فرنٹیئر کور پھر نشانے پر!

فرنٹیئر کور پھر نشانے پر!
فرنٹیئر کور پھر نشانے پر!

  


جیسا کہ آپ خبروں میں پڑھ چکے ہوں گے 8مئی 2014ء(جمعرات) کو وزیرستان کے علاقے میں فرنٹیئر کور کی ایک کانوائے کو ایک حادثہ پیش آیا جس میں Fc 9اہلکار شہید اور کئی زخمی ہو گئے۔

آپ کو یہ بھی یاد ہو گا کہ ابھی دس روز پہلے 30اپریل2014ءکو آرمی چیف نے یوم شہدا پر اپنے خطاب میں دہشت گردوں کو خبردار کیا تھا کہ وہ اپنی ملک دشمن کارروائیوں سے باز آ جائیں۔ ملک کے آئین و قانون کی پاسداری کریں بصورت دیگر ان سے سختی سے نمٹا جائے گا۔ یہی وجہ تھی کہ آرمی چیف نے اسی روز (8مئی کو) وزیراعظم ہاﺅس، اسلام آباد میں ان سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں کیا کہا اور کیا سُنا گیا ہو گا اس کے لئے زیادہ سر کھجانے کی ضرورت نہیں۔ خیال ہے کہ فوج اور حکومت دونوں میں دہشت گردوں کے خلاف ایکشن لینے کے سلسلے میں جو دوریاں پائی جاتی تھیں وہ رفتہ رفتہ ختم ہوتی نظر آ رہی ہیں۔ حکومت ہاتھ کنگن کی آرسی دیکھ رہی ہے۔ اسے نظر آ رہا ہے کہ فوج کا موقف، ڈائیلاگ کے موضوع پر، کتنا قابل ِ اعتبار ہے اس لئے اب اس کے سوا چارہ نہیں رہ گیا کہ وہی کچھ کیا جائے جو امریکہ ہمیں ایک عرصے سے کہتا چلا آ رہا ہے۔

9مئی2014ءکو روزنامہ ”ڈان“ میں ایک آرٹیکل شائع ہوا جس میں بتایا گیا کہ امریکہ کے نائب وزیر خارجہ ولیم برنز (William Burns ) نے پاکستان کے امورِ خارجہ کے مشیر جناب سرتاج عزیز سے ملاقات کی ہے۔ انہوں نے آرمی چیف جنرل راحیل شریف اور وزیراعظم کے سپیشل اسسٹنٹ ، مسٹر طارق فاطمی سے بھی ملاقاتیں کی ہیں اور ایک بار پھر اس امریکی مطالبے کو دہرایا ہے کہ شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو ٹھکانے لگایا جائے اور یہ بھی کہا کہ یہ کام جس قدر جلد ہو گا، پاکستان کے لئے اتنا ہی بہتر ہو گا۔ مسٹر برنز (Burns) نے ایک اور نئی بات بھی کی اور کہا کہ اگر یہ آپریشن نئے افغان صدر کی تقریب مسند نشینی سے پہلے کر لیا جائے تو بہتر ہو گا۔

اگر امریکی نائب وزیر خارجہ یہ آخری بات نہ کہتے تو شائد وزیرستان آپریشن میں ان کے اپنے مفادات کی قلعی نہ کھلتی۔ صدر کرزئی نے جس تواتر اور بہت سے امریکی دباﺅ قبول کر کے اس معاہدے پر دستخط کرنے سے انکار کیا کہ افغانستان میں امریکی فورسز کا قیام (بعد از دسمبر 2014ئ) ضرور ممکن بنایا جائے اور کسی نہ کسی صورت میں امریکیوں کو کسی نہ کسی تعداد میں افغانستان میں قیام کرنے کی اجازت دی جائے، وہ امریکی انتظامیہ کے لئے ایک بڑا Set Back تھا۔ صدر کرزئی کا اصرار رہا کہ یہ فیصلہ افغاانستان کے نئے منتخب ہونے والے صدر پر چھوڑ دیا جائے۔

لیکن اگر پاکستان آرمی، شمالی وزیرستان میں افغانستان کے نئے صدر کی آمد سے پہلے آپریشن کرتی ہے تو یہ گویا نئے صدر کی حمایت ہو گی اور امریکہ کی بھی حمایت ہو گی کہ نیا صدر اس پوزیشن میں ہو گا کہ امریکی فورسز کی موجودگی یا امریکی اثرو رسوخ کو افغانستان میں تسلسل دینے کے معاہدے پر دستخط کر دے گا۔

افغانستان کا نیا صدر کون ہو گا، اس سلسلے میں اگرچہ فضا ہنوز مکدر ہے لیکن شمالی وزیرستان میں طالبان کے خلاف آپریشن سے مطلع صاف ہو سکتا ہے اور ”شمالی اتحاد“ کے حامیوں کی پوزیشن مضبوط اور نتیجتاً پاکستان کی پوزیشن کمزور ہو سکتی ہے۔

شمالی وزیرستان میں اس مجوزہ آپریشن کے ڈانڈے بھارتی الیکشن سے بھی ملے نظر آتے ہیں۔ آج (12مئی) بھارت میں انتخابات کا آخری دن ہے اور تین دن بعد معلوم ہو جائے گا کہ وہاں کون سی پارٹی حکومت بناتی ہے اور اس پارٹی کا موقف دسمبر 2014ءمیں امریکہ کے افغانستان سے چلے جانے کے بعد کیا ہوتا ہے۔ اگر افغانستان میں عبداللہ عبداللہ صاحب صدر بن جاتے ہیں، تو افغان نیشنل آرمی (ANA) اور افغان نیشنل پولیس (ANP) کہ جس کو امریکہ کی حمایت اور مالی امداد حاصل ہے کی حیثیت اور پوزیشن مضبوط ہو جائے گی۔ بھارت کو ان دونوں افغان سیکیورٹی فورسز (فوج اور پولیس) کی ٹریننگ کا فریضہ سونپا جائے گا جو ان عناصر کے خلاف ہو گا کہ جو پاکستان سے ملحق سرحدی علاقوں میں رہتے ہیں (ویسے بھارت ایک عرصے سے ان افغان فورسز کو ٹریننگ دے رہا ہے) زیادہ تر پشتو زبان بولتے ہیں اور جن کے عزیز و اقارب فاٹا میں بھی رہائش پذیر ہیں۔ ان پشتون قبائل کو کمزور کرنا گویا پاکستان کی مغربی سرحد پر پاکستان کی مشکلات میں اضافہ کرنے کے مترادف ہو گا۔

وزیرستان کی صورت حال فی الحال سیال (Fluid) ہے۔ وہاں اَن گنت دہشت گرد دھڑے ہیں۔ اس قسم کی صورت حال کہ جیسی فاٹا میں آج ہے، اس میں ایسے ”دھڑوں“ کا پیدا ہو جانا ایک فطری عمل ہے۔ اصلی اور نقلی دھڑوں میں فرق کرنا مشکل ہو رہا ہے۔ مولوی فضل اللہ، ٹی ٹی پی چیف نے ایک دھڑے کے چیف کو Sackکر دیا ہے۔ پہلے بھی یہ خبریں آتی رہی ہیں کہ وہاں مختلف گروپوں کی آپس میں آویزش کے نتیجے میں کئی ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔ 8مئی کو حالیہ حادثے کے بعد وزیرستان کی پولیٹیکل انتظامیہ نے کرفیو نافذ کر دیا اور تلاشی وغیرہ لینی شروع کر دی جس میں60 کے قریب مشتبہ دہشت گردوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ لیکن یہ ساری کارروائیاں اب ایک روٹین بن چکی ہیں۔.... سیکیورٹی فورسز پر حملہ اور ان کی شہادتیں.... کرفیو کا نفاذ،.... تلاشیاں.... گرفتاریاں اور پھر رہائی.... اور پھر سیکیورٹی فورسز پر حملے.... یہ ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہے۔

ولیم برنز اور اس کی حکومت کو معلوم ہے کہ آئندہ چند ماہ میں افغانستان میں کیا ہونے والا ہے۔ عین ممکن ہے پاکستانی سیکیورٹی فورسز پر یہ حملہ ایسے عناصر کی شہ (اور امداد) پر کیا گیا ہو جو تقاضا کر رہے ہیں کہ شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو جلد از جلد برباد کر دیا جائے۔ پاکستان نے دیکھنا یہ ہے کہ اگر آپریشن ہوا تو اس کا ”لانگ ٹرم“ فائدہ کس کو ہو گا، پاکستان کو یا پاکستان کے دشمنوں کو؟

شائد یہی وجہ ہو کہ پاکستان آرمی اور پاک فضائیہ ابھی تک ایکشن لینے میں تامل کر رہی ہیں۔ لیکن ایک بات طے ہے کہ جب آرمی چیف نے یہ واشگاف اعلان کر دیا ہے کہ پاکستان کے آئین اور اس کی Writکو نہ ماننے والوں کو قرار واقعی سزا دی جائے گی تو ایسے اونچے پلیٹ فارم سے کہی ہوئی بات کو محض دھمکی سمجھنا پرلے درجے کی بے وقوفی ہو گی۔ چنانچہ میرا قیاس یہی ہے کہ یا تو آئندہ ایک دو روز میں بھرپور فضائی کارروائی ہو گی یا ان مجرموں کو بے نقاب کیا جائے گا کہ جنہوں نے ایف سی کی کانوائے پر یہ حملہ کیا ہے۔

آخر میں چند ایسے پہلوﺅں کا ذکر بے جا نہ ہو گا جو بادی النظر میں ہنوز شکوک کی منزل میں ہیں، لیکن ان کے ثبوت لانے کے لئے کسی ثبوت کی ضرورت نہیں.... مثلاً ایک طرف تو ان علاقوں کے باسیوں کی طرزِ بود و باش دیکھیں۔.... کچے گھروندے، بجلی کا نام و نشان ناپید، پینے کا صاف پانی میسر نہیں، گلیاں اور بازار سولہویں صدی عیسوی کی یاد دہانیاں، جدید تعلیم و تعلم سے بیگانگی اور سماجی سادگی کا یہ عالم کہ جگہ جگہ ایسے نو عمر لڑکوں، جوانوں کی ارزانی کہ جو چند لاکھ روپوں کے عوض اپنی جان دینے کو تیار۔

اور دوسری طرف بارودی سرنگیں بچھانے اور لگانے کی ٹریننگ میں یدِ طولیٰ، جدید الیکٹرانک آلات سے کما حقہ واقفیت، دشوار گزار اور پہاڑی علاقوں میں لا سلکی مواصلات کا قیام اور استعمال، میڈیا سے ربط وار تباط کا وہ سکیل کہ غیر ملکی اور پاکستانی میڈیا ہاﺅسوں سے مسلسل رابطے، پاکستان کے انگریزی اخباروں (ڈان، نیوز وغیرہ) میں بالکل درست رپورٹنگ، انگریزی زبان پر قدرت رکھنے والے صحافیوں سے میل جول اور کوئی واقعہ/ سانحہ / حادثہ ہوتے ہی فی الفور اس کی اشاعت اور پبلسٹی کا الزام وغیرہ وغیرہ۔

ایسے معلوم ہوتا ہے کہ اس ”کھیل“ میں پاکستان کے دشمنوں کے علاوہ ایسے دوست بھی شامل ہیں، جن کے چہرے زیرِ نقاب ہیں۔ پاک افغان سرحد کے قریب بھارت کے قونصل خانے اس ”کارِ خیر“ میں کیا کردار کرتے رہے ہیں اور کر رہے ہیں اور ٹی ٹی پی کے روابط ان قونصل خانوں سے کیا ہیں یا قونصل خانوں کے آفیسرز ”را“ کے تربیت یافتہ ہیں کہ نہیں، یہ سب باتیں ڈھکی چھپی نہیں۔ البتہ جو ”دوست“ اور پاکستانی بہی خواہ ان علاقوں میں بیٹھے اپنا ایک کردار ادا کر رہے ہیں۔ ان کے چہروں سے نقاب الٹانا ضروری ہے .... انٹیلی جنس اور کاﺅنٹر انٹیلی جنس ایک سنگدل بزنس ہے لیکن اس کو برتنے اور استعمال کرنے کے سوا اور چارہ بھی نہیں.... اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ فاٹا کی ”خندق“ کے حصار کے عقب میں بنو قریظہ کو تلاش کر کے ان کو بھی وہی سزا دی جائے جو آنحضورﷺ نے خود اپنے ہاتھ سے 5ہجری میں اس قبیلے کو دی تھی!  ٭

مزید : کالم