مگر اب آزاد الیکشن لڑنے پر توپوں کی زد میں آ گئے ہیں۔

کا ش انڈیا کے مسلمان تعلیمی ،فکر ی اور سماجی طور پر مضبوط ہوتے تو جس طرح باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت نریندر مودی نے گجرات کے مسلمانوں پرظلم کے پہاڑ توڑے ۔ایسی شرمناک حرکت کرنے سے قبل وہ دس با ر سوچتے ۔ڈھٹائی کا یہ عالم ہے کہ ایک بار بھی اس پر ندامت کا اظہار نہیں کیا۔کانگریس کا پھر ظرف ہے کہ اُس نے سکھ فسادات پر علانیہ معافی مانگی ۔ہم جیسے پاکستانی تو دُعا ہی کرسکتے ہیں کہ ملک کے لئے بہتریاں ہوں۔

افغانستان کی نئی قیادت کو خدا عقل و شعور دے کہ وہ پاکستان کی قربانیوں اور مسائل کو سمجھے اور ہندوستان کی گود میں گرنے سے قبل سوچے۔خدا ملکی لیڈروں اوراپوزیشن کو بھی سیدھا راستہ دکھائے۔عمران خان جس طرز عمل کا اظہار کرہے ہیں۔اس پر بھی عام آدمی پریشان ہے۔ وہ ساری امیدیں جو اس کی ذات سے وابستہ تھیں ،ڈوبتی نظر آ تی ہیں۔ *

مزید : کالم